میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارتی حکومت نے پاکستان میں مقیم 23 افراد کو دہشت گرد قرار قرار دے دیا

بھارتی حکومت نے پاکستان میں مقیم 23 افراد کو دہشت گرد قرار قرار دے دیا

جرات ڈیسک
اتوار, ۵ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

مسعود الیاس کشمیری، محمد مصدق ، مفتی محمد اصغر ، حافظ عبدالشکور ، عبداللہ جہادی نامزد

غلام فرید، مولانا امداد اللہ مکی شامل، ان افراد کا تعلق مختلف تنظیموں سے ہے، نوٹیفکیشن

بھارتی حکومت نے پاکستان میں مقیم 23 افراد کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت باضابطہ طور پر دہشت گرد نامزد کر دیا ہے۔

بھارت کی مرکزی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کے حکم نامے کے مطابق ان افراد کا تعلق مختلف تنظیموں سے ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق نامزد کیے گئے افراد جموں و کشمیر میں سکیورٹی فورسز پر حملوں، سرحد پار سے دراندازی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

ان 23 نئے ناموں کے اضافے کے بعد یو اے پی اے کے تحت انفرادی طور پر نامزد دہشت گردوں کی مجموعی تعداد اب 80 ہو گئی ہے۔

بھارتی نوٹیفکیشن کے مطابق ان افراد میں مسعود الیاس کشمیری، محمد مصدق عرف ڈاکٹر، مفتی محمد اصغر خان عرف ابو سعد، حافظ عبدالشکور عرف قاری

زرار، عبداللہ جہادی، غلام فرید، مولانا امداد اللہ مکی اور وسیم نور جٹ۔ فردوس احمد بٹ، ہارون رشید گنائی، بلال احمد میر، عابد قیوم لون، نذیر احمد گجر،

عبدالروف عرف حافظ عبدالروف، اشفاق احمد، حافظ خالد ولید، مولانا سیف اللہ خالد، محمد یعقوب، مولانا یوسف طیبی، اویس فاروق، قاری یعقوب شیخ، رانا

افتخار، اور محمد شہید فیصل شامل ہیں یو اے پی اے 1967 کے تحت بھارتی حکومت کسی فرد کے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا یقین ہو تو وہ

اسے اس فہرست میں شامل کر سکتی ہے۔واضح رہے کہ سال 2019 میں اس انسدادِ دہشت گردی قانون میں ایک اہم ترمیم کی گئی تھی، جس سے قبل حکومت

صرف تنظیموں کو کالعدم قرار دے سکتی تھی، تاہم اس ترمیم کے بعد حکومت کو افراد کو انفرادی طور پر دہشت گرد نامزد کرنے کا اختیار ملا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں