لطیف آباد نمبر 7میں غیر قانونی تعمیرات ، بلڈر مافیا کی سرپرستی
شیئر کریں
پانچ منزلہ پلازہ کے ساتھ ایک اور کمرشل عمارت تعمیر، بلڈنگ قواعد نظرا نداز ، عوام بے چین
ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگ زیب رضی کی سرپرستی میں غیر قانونی تعمیرات کا جال بے نقاب
لطیف آباد نمبر 7میں غیر قانونی تعمیرات نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے ) اور حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایچ ڈی اے ) کی کارکردگی اور قانونی حیثیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق علاقے میں پہلے سے موجود پانچ منزلہ پلازہ کے ساتھ ایک اور کمرشل عمارت مبینہ طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگ زیب رضی کی سرپرستی اور بھاری رشوت کے عوض غیر قانونی طور پر تعمیر کی جا رہی ہے ۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دونوں عمارتوں کی فائلیں لاکھوں روپے کے عوض کلیئر کی گئیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ یہ تعمیرات سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979کی شق 7اور 9کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ بغیر منظوری تعمیرات نہ صرف قانون شکنی ہیں بلکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق پلازوں کے سامنے سرکاری اراضی پر غیر قانونی دکانیں قائم کر کے قبضہ مافیا کو فائدہ پہنچایا گیا ہے ، جس کے باعث ٹریفک مسائل میں اضافہ اور حادثات کے خدشات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات کے باوجود متعلقہ اداروں نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔قانونی ماہرین کے مطابق شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی صورت میں ذمہ دار افسران اور بلڈرز کے خلاف جعلسازی، فراڈ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے ذریعے بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے ۔عوامی و سماجی حلقوں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ حیدرآباد میں غیر قانونی تعمیرات اور کرپٹ عناصر کے خلاف فوری اور سخت ایکشن لے کر شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔


