پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی ملک گیر ہڑتال، کراچی سمیت سندھ میں کاروباری مراکز بند
شیئر کریں
کراچی میں مختلف علاقوں میں جلاؤ گھیراؤ، ٹائر اور موٹر سائیکلیں نذرِ آتش، ہوائی فائرنگ کی اطلاعات، شرجیل میمن کی مذمت
پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی کال پر ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بیشتر کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور دکانیں بند رہیں، جبکہ بعض علاقوں میں جلاؤ گھیراؤ، ٹائر اور موٹر سائیکلیں نذرِ آتش کیے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ کراچی میں مختلف تاجر تنظیموں نے جماعت اسلامی کی ہڑتال کی حمایت کی، جس کے باعث کلفٹن سے صدر تک متعدد مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔ بولٹن مارکیٹ اور اطراف کے بازاروں میں بھی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔
صدر کراچی تاجر اتحاد عتیق میر، الیکٹرانکس ڈیلرز کے صدر رضوان عرفان اور کمیڈا کے صدر منہاج گلفام سمیت مختلف تاجر رہنماؤں نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا۔آل سٹی تاجر اتحاد، آل آئرن اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن اور سندھ تاجر اتحاد کی جانب سے بھی ہڑتال کی حمایت کی گئی، تاہم کراچی کی میڈیسن مارکیٹ اور ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
بعض تاجر تنظیموں کی جانب سے مارکیٹیں دوپہر 3 بجے تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ہڑتال کے باعث شہر میں کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ بعض علاقوں میں صبح سویرے کھلنے والے پٹرول پمپس اور دکانیں بھی بند کروا دی گئیں، جبکہ عزیز آباد کے حسین آباد میں بعض دکانیں زبردستی بند کرائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
کورنگی کراسنگ کے قریب نامعلوم افراد کی جانب سے سڑک پر ٹائر نذر آتش کیے گئے جبکہ 2 موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگانے کی اطلاعات ہیں۔ صفورہ چورنگی اور اطراف میں ہوائی فائرنگ کی اطلاعات کے بعد پولیس کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعینات کردی گئی۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے شہر میں بدامنی پھیلانا انتہائی افسوسناک ہے۔ جماعت اسلامی کو احتجاج کا حق حاصل ہے تاہم کسی کو شہر کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا احتجاج نہیں بلکہ قانون کو چیلنج کرنا ہے، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ آگ لگانے، سڑکیں بند کرنے اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے کارکنان نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں ہڑتال کی نگرانی کی۔ کشمور میں جماعت اسلامی کے رہنما غلام مصطفیٰ میرانی اور عبیداللہ گولو کی قیادت میں کارکنان نے شہر میں گشت کیا اور تاجروں سے ہڑتال میں تعاون کی اپیل کی۔ شاہی بازار، موبائل مارکیٹ، گھنٹہ گھر اور کشمور روڈ سمیت مختلف علاقوں میں دکانیں بند رہیں۔
میرپورخاص میں بھی جماعت اسلامی کی کال پر کھسک پورہ، اسٹیشن روڈ، شاہی بازار سمیت چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند رہے۔ جماعت اسلامی کے کارکنان نے موٹر سائیکل ریلی نکالی اور تاجروں سے پرامن اور رضاکارانہ ہڑتال میں تعاون کی اپیل کی۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ حالات میں پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی عوام پر اضافی مالی بوجھ ہے، جسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ عوام کو بھاری لیوی وصول کرنے کے باوجود مناسب ریلیف فراہم نہیں کیا جارہا۔جماعت اسلامی نے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔


