کسٹم ہاؤس کراچی کے اسٹور سے 20 نئے کمپیوٹرز غائب، تحقیقات شروع
شیئر کریں
اسٹور روم میں کمپیوٹرز کے خالی کارٹن اور پیکنگ موجود، سی سی ٹی وی فوٹیج میں دو موٹر سائیکل سوار یونٹس لے جاتے دکھائی دیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسٹم ہاؤس کراچی کے اسٹور روم سے محکمہ کسٹمز کے 20 نئے کمپیوٹر سیٹس غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ اسٹور روم میں کمپیوٹرز کے خالی کارٹن اور پیکنگ موجود پائی گئی، تاہم کمپیوٹر سیٹس کا سراغ نہیں مل سکا۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر ہیڈکوارٹر کی جانب سے 20 نئے کمپیوٹر سیٹس کسٹم اپریزمنٹ ایسٹ کلکٹریٹ کو فراہم کیے گئے تھے، جو کسٹم ہاؤس کراچی کے اسٹور روم میں رکھے گئے تھے۔
5 اگست 2026 کو اسٹور روم کھول کر معائنہ کیا گیا تو 20 کمپیوٹر سیٹس وہاں موجود نہیں تھے۔ اسٹور روم کی مکمل تلاشی کے باوجود کمپیوٹرز برآمد نہ ہوسکے، جس پر معاملہ اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ذرائع کے مطابق اپریزمنٹ ایسٹ کلکٹریٹ کی ڈپٹی کلکٹر ہیڈکوارٹرز نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کسٹم انفورسمنٹ کو مراسلہ ارسال کیا، جس میں کمپیوٹرز کے غائب ہونے کے معاملے میں کسٹمز کے بعض اہلکاروں کی ممکنہ غفلت اور کردار کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے دوران کسٹم ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق فوٹیج میں 13 اگست 2026 کو رات تقریباً 10 بج کر 33 منٹ پر دو افراد الگ الگ موٹر سائیکلوں پر کسٹمز ہاؤس کے مرکزی گیٹ سے باہر جاتے دکھائی دیے۔ ذرائع نے کہا کہ دونوں افراد کے پاس کمپیوٹر یونٹس موجود تھے۔سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق اس دوران فشریز میں تعینات کسٹمز اہلکار عارف شاہ مرکزی گیٹ پر موجود تھے اور کمپیوٹر یونٹس لے جانے والے افراد سے بظاہر گفتگو کرتے دکھائی دیے۔
رپورٹ میں عارف شاہ کی اس موقع پر مرکزی گیٹ پر موجودگی اور مذکورہ افراد سے مبینہ رابطے کو بھی قابلِ غور قرار دیا گیا ہے۔کسٹمز کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ رات کی شفٹ کے دوران سپاہی لئیق احمد، سپاہی عمران اور سپاہی سید جنید علی شاہ کو مرکزی گیٹ پر گارڈ ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا تھا، تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج میں تینوں اہلکار اپنی مقررہ پوزیشن پر موجود رہنے کے بجائے گارڈ روم میں بیٹھے نظر آئے، جبکہ مرکزی گیٹ کا ایک حصہ کھلا ہوا تھا۔رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ جس وقت کمپیوٹر یونٹس مرکزی دروازے سے باہر لے جائے جا رہے تھے، اس وقت سیکیورٹی اہلکاروں کا اپنی ڈیوٹی کی جگہ پر موجود نہ ہونا سنگین غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔
رپورٹ میں واقعے کی باقاعدہ انکوائری کرکے ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق کسٹم اہلکار عارف شاہ کی فشریز میں تعیناتی کے باوجود اکثر کسٹمز ہاؤس میں موجودگی بھی تحقیقات کا حصہ بنائی گئی ہے۔ معاملے کی مزید چھان بین اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات کسٹمز انفورسمنٹ کلیکٹریٹ کے حوالے کردی گئی ہیں۔


