گل پلازہ سانحہ: 8 ماہ بعد بھی ملبہ نہ اٹھ سکا، متاثرہ بیوہ کی ہاتھ جوڑ کر حکومت سے اپیل
شیئر کریں
متاثرین معاوضے سے محروم، تعمیرِ نو کا وعدہ بھی پورا نہ ہوسکا
حکومت نے ساڑھے 8 ارب روپے مختص کیے لیکن گل پلازہ کے متاثرہ مالکان کو کچھ نہیں ملا، متاثرین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گل پلازہ سانحے کو 8 ماہ گزرنے کے باوجود متاثرین کے مسائل حل نہ ہوسکے، نہ مارکیٹ کا ملبہ مکمل طور پر اٹھایا گیا، نہ تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوسکا اور نہ ہی متاثرہ دکانداروں اور مالکان کو معاوضہ مل سکا۔ متاثرہ دکان کی ایک بیوہ مالک نے حکومت سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کو جلد از جلد تعمیر کیا جائے تاکہ متاثرین دوبارہ اپنے کاروبار شروع کرکے زندگی کا پہیہ رواں کرسکیں۔
ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ وہ شوگر اور جگر کے مرض میں مبتلا ہیں، ان کی اپیل ہے کہ کم از کم مارکیٹ کا ملبہ ہی اٹھا لیا جائے۔ ایک اور متاثرہ خاتون نے شکوہ کیا کہ حکومت کی جانب سے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ متاثرین کے مطابق کراچی چیمبر کی جانب سے فارم پْر کروایا گیا تھا جبکہ مئی میں آن لائن فارم بھی جمع کرایا گیا، تاہم تاحال اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹیوں سے ملنے والی رقم سے کسی حد تک گزر بسر ہورہی ہے، جبکہ روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ادھر ادھر سے قرض لینا پڑ رہا ہے۔
متاثرین نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے گل پلازہ کی فوری تعمیرِ نو کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم 8 ماہ گزرنے کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے اور تباہ شدہ عمارت کا ملبہ تاحال موجود ہے۔گل پلازہ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل عارف قادری نے کہا کہ وہ آج بھی گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو تخریب کاری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحے کی جوڈیشل انکوائری کے تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہوسکے۔
متاثرین نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سانحے کے متاثرین کے لیے ساڑھے 8 ارب روپے فراہم کیے جانے کا بتایا گیا ہے، تاہم گل پلازہ کے متاثرہ مالکان تاحال اس امداد سے محروم ہیں۔ایسوسی ایشن نے کراچی چیمبر کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ گل پلازہ سے متعلق تمام معاملات اب وہ خود دیکھیں گے اور متاثرین کے حقوق کے حصول کے لیے ہر متعلقہ فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔


