میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
طالبان کی عوام کو اسلحہ اور سرکاری املاک فوری جمع کروانے کی ہدایت

طالبان کی عوام کو اسلحہ اور سرکاری املاک فوری جمع کروانے کی ہدایت

ویب ڈیسک
اتوار, ۲۹ اگست ۲۰۲۱

شیئر کریں

افغان طالبان نے شہریوں کو سرکاری املاک، گاڑیاں اور اسلحہ متعلقہ اداروں کو جمع کروانے کی ہدایت کر دی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ شہری سرکاری املاک، گاڑیاں اور اسلحہ ایک ہفتے میں جمع کروا دیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ شہری سرکاری اشیا ایک ہفتے کے اندر اندر متعلقہ محکموں میں جمع کروا دیں تاکہ وہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی سے بچ سکیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل بھی طالبان نے دارالحکومت کابل میں شہریوں کو اسلحہ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے شہریوں نے اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ رکھا ہوا تھا لیکن اب انہیں حفاظت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم ان کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔ادھر18افغان اراکین پارلیمنٹ اور 7صوبوں کے گورنرز نے طالبان کی حمایت کا اعلان کردیا۔ طالبان رہنما کے مطابق حمایت کرنے والوں میں سابق صدر اشرف غنی کے بھائی حشمت غنی بھی شامل ہیں۔پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر عمر ذاخیلوال نے بھی طالبان کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ افغان رہنما حامد گیلانی، اسحاق گیلانی، گل آغا شیرزئی، شیر محمد اخونزادہ اور حاجی دین محمد بھی طالبان کی حمایت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ احمدزئی قبائل کی قومی شوری بھی طالبان کی حمایت کرنے والوں میں شامل ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار سے تعلق رکھنے والے وارلارڈ، قندھار اور ننگرہار صوبوں کے سابق گورنر گل آغا شیرزئی نے کابل میں طالبان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔طالبان کے مطابق افغانستان کا بلڈوزر کہلانے والے گل آغا شیرزئی اب اسلامی امارت کے ساتھی ہیں۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں