میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
غلط فیصلوں کے مُضر اثرات

غلط فیصلوں کے مُضر اثرات

جرات ڈیسک
اتوار, ۲ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا ،بلکہ سچ تو یہ ہے کہ افسوسناک حدتک کمی آئی ہے۔ اِس کی
ایک تو وجہ یہ ہے کہ ملک روئی کی پیداوار میں خود کفیل نہیں رہا اور درآمدکرنے پر مجبورہوناہے جبکہ مہنگی توانائی ایسامسئلہ ہے جس نے کپڑے کی صنعت کوبندہونے کے مقام پر لاکھڑاکیا ہے ۔حالانکہ ماضی میں یہ شعبہ زرِ مبادلہ حاصل کرنے کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان خوراک میں بھی خود کفیل نہیں رہا ۔اِس کی وجوہات بھی مہنگی بجلی سے منسلک ہیں، جب فصلوں پراِس حدتک بھاری اخراجات آئیں گے کہ کسانوں کوپوری لاگت بھی واپس نہیں ملے گی تو کاشتکاری سے گریز ہی ہوگا اورانجام کارملک کو درآمدپرانحصارکرناپڑتاہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم،خوردنی تیل ،فروٹ سمیت روزمرہ کی اشیا درآمد کی جارہی ہیں۔ اِس حوالے سے حکومت کو فوری طورپر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ درآمدی اخراجات میں کمی آئے۔

پاکستان اِس وقت ایسے دوراہے پر ہے جہاں زرعی ملک کی شناخت کامنصب تو چِھن چکامگر صنعتی بھی نہیں بن سکا۔اِس وقت اگر ملک میں کوئی نفع بخش کاروبار ہے تو وہ رہائشی منصوبے ہیں۔ کاشتکار بھی اراضی بیچ کر یا تو خاندان کے افرادکو بیرونِ ملک بھیجنے کی تگ ودو میں ہیں یا پھرحاصل ہونے والی رقوم دیگر کاروباروں میں لگا رہے ہیں۔ اِس رجحان سے ملک کا زرعی رقبہ خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے۔ مزیدیہ کہ ملک آبی قلت کابھی شکارہے ۔موسمیاتی تغیرالگ بڑامسئلہ ہے ۔زرعی رقبے کامسلسل کم ہونا تشویشناک ہے ۔حکومت کو چاہیے کہ زرعی اراضی پر رہائشی منصوبوں کی حوصلہ شکنی کرے اورصرف بے آبادزمینوں پررہائشی منصوبے بنانے کی اجازت دے کسانوں کو معیاری بیج ، کھاداور سستی بجلی دے تاکہ فصلوں کی لاگت پوری ہواور کاشتکاری منافع بخش ہو۔ اگر زرعی رقبہ موجودہ رفتار سے کم ہوتا رہا تو رہاتوزراعت کے لیے رقبہ خطرناک حدتک کم ہو سکتا ہے جس سے بڑی آبادی کے لیے ملک خوراک کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت ہمیشہ کے لیے کھودے گا ۔علاوہ ازیں ایسی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے جوکم پانی سے پرورش پائیں بلکہ موسمی تغیرکاسامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ اب اِس میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر آبی جارحیت شروع کررکھی ہے۔ وہ ایک طرف تو برسات میں سیلاب کے پانی سے نقصان پہنچاتا ہے تو بقیہ عرصے میں پانی روک کر قحط جیسی صورتحال کوجنم دینے کی کوشش میں ہے۔ اگر حکومت دیگر مصروفیات کم کرکے زرعی منصوبہ بندی پر دھیان دے تو صورتحال کسی حدتک بہتر ہو سکتی ہے۔

درآمدات بڑھنے اور برآمدات کم ہونے سے زرِ مبادلہ کے ذخائرشدید دباؤ میں ہیں ۔اگر سعودی عرب مددنہ کرے تو معاشی صورتحال مزید عدم توازن کا شکار ہو سکتی ہے۔ پاکستان نے پچیس ارب ڈالر کے مہنگے چینی قرضوں کی ادائیگیاں کرنی ہیں، جبکہ ہمارے ملک کے پاس صرف سترہ ارب تین کروڑڈالرہیں۔اِن حالات میں بیک وقت اتنی بڑی ادائیگی کی ملک میں صلاحیت نہیں، لہٰذا سعودی عرب کی طرح چین سے بھی قرضوں کی مدت بڑھانے کی درخواست کرنے کے سواکوئی چارہ نہیں ۔ایسی اطلاعات بھی منصہ شہود پر آچکی ہیں کہ پاکستان نے امریکہ سے دس ارب ڈالر کے جس تعاون کا مطالبہ کیا تھا، اُس کا جواب حوصلہ افزا نہیں ملا۔ اِ ن حالات کاتقاضا ہے کہ پاکستان برآمدات بڑھائے کم ازکم خوراک میں خود کفالت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے تاکہ درآمدی اخراجات کم ہوں اورمزید قرضے حاصل کرنے کی ضرورت نہ رہے۔

ملک کی نازک معاشی حالت کے باوجود حکومتی شاہ خرچیوں میں کوئی کمی نہیں آئی جو اِس بناپر بھی بلاجوازہیں کہ بجٹ کابڑا حصہ آٹھ ہزار ارب روپے قرضوں کے سود کی صورت میں ادا کرنا ہے، ضرورت اِس امر کی ہے کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرے اور سادگی کاعوام سے مطالبہ کرنے کے ساتھ خود بھی ایسا کرے ،مگرصورتحال یہ ہے کہ غیر ضروری وزیروں کی فوج کے ساتھ وزیرِ مملکت ،مشیر اور معاونِ خصوصی کی بڑی تعداد وسائل پر بوجھ ہے جن کا ملک کو کوئی خاص فائدہ بھی نہیں اٹھارویں ترمیم کے بعد جب بہت کچھ صوبوں کے حوالے کردیا گیا ہے تو صوبوں کے حوالے کیے گئے ۔شعبوں کے وزیر،مشیراور معاونِ خصوصی بنانے کی ضرورت نہیں رہی جنھیں ختم کرنے سے بھاری اخراجات کی بچت ممکن ہے مگر ایسا تبھی ہو سکتا ہے جب حکومت اِس حوالے سے اقرباپروری کی سوچ ترک کرے اور ریاستی مفادات کو ترجیح دے۔

ملک میں توانائی کاشعبہ ایک ایسے پچیدہ بحران میں ڈھل چکا ہے جس نے نہ صرف صنعتی اورزرعی ترقی کوروک رکھا ہے بلکہ ملک میں مہنگائی کی بدترین لہرکاموجب ہے نجی بجلی گھروں کو استعدادی صلاحیت کے مطابق ادائیگی کرنے کے عمل نے معیشت کو لاغر کردیاہے ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق 2022سے لیکر 2026تک بجلی کی پیداواری کمپنیوں کوتیرہ ہزار تین سو ستانوے ارب روپے کی ادائیگی کی گئی جس میں سے صرف 6121ارب روپے بجلی کی لاگت تھی جبکہ 7275ارب بجلی کی ایک یونٹ لیے بغیر ہی تھما دیے گئے ۔ایک ایسا ملک جسے قرضوں کی ادائیگیوں میں مشکلات کاسامنا ہے اتنی بڑی رقم ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ چاہے جس جماعت کی بھی حکومت ہو ایسی ادائیگیاں مسلسل جاری ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ نجی بجلی گھروں کے مالکان کا تعلق بااثر خاندانوں سے ہے اسی لیے عوامی اور ریاستی مفادقربان کیاجارہاہے اور اُن کے مفاد کے منافی فیصلہ کرنے سے حکومت گریزاں ہے۔ اگر حکومت استعدادی صلاحیت کے مطابق ادائیگی کرنے جیسے عوام اور ریاست مخالف معاہدوں پر نظرثانی کرے تو اتنی رقم کی بچت ہو سکتی ہے جس سے ملک عالمی مالیاتی اِداروں کے چُنگل سے نکل سکتاہے۔

غلط فیصلوں کے مُضر اثرات نے ملک کی معاشی حالت پتلی کردی ہے لیکن حکومتی شاہ خرچیاں دیکھ کر نہیں لگتا کہ حکمرانوں کوملک کی پتلی معاشی حالت کا کچھ احساس ہے قرضے لیکر ملک چلانا اور آئے روز تیل کی قیمتیں بڑھاناکوئی دانشمندی نہیں اگر حکومت عوامی ہونے کی دعویدار ہے تو اُسے اپنے فیصلوں سے ثابت بھی کرنا چاہیے کہ وہ عوام دوست ہے دنیا بھر میں کسی ملک میں ایساطریقہ کار نہیں کہ روزانہ کی بنیادپر تیل کی قیمتوں کا تعین کیا جائے بجلی خریدے بغیر اربوں روپیہ ادا کر نے کاظالمانہ طریقہ کاربھی پاکستان میں ہی ہے ۔حالانکہ قرضوں کی دلدل میں دھنسے ملک کوتو بچت کی سخت ضرورت ہے لیکن قرضوں پربڑھتا انحصار ، زرعی شناخت سے محرومی اور صنعتوں کے بند ہونے کامطلب ہے کہ غلط فیصلوں کے مُضر اثرات معیشت کوتباہ کررہے ہیں ایسے حالات میں سوال یہ ہے کہ حکومتی کارکردگی کیا ہے ؟


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں