میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
انسان صرف خوراک سے زندہ نہیں رہتا !

انسان صرف خوراک سے زندہ نہیں رہتا !

جرات ڈیسک
اتوار, ۲ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

ادب کی تاریخ میں کچھ ناول ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک کہانی نہیں سناتے بلکہ انسان کی پوری تہذیبی، نفسیاتی اور اخلاقی تاریخ کو اپنے اندر سمو لیتے ہیں۔ Jacob the Liar، جسے جرمن ادیبJurek Becker نے تخلیق کیا، انہی نادر شاہکاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ بظاہر ایک یہودی بستی کے ایک عام

آدمی کی کہانی ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانی شعور، امید، خوف، جھوٹ، سچ، اخلاق، محبت اور بقا کے درمیان جاری اس ازلی کشمکش کا فلسفیانہ بیان ہے جو صدیوں سے انسانی تاریخ کا حصہ رہی ہے۔یہ ناول دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے زیرِ تسلط ایک یہودی گھیٹو میں وقوع پذیر ہوتا ہے، جہاں ہر صبح یہ معلوم نہیں ہوتا کہ شام تک کون زندہ رہے گا۔ موت ہر گلی میں کھڑی ہے، بھوک ہر دروازے پر دستک دیتی ہے، خوف ہر چہرے پر سایہ کیے ہوئے ہے، اور انسان اپنے وجود کو بچانے کی آخری کوشش کر رہا ہے۔ ایسے تاریک ماحول میں Jacob نامی ایک عام شخص سے ایک ایسا جھوٹ منسوب ہو جاتا ہے کہ اس کے پاس ایک خفیہ ریڈیو ہے جس سے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اتحادی افواج قریب پہنچ رہی ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس کوئی ریڈیو نہیں، مگر وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس جھوٹ نے مرے ہوئے دلوں میں زندگی کی ایک ہلکی سی روشنی پیدا کر دی ہے۔یہیں سے ناول اپنے سب سے بڑے فلسفیانہ سوال کو جنم دیتا ہے: کیا ہر سچ اخلاقی ہوتا ہے، اور کیا ہر جھوٹ غیر اخلاقی ہوتا ہے؟
عام حالات میں جھوٹ یقینا اخلاقی برائی ہے، لیکن جب سچ صرف مایوسی، خودکشی، شکست اور موت پیدا کرے، جبکہ ایک جھوٹ انسان
کو زندہ رہنے کی ہمت دے، تو پھر اخلاق کا پیمانہ کیا ہوگا؟ یہی سوال اس ناول کو دنیا کے عظیم ترین اخلاقی مباحث میں شامل کر دیتا ہے۔ نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان صرف خوراک سے زندہ نہیں رہتا، بلکہ امید بھی اس کی بنیادی نفسیاتی ضرورت ہے۔Viktor Frankl نے نازی کیمپوں میں اپنے تجربات کی بنیاد پر لکھا تھا کہ جن لوگوں کے پاس مستقبل کی کوئی امید باقی رہی، ان کے زندہ بچنے کے امکانات زیادہ تھے۔ Jacob اسی نفسیاتی حقیقت کو مجسم کر دیتا ہے۔ وہ لوگوں کو روٹی نہیں دیتا، آزادی نہیں دیتا، ہتھیار نہیں دیتا، صرف امید دیتا ہے، اور بعض اوقات امید کسی بھی ہتھیار سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہے۔یہ ناول اس حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ آمریت سب سے پہلے انسان کے جسم پر نہیں بلکہ اس کی نفسیات پر قبضہ کرتی ہے۔ خوف ایک ایسی زنجیر ہے جو انسان کو چلتے پھرتے زندہ لاش میں بدل دیتی ہے۔ جب معاشرے میں ہر طرف نگرانی، سزا، خاموشی اور جبر ہو تو لوگ بولنا چھوڑ دیتے ہیں، سوچنا چھوڑ دیتے ہیں اور آخرکار امید رکھنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آمر سب سے پہلے امید کو قتل کرتا ہے، کیونکہ امید زندہ رہے تو مزاحمت بھی زندہ رہتی ہے۔

نٹشے نے لکھا تھا کہ "جس انسان کے پاس جینے کی کوئی وجہ ہو، وہ تقریباً ہر طرح کا دکھ برداشت کر لیتا ہے”۔ یہی وجہ اس ناول کا مرکزی پیغام بن جاتی ہے۔ انسان صرف جسم نہیں، ایک تصور بھی ہے، اور جب تصور مر جائے تو جسم کا زندہ رہنا بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔یہ ناول انسانی تاریخ کی کئی المناک داستانوں کی یاد دلاتا ہے۔ چاہے ہولوکاسٹ ہو، روانڈا کی نسل کشی، بوسنیا کا سانحہ یا دنیا کے کسی بھی خطے میں ظلم و جبر، ہر جگہ ایک چیز مشترک رہی ہے: ظالم انسان سے صرف آزادی نہیں چھینتا، امید بھی چھین لیتا ہے۔ اور جب کوئی امید بانٹتا ہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں رہتا، بلکہ پوری انسانیت کی نمائندگی کرنے لگتا ہے۔اس ناول کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انسان سچ سے زیادہ معنی کا محتاج ہوتا ہے۔ اگر حقیقت بالکل تاریک ہو اور اس میں کوئی معنویت باقی نہ رہے تو انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی لیے فلسفے، مذہب، ادب اور فن نے ہمیشہ انسان کو معنی دینے کی کوشش کی ہے۔ Jacob کا جھوٹ

بھی دراصل ایک معنی تخلیق کرتا ہے: "کل شاید آج سے بہتر ہوگا۔جارج آرویل نے دکھایا تھا کہ آمریت زبان اور سچ پر قبضہ کرتی ہے، جبکہJurek Becker دکھاتے ہیں کہ کبھی کبھی ایک عام انسان ظلم کے خلاف صرف امید کی زبان سے مزاحمت کرتا ہے۔ یہ مزاحمت خاموش ضرور ہے، مگر بے حد طاقتور ہے۔ اس میں چیخ و پکار کم ہے، خاموشی زیادہ ہے؛ جذباتیت کم ہے، انسانیت زیادہ ہے۔ یہی خاموشی قاری کے دل میں گونجتی رہتی ہے اور اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ خود سے سوال کرے: اگر میں Jacob کی جگہ ہوتا تو کیا کرتا؟آخرکارJacob the Liar صرف ہولوکاسٹ کا ناول نہیں، بلکہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جو اندھیرے میں کسی دوسرے کے لیے چراغ بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ بعض اوقات ایک لفظ، ایک امید، ایک حوصلہ اور ایک خواب کسی قوم، کسی خاندان یا کسی فرد کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے۔ یہی ادب کی اصل طاقت ہے کہ وہ ہمیں صرف ماضی نہیں سناتا بلکہ حال کو سمجھنے اور مستقبل کو بہتر بنانے کی بصیرت بھی عطا کرتا ہے۔شاید اسی لیے یہ ناول آج بھی زندہ ہے، کیونکہ ظلم کے زمانے بدل جاتے ہیں، مگر انسان کی امید، خوف، محبت اور بقا کی جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اگر اس ناول کو پاکستان کی تاریخ اور پاکستانی معاشرے کے تناظر میں پڑھا جائے تو یہ ایک ایسے آئینے کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس میں صرف ایک کردار نہیں، بلکہ کروڑوں انسانوں کی نفسیاتی کیفیت جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔پاکستان کی تاریخ آزادی کے خواب سے شروع ہوئی، مگر اس کے بعد مختلف ادوار میں جنگیں، سیاسی عدم استحکام، آئینی بحران، معاشی مشکلات، دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی تقسیم جیسے مسائل نے بار بار عوام کے احساسِ تحفظ اور مستقبل پر اعتماد کو متاثر کیا۔ ان تجربات نے صرف ریاستی اداروں کو ہی نہیں، بلکہ عام شہری کی نفسیات کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا۔نفسیات کی زبان میں جب ایک معاشرہ طویل عرصے تک غیر یقینی کیفیت میں زندگی گزارتا ہے تو اس کے اندر اجتماعی اضطراب اور بعض اوقات سیکھی ہوئی بے بسی جیسے رجحانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں لوگ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کی کوششوں سے نتائج نہیں بدلیں گے۔ یہی کیفیت انہیں مایوسی، خاموشی یا بے عملی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔یہاں Jacob کا کردار ایک نئی معنویت اختیار کرتا ہے۔ وہ ہتھیار نہیں اٹھاتا، وہ انقلاب کا دعویٰ بھی نہیں کرتا، مگر وہ لوگوں کے اندر امید کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ امید حقیقی خبر ہو یا ایک علامتی کہانی، اس کا نفسیاتی اثر یہ ہے کہ لوگ اگلے دن کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ انسان کی تاریخ بتاتی ہے کہ معاشرے صرف معاشی وسائل سے نہیں، بلکہ اجتماعی امید سے بھی قائم رہتے ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں بھی اکثر یہ سوال سننے کو ملتا ہے: "کیا ہماری کوشش سے واقعی کچھ بدلے گا؟” یہی سوال اس ناول کے بنیادی فلسفے
سے جڑ جاتا ہے۔ جب مستقبل دھندلا محسوس ہو تو امید کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک اور سبق بھی ضروری ہے:
پائیدار امید صرف افواہوں یا خواہشات سے نہیں، بلکہ انصاف، قانون کی بالادستی، شفاف اداروں، تعلیم، معاشی مواقع اور اجتماعی ذمہ
داری سے مضبوط ہوتی ہے۔فلسفیAlbert Camusکے نزدیک انسان کی عظمت اس میں ہے کہ وہ مشکل حالات کے باوجود ہار نہ
مانے۔ اسی طرحJurek Becker کا Jacob بھی یہ یاد دلاتا ہے کہ تاریکی میں بھی انسان ایک دوسرے کے لیے حوصلہ بن سکتا
ہے۔ پاکستانی معاشرے میں بھی ہر بحران کے دوران عام شہریوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، رضاکاروں، صحافیوں، ادیبوں اور سماجی کارکنوں
نے کئی مواقع پر یہ ثابت کیا ہے کہ معاشرے کی اصل طاقت صرف ریاستی ڈھانچوں میں نہیں، بلکہ لوگوں کی باہمی یکجہتی میں بھی ہوتی
ہے۔یہ ناول ایک اور اہم سوال بھی اٹھاتا ہے: اگر معاشرے میں اعتماد کمزور ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟ سماجی فلسفے کے مطابق اعتماد کسی بھی
ریاست اور معاشرے کا بنیادی سرمایہ ہے۔ جب لوگ اداروں، قوانین یا ایک دوسرے پر اعتماد محسوس کرتے ہیں تو تعاون، سرمایہ کاری،
تعلیم اور ترقی کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اور جب اعتماد کمزور ہوتا ہے تو غیر یقینی، افواہیں اور سماجی تقسیم آسانی سے جگہ بنا لیتی ہیں۔پاکستان
کے تناظر میںJacob the Liar ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ امید کی حفاظت ضروری ہے، لیکن امید کو حقیقت میں بدلنے کے لیے
انصاف، دیانت، شفافیت، مکالمہ، تعلیم اور اجتماعی ذمہ داری بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ اگر امید صرف خواب بن کر رہ جائے تو وہ دیرپا نہیں
ہوتی، مگر اگر وہ عملی اصلاحات، ذمہ دار قیادت اور فعال شہری کردار کے ساتھ جڑ جائے تو وہ قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں