میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
افغانستان میں سنگین انسانی بحران

افغانستان میں سنگین انسانی بحران

جرات ڈیسک
اتوار, ۲ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

افغانستان میں طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں نے افغان عوام کے مستقبل کو بھی تاریک بنا دیا۔ طالبان کے اقتدار کے پانچ سال بعد بھی افغانستان سنگین انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔طالبان رجیم نے افغان خواتین کی تعلیم، نقل و حرکت اور آزادی محدود کر دی ہے۔ افغان طالبان رجیم میں بھوک کا بحران لاکھوں افغانوں کو متاثر کر رہا ہے۔افغان عوام کو طبی سہولیات کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے، برطانوی نشریاتی ادارے نے افغان شہریوں میں بڑھتی بیروزگاری کو سنگین بحران قرار دے دیا۔سابق امریکی خصوصی نمائندہ برائے افغان خواتین اور انسانی حقوق رینا امیری کے مطابق طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیوں نے افغانستان میں انسانی حقوق کے بحران کو مزید بڑھایا ہے۔

افغان طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر عالمی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ علاقائی امن کو داؤ پر لگانے والی طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں نے افغان عوام کے مستقبل کو بھی تاریک بنا دیا۔ غیرقانونی طور پر قابض طالبان کے اقتدار کے پانچ سال بعد بھی افغانستان سنگین انسانی بحران کا سامنا کررہا ہے۔ افغان عوام کو طبی سہولیات کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے افغان شہریوں میں بڑھتی بیروزگاری کو سنگین بحران قرار دے دیا۔ سابق امریکی خصوصی نمائندہ برائے افغان خواتین اور انسانی حقوق رینا امیری کے مطابق طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیوں نے افغانستان میں انسانی حقوق کے بحران کو مزید بڑھایا ہے۔ افغان طالبان رجیم کیخلاف بڑھتی عالمی آوازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا اب اس شرپسند ٹولے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں، خواتین کی تعلیم اور آزادی پر پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے مسائل کی وجہ سے عالمی سطح پر افغان حکومت (طالبان رجیم) کے خلاف شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ خواتین اور بچیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی اور ملازمت کے مواقع کا خاتمہ۔ اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن اور معاشرتی زندگی میں سخت گیر پالیسیوں کا نفاذ۔افغان سرزمین کا دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال ہونا اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ سکیورٹی کشیدگی۔اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے ادارے مسلسل افغان حکومت سے پابندیاں ختم کرنے اور جامع حکومت بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بیشتر ممالک نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا اور امداد کو انسانی حقوق کی بہتری سے مشروط کیا ہے۔ اندرونی سطح پر افغانستان فریڈم فرنٹ جیسے گروہوں کی طرف سے بھی حکومت کے خلاف عسکری اور سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، خواتین کے حقوق پر عائد پابندیوں اور جاری انسانی بحران پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ طالبان حکومت کے قیام کے بعد افغان خواتین کی تعلیم، نقل و حرکت اور دیگر بنیادی آزادیوں پر سخت پابندیاں برقرار ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں بھوک اور غذائی عدم تحفظ کے بحران نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے، جبکہ صحت کی ناکافی سہولیات کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں، بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو بھی افغانستان کے سنگین مسائل میں شمار کیا گیا ہے۔عالمی ادارے اور انسانی حقوق کے کارکن مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ افغان عوام، بالخصوص خواتین اور بچیوں، کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے موثراقدامات ناگزیر ہیں۔

طالبان رجیم کے زیرِ سایہ پنپتی دہشت گردی یورپ کے لیے سنگین خطرہ بن گئی، یورپی یونین کی خفیہ رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں پروان چڑھتی شدت پسندی اور دہشت گردی اب صرف خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے سکیورٹی خطرات یورپ تک پہنچ گئے ہیں۔طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان یورپ کی سکیورٹی کیلئے سنگین چیلنج بن گیا ہے۔ یورپی یونین کی لیک شدہ تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ میں اس حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔23 صفحات پر مشتمل یورپی یونین کی تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ کے مطابق افغانستان سے ابھرتے سکیورٹی خطرات کے باعث یورپی یونین کو پْرتشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ’’داعش خراسان‘‘ اس وقت پورے یورپ کیلئے سنگین ترین بیرونی خطرہ بن چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ ٹیلیگرام اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بارہ سال تک کے کم عمر بچوں کی بھرتی اور برین واشنگ کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی مرکز نے افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں سے جوہری دہشت گردی کے ممکنہ خطرے سے متعلق سنگین انتباہ جاری کیا ہے۔ تاجکستان سے مبینہ طور پر چوری ہونے والی یورینیم ڈائی آکسائیڈ کی 133 گولیاں افغانستان میں موجود القاعدہ جیسے گروہوں کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے ڈائریکٹر انسدادِ دہشت گردی کے مطابق جوہری دہشت گردی کا خطرہ اس وقت دنیا کے سامنے موجود سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔ بعض دہشت گرد تنظیمیں ماضی میں بھی جوہری مواد کے حصول کی کوششوں میں ملوث رہی ہیں جبکہ تابکار مواد کی اسمگلنگ اور چوری کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور غیر ملکی جنگجوں کی شمولیت خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اقوام متحدہ، امریکہ، پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک بارہا افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال کو عالمی امن کیلئے ایک سنگین چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں