وقت ریت کی طرح ہوتا ہے!
شیئر کریں
وقت ریت کی طرح ہوتا ہے ہاتھ سے نکل جائے تو گنوائے جانے کا احساس تک نہیں ہوتا ،ظلم جس شدت کے ساتھ جنم لیتا ہے، انتقام اسی شدت کے ساتھ مظلوم کے وجود میں پلتا ہے ۔
پاکستانی ریاست کون سے ستون پرکھڑی ہے؟سارے ستون اپنی طاقت کھو چکے ،بے ستون ریاست کا وزیر داخلہ ہرزہ سرا ہے کہ ‘‘کاکروچوں کے اکٹھے ہونے سے پہلے نظام درست کر لیں ،نئے صوبے بنائیں’’۔
نقوی صاحب !ہندوستان کی جین زی کو وہ دیکھنا ہی نہیں پڑا جس کا سامنا پاکستان کی جین زی نے کیا۔آپ کو کیا لگتا ہے کہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے جانے والی پولیس وین کے آگے لڑکی اعتماد کے ساتھ کیوں کھڑی تھی؟کیونکہ ایک طویل جمہوری تاریخ رکھنے والے ملک کے طور پہ اسے یقین تھا کہ وین کا ڈرائیور اس پہ گاڑی نہیں چڑھائے گا اور اسکا یقین درست ثابت ہوا۔ان پہ جو بھی تشدد ہوا وہ دنیا بھر میں رائج ہے یعنی لاٹھی چارج اشک آور گیس کے گولوں کی برسات وغیرہ، ان کے کھانے پینے کی سہولت کھلی تھی، ملک اور بیرون ملک سے لوگ آن لائن کھانے اور دیگر اشیاء بھجوا رہے تھے، رستوں میں کنٹینر نہیں تھے، دوران احتجاج پولیس ان کے گھروں پہ گئی، نہ ہی پیارے اٹھائے و دھمکائے گئے، بینک اکاؤنٹ سیز ہوئے نہ ہی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم ہوئے۔
پاکستان کی جین زی نے اپنے حقوق کیلئے مشکل احتجاج کیا ،ڈی چوک کی بربریت کا سامنا کیا ،گولیاں کھائیں جیلیں بھگتیں،ہزاروں نوجوان 9مئی کے پلان کی بھینٹ چڑھادیئے گئے اور اس سب کے باوجود اپنی پسند کی جماعت کو ووٹ دے کر تبدیلی کا ایک بڑا مرحلہ مکمل کیا۔
پاکستان اور ہندوستانی سیاست کے مزاج میں بڑا فرق طاقت کے استعمال کا ہے ،آپ نے احتجاج کا جواب وحشیانہ طاقت کے استعمال سے دیا۔ ڈی چوک ،9مئی ،سانحہ مرید کے ،اور اب راولا کوٹ ایسی بکھری ہوئی مثالیں ہیں جن کا قرض صدیاں چکائیں گی ۔ مودی سرکار کے فاشسٹ رویے، ہندو توا کے فلسفے اور اقلیتوں کے گرد کسے مضبوط شکنجہ الگ پہلو ہیں اور اس کے نتیجے میں ایسے واقعات بھی ہوتے رہے ، جن کی کوئی صفائی نہیں، سراسر ظلم ہے۔
ہندوستان بنگلہ دیش اور نیپال میں نوجوانوں کی تحریک نے کامیابی حاصل کی اور اس میں بنگلہ دیشی نوجوانوں نے اپنے خون سے تحریک کو کامیاب کیا، پاکستان میں نوجوان نکلے ضرور مگراسنائپرز نے ان کی زندگی کے چراغ بجھا دیئے ، البتہ خطے کے نوجوانوں کی کامیابی ایک دوسرے کے لئے موٹی ویشن ہے اورنئی نسل کے اپنے حقوق پہ پرانے سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی روایتی سوچ کے برعکس وطن عزیز کی بہتری کیلئے یکساں پلیٹ فارم پہ متفق ہوں گے تاکہ سینتالیس میں پھنسے قدم آگے بڑھ اور نکل سکیں۔
بھارت میں Gen Z کے احتجاج کو صرف ایک نسل کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں۔ یہ دراصل اس پورے خطے کے نوجوانوں کی بدلتی ہوئی سوچ اور بڑھتی ہوئی توقعات کی ایک جھلک ہے۔پاکستانی نوجوان بھی 8 فروری 2024 کو پُرامن طور پر اسی امید کے ساتھ نکلے تھے کہ شاید نظام میں تبدیلی آئے گی، ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں گے، اور 9 اپریل 2022 اور 25 مئی 2022 کے بعد ظلم و بربریت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ رک جائے گا۔ مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ اپنے ووٹ کی عزت، آئینی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے لیے انہیں مالی ہی نہیں بلکہ جانی قیمت بھی ادا کرنا پڑے گی۔اصل مسئلہ صرف Gen Z کا نہیں۔ Traditionalistsاور Boomersسے لے کر Gen X اور Millennialsتک، اس خطے کی ہر نسل نے اپنے اپنے دور میں حالات کو بدلتے دیکھا
اور اپنے حصے کی امیدیں باندھیں۔ مگر آج کی Gen Z اور Gen Alphaایک مختلف دنیا میں پروان چڑھ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا نے انہیں دنیا کے دوسرے معاشروں کو دیکھنے، سننے، سمجھنے اور اپنے حالات کا ان سے موازنہ کرنے کا موقع دیا ہے۔ وہ سوال بھی کرتے ہیں اور اپنی آواز بھی بلند کرتے ہیں، پہلے کی نسبت کہیں کم خوف اور مصلحت کے ساتھ۔
پاکستان کے حکمرانوں اور پچھلی نسلوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نوجوانوں کے سوالات کو صرف‘‘Gen Z کا مسئلہ’’ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک پوری نسل کے مستقبل، آزادی، بنیادی حقوق، معاشی مواقع اور عزتِ نفس کا سوال ہے۔اب اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیسا معاشرہ تشکیل دیا ،یہ سب اچانک نہیں ہوا۔
عدلیہ، پارلیمینٹ، انتظامیہ اورمیڈیا کواشرافیہ نے بڑی محنت کے ساتھ کمزور کیا ۔ایک ا یک کرکے سارے ستون گرتے گئے ۔ آپ کو شاید اندازہ نہیں کہ جب ریاست کا آخری ستون گرتا ہے تو اس کے بعدکچھ باقی نہیں بچتا ۔ریاست کی بقا اورترقی کیلئے ریاست کے تمام اداروں کومضبوط کرناضروری ہوتا ہے۔ لیکن یہ کام کرے گاکون؟ ان کی حالت زار آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ عدالتیں پہلے آئین و قانون کے تحت سیاسی ملزموں کوسخت سزائیں سناتی ہیں لیکن پھرآپ کی حکمرانی اسی آئین وقانون کی دھجیاں بکھیر کر انھیں حکومت سونپ دیتی ہے۔ حکومت اور پارلیمینٹ بھی بے بس،بے اختیار۔ سب کی ایک ہی پالیسی وقت گزارو،موجیں کرو۔
ریاست کے ستون زمین میں دھنسادیئے گئے اورقرضوں کابوجھ بڑھتاجارہاہے۔ چوتھے ستون کانوحہ کیا لکھوں،اکثر میڈیا کارکنوں کے گھروں میں گریہ زاری ہے،کہیں بے روزگاری کا ماتم اورکہیں تنخواہیں نہ ملنے کاغم۔ سوشل میڈیا پردم مارو دم، مٹ جائے غم۔ سوال یہ ہے کہ بے ستون ریاست کب تک کھڑی رہے گی؟ ہم توایسی ترقی کی دوڑ میں اسے دوڑانا بھی چاہتے ہیں اورایشین ٹائیگر بھی بننا چاہتے ہیں۔
دیر ہوچکی اب نیا دھوکہ تخلیق کرنے کا وقت گزر چکا ،آپ نے ڈائریکشن لیس قوم کو جوان کیا ،نئے صوبے ،نئے یونٹس اس بات کی ضمانت دینے سے قاصر رہیں گے کہ مداخلت نہیں ہوگی ،ہائبرڈ نظام قائم نہیں ہوگا اب طفل تسلیوں سے بہلنے کا وقت بھی گزر چکا ۔
٭٭٭


