ٹداپ کو جدید بنانے کی منظوری، مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کلیدی اہمیت کی حامل ہے، وزیراعظم
شیئر کریں
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی برآمدات کے فروغ، مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی میں اضافے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار سمیت مقامی صنعتوں کو برآمدی معیار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان(ٹی ڈی اے پی)کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ شفاف طریقے سے میرٹ پر اچھی تربیت یافتہ افرادی قوت کو ٹی ڈی اے پی کا حصہ بنایا جائے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقدہ اعلی سطح اجلاس میں ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کیلئے صنعتوں میں تیارکردہ مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کلیدی اہمیت کی حامل ہے، جدید خطور پر استوار ٹی ڈی اے پی اس کی راہ ہمور کرے گا،زرعی مصنوعات کی برآمد کا پورا ایکو سسٹم بشمول پوری ویلیو چین بنائی جائیگی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ شفاف طریقے سے میرٹ پر اچھی تربیت یافتہ افرادی قوت کو ٹی ڈی اے پی کا حصہ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب اداروں میں ترقی کو اہداف کے حصول اور کارکردگی سے مشروط کیا جائے۔وزیرِاعظم نے کہا کہ ادارے کی کارکردگی اور مالیاتی آڈٹ کے لیے اچھی شہرت کی حامل نجی آڈٹ فرم کی خدمات حاصل کی جائیں۔ پاکستان کی برآمدی استعداد وسیع اور اس کا جغرافیائی محلِ وقوع انتہائی موزوں ہے۔
برآمدات میں اضافے کیلئے صنعتوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولت فراہم کر رہے ہیں تاکہ ان خصوصیات سے استفادہ حاصل کیا جا سکے۔اجلاس کو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی)کی موجودہ کارکردگی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں ٹی ڈی اے پی کے موجودہ نظام میں چیلنجز بارے آگاہ کیا گیا۔ عالمی سطح پر موثر ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشنز کے تقابلی جائزے میں واضح کیا گیا کہ جدید ادارے مقامی منڈیوں کی ترقی و عالمی منڈیوں تک رسائی، برآمد کنندگان کی استعداد میں اضافے اور برآمدات کے فروغ کے لیے مربوط خدمات فراہم کرتے ہیں۔
بریفنگ میں ٹی ڈی اے پی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ عالمی معیار کے تجارتی فروغ کے ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحات بھی پیش کی گئیں۔ ان میں ادارے کے دائرہ کار کو آٹھ بنیادی افعال تک محدود کرنا، بورڈ اور انتظامی ڈھانچے کی تنظیمِ نو، علاقائی نیٹ ورک کو موثر بنانا، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور مصنوعی ذہانت کا استعمال، جبکہ کارکردگی جانچنے کے لیے قابلِ پیمائش اشاریوں اور آزادانہ تھرڈ پارٹی جائزے کا نظام متعارف کرانا شامل ہے۔ مجوزہ اصلاحات پر عملدرآمد کے لیے منظوری، ڈیزائن، نفاذ اور آزادانہ جانچ پر مشتمل 12 ماہ کا مرحلہ وار منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اصلاحات کو آئندہ سال کے وسط میں مکمل کرکے اطلاق یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، ڈاکٹر مصدق ملک، مشیر وزیرِ اعظم ہارون اختر، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔


