میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا

جرات ڈیسک
جمعه, ۶ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل

 

گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک نے انٹرنیشنل ڈیٹ رپورٹ 2026 جاری کردی۔رپورٹ کے مطابق 2015 میں پاکستان کا بیرونی قرض 68 ارب 67 کروڑ ڈالر تھا، جو 2025 میں بڑھ کر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر ہوگیا۔

چین کے 22 ارب 40 کروڑ ڈالر، عالمی بینک کے 19 ارب 20 کروڑ ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے 16 ارب 30 کروڑ ڈالر پاکستان پر واجب الادا ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے مجموعی طور پر 56 ارب 83 کروڑ ڈالر کے قرضے عالمی مالیاتی اداروں جبکہ 42 ارب 43 کروڑ ڈالر دوسرے ممالک سے حاصل کیے ہیں۔

پاکستان کے مجموعی بیرونی قرض میں سرکاری اور سرکاری ضمانت والے قرضوں کا حجم 107 ارب ڈالر ہے، جبکہ نجی شعبے کا قرض 17 ارب 58 کروڑ ڈالر اور قلیل مدتی قرض 10 ارب 45 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق سرکاری قرضوں کی اوسط مدت 16 سال اور شرح سود 3.6 فیصد ہے، جبکہ نجی قرضوں پر اوسط شرح سود 8.6 فیصد ہے۔

2025 میں چین نے پاکستان کے 2 ارب ڈالر قرضوں کی واپسی کی مدت میں توسیع کی، جبکہ آئی ایم ایف نے 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کے نئے قرضے فراہم کیے۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بھی قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور کم آمدنی والے ممالک کے بیرونی قرضوں میں 8.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان ممالک کی جانب سے نجی قرض دہندگان کو سود اور اصل رقم کی ادائیگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں