مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ
شیئر کریں
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم
حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے اصولی مؤقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی مخصوص مد کے لیے مختص فنڈز دوسری مد میں استعمال نہیں کیے جا سکتے۔
عدالت نے معاملے کے جامع اور منصفانہ جائزے کے لیے حکومت پاکستان، وزارت تعلیم اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو بھی مقدمے میں فریق بنانے کی ہدایت کردی۔ مقدمہ نمبر 1286/2026 کی سماعت کے دوران عدالت نے یونیورسٹی کے مالی معاملات میں قواعد و ضوابط کی پابندی، مالی نظم و ضبط اور شفافیت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کی جانب سے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری، رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر سید عنایت علی شاہ، انچارج لیگل سیکشن ظفر غوری اور خزانچی محمد دانش احسان عدالت میں پیش ہوئے اور مقدمے میں معاونت کی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق عدالت کی جانب سے اختیار کردہ اصولی مؤقف کو تسلیم کرنا ادارے کے مالی معاملات کو قانونی تقاضوں کے مطابق چلانے اور مختص فنڈز کے شفاف استعمال کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔
اس موقع پر شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے عدالتی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کو قانون اور مالیاتی قواعد و ضوابط کے مطابق چلانا ان کی اولین ترجیح ہے۔
کسی بھی مد کے لیے مختص رقم کو اس کے مقررہ مقصد کے علاوہ استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ مالی وسائل کا درست اور شفاف استعمال تعلیمی ادارے کی ترقی اور استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے اساتذہ، افسران، ملازمین اور طلبہ کے حقوق و مفادات کا تحفظ اور ادارے کے مالی و انتظامی امور میں شفافیت یقینی بنانا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔


