وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں
شیئر کریں
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے معاملات کا فیصلہ مجاز سول عدالتیں ہی کرسکتی ہیں۔ عدالت نے خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے خواتین کی جانب سے دائر سول درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کرکے منظور کرلیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس عائشہ اے ملک نے تحریر کیا۔ فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ خواتین کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے خواتین کے جائیداد حقوق کے نفاذ کا قانون 2019 اہم قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، تاہم اس قانون کے تحت محتسب کے اختیارات کی بھی واضح حدود مقرر ہیں۔ محتسب کا اختیار واضح ملکیتی حقوق اور قبضے کی بحالی تک محدود ہے، جبکہ پیچیدہ قانونی اور حقائق پر مبنی تنازعات کا فیصلہ شہادتیں ریکارڈ کیے بغیر ممکن نہیں۔ عدالت عظمی نے قرار دیا کہ ملکیت، وراثت اور جائیداد کے متنازعہ معاملات سول عدالت میں طے کیے جائیں گے۔ اگر کسی جائیداد کی ملکیت، ہبہ نامے کی اصلیت یا قانونی حیثیت اور وراثتی حقوق کے حوالے سے تنازع موجود ہو تو اس کا فیصلہ مجاز سول عدالت ہی شہادتیں ریکارڈ کرنے اور فریقین کا مقف سننے کے بعد کرسکتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ہبہ نامے کی اصلیت، اس کی قانونی حیثیت اور فریقین کے وراثتی حقوق کا تعین بھی سول عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ ایسے معاملات میں دستاویزات کی جانچ پڑتال، قانونی تقاضوں اور دیگر متعلقہ شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے، اس لیے محتسب پیچیدہ ملکیتی تنازعات کا حتمی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ سپریم کورٹ نے متنازعہ جائیداد کا معاملہ مجاز سول عدالت کو بھجوانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ محتسب شکایت اور اس سے متعلق تمام ریکارڈ سول جج باڑہ کی عدالت میں جمع کرائے۔ سول عدالت کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فریقین کو 15 روز کے اندر پیش ہونے کے نوٹس جاری کرے اور مقدمے کو مناسب مدت میں نمٹائے۔ عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں خواتین کے جائیداد حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے قرار دیا کہ خواتین کو ان کی جائیداد سے غیر قانونی طور پر محروم کرنے کے خلاف فوری اور مثر قانونی چارہ جوئی ضروری ہے۔
خواتین کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے قانون 2019 ایک اہم قانونی ذریعہ ہے، تاہم اس قانون کے تحت دستیاب فورم کو اپنے قانونی اختیارات اور دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کارروائی کرنا ہوگی۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ محتسب کا فورم خواتین کو ان کے واضح اور تسلیم شدہ ملکیتی حقوق دلانے اور قبضہ بحال کرانے کے لیے مثر کردار ادا کرسکتا ہے، لیکن جہاں ملکیت، وراثت یا ہبہ کی قانونی حیثیت ہی متنازعہ ہو وہاں سول عدالت سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پیچیدہ جائیداد تنازعات میں فریقین کے حقوق کا درست تعین قانونی طریقہ کار اور مکمل شہادتوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی فریق کے قانونی حقوق متاثر نہ ہوں۔ اسی اصول کے تحت خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ سول عدالت کو بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔


