میر رضا قتل کیس، جوڈیشل کمیشن کیخلاف عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری
شیئر کریں
آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل، پراسیکیوٹر جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل طلب
عدالت کا جے آئی ٹی تشکیل دینے اور تفتیش میں مداخلت کے اختیار پر سوالات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر رضا علی خان کیس میں جوڈیشل کمیشن کے خلاف اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے سے متعلق درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے۔
عدالت نے جے آئی ٹی تشکیل دینے اور تفتیشی عمل سے متعلق اپنے دائرہ اختیار پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر معاونت کے لیے طلب کرلیا۔ کیس کی مزید سماعت 31 اگست کو ہوگی۔
میر رضا علی خان کے والدین اور بہن کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میر رضا کی گمشدگی اور ہلاکت کا مقدمہ تھانہ فیروز آباد میں درج ہے، تاہم جائے وقوعہ بروقت محفوظ نہ کیے جانے کے باعث تفتیش متاثر ہوئی۔
درخواست گزاروں کے مطابق گواہوں کے بیانات بھی بروقت قلمبند نہیں کیے گئے جبکہ الیکٹرانک آلات اور دیگر شواہد کی مناسب جانچ اور معائنہ نہیں کیا گیا۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ مبینہ طور پر تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ہی خودکشی کا بیانیہ اختیار اور اسے پھیلایا گیا، جبکہ بعد ازاں میڈیکو لیگل ریکارڈ میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آئیں۔
پولیس سرجن نے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے قبر کشائی کی سفارش کی، جس کے بعد اسپیشل میڈیکل بورڈ نے قبر کشائی کے بعد لاش کا معائنہ کیا۔ درخواست گزاروں کے مطابق میڈیکل بورڈ کے نتائج خودکشی کے ابتدائی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، جبکہ حتمی پوسٹ مارٹم اور کیمیائی معائنے کی رپورٹ نے بھی خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا۔
درخواست میں سابق تفتیشی ٹیم کے ارکان کے طرز عمل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے شواہد کی غلط دیکھ بھال یا ضائع ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان کے بیانات بھی کافی تاخیر سے قلمبند کیے گئے، جبکہ موجودہ تفتیشی ٹیم اب تک کسی ملزم کی نشاندہی نہیں کرسکی۔
درخواست کے مطابق 24 اگست کو بھی چالان جمع کرانے کے لیے مزید وقت طلب کیا گیا۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی آزادانہ، شفاف اور جامع تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے اور اس میں ایسے افسران کو شامل کیا جائے جن کا اس کیس سے پہلے کوئی تعلق نہ رہا ہو۔
سندھ ہائیکورٹ کے تحریری حکمنامے کے مطابق عدالت نے استفسار کیا ہے کہ کیا جے آئی ٹی تشکیل دینے کے لیے عدالت براہ راست ہدایت جاری کرسکتی ہے؟ کیا عدالت تفتیش اور رپورٹ جمع کرانے کے عمل کو تبدیل یا اس کی نگرانی کرسکتی ہے؟ اور کیا سندھ ٹریبیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت گزٹ نوٹیفکیشن کے بغیر مداخلت کا معاملہ بنتا ہے؟
عدالت نے قرار دیا کہ یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آیا عدالت اس معاملے میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دے سکتی ہے یا نہیں، جبکہ تفتیش کے حوالے سے احکامات جاری کرنے کے عدالتی اختیار پر بھی غور کیا جائے گا۔ عدالت نے متعلقہ قانونی نکات پر معاونت کے لیے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔


