آپ کے مسائل اور ان کا حل
شیئر کریں
وسوسے اور بے دھیانی میں طلاق کے الفاظ زبان سے جاری ہونے کا حکم
سوال :سوال ہے کہ بندہ کو ہر وقت طلاق کے وسوسے آتے ہیں، بندہ کو جب بھی طلاق کے وسوسے آئیں طلاق کے وساوس سے خلاصی دل میں کہتا ہوں اوپر اوپر سے طلاق کی نیت سے، ایک مرتبہ میں کسی سے بات کر رہا تھا طلاق کے وسوسہ کو دور کرنے کے لئے کہا اوپر اوپر سے طلاق کی نیت سے یہ الفاظ زبان سے جاری ہوگئے بے دھیانی میں، جبکہ ایسی نیت حقیقت میں نہ تھی کیونکہ میں ایسا فعل کر ہی نہیں سکتا۔ اس پر اب کیا کروں۔ سوال کا جواب جلد دیں تاکہ دل کو تسلی ہو ۔کیونکہ حدیث میں ہے کہ طلاق کے متعلق مذاق بھی درست نہیں ۔دل میں شیطان سے مذاق کرتا تھا تاکہ اسے تکلیف ہو جبکہ یہ بات زبان سے جاری ہوگئی کہ اوپر اوپر سے طلاق کی نیت سے جبکہ درحقیقت ایسی نیت نہ تھی یہ سب بے دھیانی میں ہوا۔
جواب:طلاق کا محض وسوسہ آنے سے طلاق نہیں ہوتی، آپ کو طلاق کے وسوسے بکثرت آتے ہیں اگر اُن سے مغلوب ہوکر بے دھیانی میں کبھی زبان سے محض یہ الفاظ۔(اوپر اوپر سے طلاق کی نیت سے ) جاری ہوگئے ہیں، نہ بیوی کا نام لیا نہ اس کی طرف نسبت کی ہے تو اس سے بیوی پر کسی قسم کی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم آئندہ آپ وسوسوں کی طرف بالکل بھی دھیان، توجہ نہ کریں، جب وسوسے آئیں تو ذہن و دماغ کو دوسری جانب پھیر لیا کریں۔واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
گھر میں سکون آنے کا راستہ
سوال : سر ہمارے گھر میں لڑائی بہت ہوتی ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر۔کھانا کھاتے وقت زیادہ ہو تی ہے ۔میں جتنی بھی کوشش کروں کہ یہ سب نہ ہو پھر بھی لڑائی ہو جاتی ہے ۔ہم چار لوگ ہیں گھر میں۔اس لڑائی جھگڑے سے نقصان بھی ہوتے ہیں کبھی کچھ خراب ہو گیا کبھی کچھ۔ہم نے لوگوں کا قرض ادا کرنا ہے ۔پیسے جمع کرتے ہیں کہیں اور لگ جاتے ۔بس اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔کہ گھر میں سکون آئے اور برکت ہو۔اس کے لئے کوئی وظیفہ وغیرہ ہو تو بتائیں۔شکریہ
جواب:نماز تلاوت درود شریف کا اہتمام کریں، گناہوں سے بچنے میں پوری کوشش صرف کردیں، ایک دوسرے کے حقوق اداء کرتے رہیں، ایک دوسرے کی حق تلفی سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں، زبان قلب نظر کان کی حفاظت کریں، غیبت بہتان کذب وغیرہ سے کوسوں دور بھاگیں، تقویٰ طہارت کو لازم پکڑ لیں، دل سوزی کے ساتھ دعاء کیا کریں، ہر معاملہ میں اتباع سنت کو ملحوظ رکھتے رہیں، خلاف سنت کاموں سے بچیں ان شاء اللہ سکون اطمینان اور برکت کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کریں گے ۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
فوجی چھاؤنی میں جمعہ کی نماز ادا کرنا
سوال:بعض مرتبہ کچھ فوجی بھائی کسی جنگل یا کسی ایسی جگہ ہوتے ہیں ، جہاں چند لوگ ہی ہوتے ہیں، وہاں فوجیوں کے علاوہ کوئی اور نہیں آسکتا، اور وہاں زیادہ آبادی بھی نہیں ہے تو فوجی بھائی کیا وہاں جمعہ کی نماز ادا کر سکتے ہیں؟ یا آبادی تو ہے لیکن کسی دوسرے شخص کو وہاں آنے کی اجازت نہ ہو تو ایسی صورت میں کیا وہاں جمعہ کی نماز ادا کرسکتے ہیں؟
جواب: فوجیوں کے رہنے کے مقامات اگر شہر، فنائے شہر یا کسی بڑے گاؤں میں ہوں اور امام سمیت کم ازکم چار افراد ہوں تو وہاں جمعہ کی نماز پڑھنا جائز ہے ، حفاظتی تدبیر کے پیش نظر عام لوگوں کے دخول کی ممانعت صحت جمعہ کے لیے مانع نہیں ہوگی، بشرطیکہ وہاں کے لوگوں کو جمعہ کرنے سے منع نہ کیا جائے ۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
مکڑی، سانپ اور مینڈک کی خرید و فروخت کا حکم
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ tarantulaمکڑی کی خرید و فروخت کرنا کیسا ہے ؟ واضح ہوکہ اس میں زہر نہیں ہوتا اور اسے شوقیہ پالا جاتاہے نیز اس طرح کے سانپ اور مینڈک کی خرید و فروخت کاشرعی حکم کیا ہے ؟
جواب:کسی چیز کی خرید وفروخت کے جائز ہونے کا مدار اس بات پر ہے کہ وہ چیز قابل انتفاع ہو اور اس کا کوئی جائز اور حلال استعمال بھی موجود ہو؛ لہٰذا اگر سانپ اور مینڈک کا استعمال دواؤں میں ہو اور خرید وفروخت اسی مقصد سے ہوئی ہے تو ان کی خرید وفروخت جائز ہے ۔ اور مکڑی میں اگر قابل انتفاع کوئی چیز نہ ہو تو محض شوقیہ اس کی خرید وفروخت جائز نہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
نقصان کی بھرپائی کے لیے شیئرز خرید کر اسی دن فروخت کرنا
سوال:یوٹیوب پر ایک مفتی صاحب سید اکبر ہاشمی ہیں، میں اُن کے شیئر مارکیٹ سے کمائی کرنے کے طریقے سے متاثر ہوا ہوں۔ اسی کے دوران مجھے کچھ نقصان ہوا شیئر میں۔ نقصان کی بھرپائی کے لیے جس دن ہم نے شیئر لیا ہو اُسی دن فروخت کر سکتے ہیں؟ میں نے آپ کی ویب سائٹ پر پڑھا ہے کہ شیئر لے کر اُسی دن بیچنا جائز اور دُرست نہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے حرام اور ناپسندیدہ؟ آپ براہ کرام وضاحت فرمائیں۔ جن مفتی صاحب کو میں فالوکر کے شیئر خریدتا ہوں وہ بس بتاتے ہیں کہ شیئر جائز ہے یا نہیں۔ ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی بیچنے کے متعلق۔ دعاکی درخواست ہے ۔
جواب:منقولی اشیا کے شیئرز خریدنے کے بعد، قبضہ سے پہلے فروخت کرنا جائز نہیں، اور شیئرز میں شرعی قبضہ کا تحقق؛ ڈیلیوری پر ہوتا ہے ، اس سے پہلے نہیں، اور محض رسک (Risk)کا انتقال، شرعی قبضہ کے لیے کافی نہیں، اور شیئرز کی ڈیلیوری محض ایک دن میں نہیں ہوتی، عام طور پر تین چار دن میں ہوتی ہے ، پس منقولی اشیا کے شیئرز صبح خرید کر شام کو قبضہ شرعی سے پہلے فروخت کرنا، یعنی شیئرز میں انٹراڈے ٹریڈنگ کرنا؛ درست نہیں اگرچہ شیئرز کی خرید وفروخت کی دیگر جملہ شرائط کی رعایت کی جائے اور مقصد محض نقصان کی بھرپائی ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
بچہ کو گود لینے اور اس کو اپنا نام دینے کا حکم؟
سوال :میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنے بھائی کے بیٹے کو گود لے سکتا ہوں اگر گود لے سکتا ہوں تو کیا میں اس کو اپنا نام دے سکتا جیسے کے اس کے برتھ سرٹیفیکٹ پہ باپ کی جگہ اپنا نام لکھنا اور میرے بھائی کو اس سے کوئی اعتراض نہیں ہے اور میری بیوی کے لیے کیا حکم ہے ؟ جیسا کے اس کے بالغ ہونے کے بعدپردے کا حکم ہے ؟آپ سے جواب کی درخواست ہے ؟
جواب:گود لے کر پال لینے میں تو کچھ حرج نہیں، البتہ آپ اس کو اپنا بیٹا قرار دیں یا وہ آپ کو اپنا باپ بنائے یہ جائز نہیں،بلکہ اُس بچہ کی نسبت اصل باپ (بھائی) کی طرف ہی ہوگی اگر اس کی عمر دو سال سے کم ہو اور آپ کی بیوی اس کو اپنا دودھ پلادے تو وہ بچہ آپ کی بیوی کا محرم (رضاعی بیٹا) بن جائے گا ورنہ وہ آپ کی بیوی کے حق میں نامحرم رہے گا۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
تمباکو کے بغیر حقہ کا استعمال
سوال:کیا بغیر تمباکو کا حقہ جو آج کل رائج ہے استعمال کر سکتے ہیں یا یہ کراہت ہے ؟
جواب:ہماری تحقیق میں مروجہ مخصوص حقوں میں بھی تمباکو استعمال ہوتا ہے ، البتہ اس کی نوعیت عام تمباکو کے مقابلے میں مختلف ہوتی ہے اس لیے بلا ضرورت ایسے حقہ کا استعمال بہتر نہیں ہے اور اگر استعمال کرلیا تو مسجد جانے سے پہلے اچھی طرح منہ صاف کر لینا چاہیے ۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کسی زندہ شخص کے لیے عمرہ کرنے کا حکم؟
سوال:حضرت کیا کسی زندہ انسان کے نام سے عمرہ کیا جاسکتا ہے ؟ اگر ہاں تو اس کی نیت کیسے کریں اور طریقہ کیا ہوگا؟ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔
2 – میرے پیسے میں برکت نہیں ہوتی اِدھر سے آتا ہے اور اُدھر سے چلا جاتا ہے کوئی کام سوچتا ہوں تو وہ کام پورا نہیں ہوتا خیر و برکت کے لیے کوئی خاص دعا وظیفہ عنایت فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی ۔
جواب: زندہ شخص کے لیے بھی عمرہ کر سکتے ہیں، اس کے دو طریقے ہیں:
ایک یہ کہ عمرہ اپنی طرف سے ادا کرے اور اس کا ثواب دوسرے کو ہدیہ کردے ، اس صورت میں احرام وتلبیہ میں نیت اپنی ہی کرے گا۔
دوسرا یہ کہ دوسروں کی طرف سے عمرہ ادا کرے ، احرام باندھتے وقت ان کی طرف سے احرام باندھنے کی نیت کرے ، اور تلبیہ بھی ان کی طرف سے پڑھے ۔
(2)آپ خود بھی نمازوں کا اہتمام کریں اور گھر والوں کو بھی اس کی ترغیب دیں، خاص طور پر مغرب بعد سورہ واقعہ اور فجر بعد سورہ یسین کی تلاوت آپ خود بھی کریں اور گھر والوں کو بھی اس کا پابند بنائیں ان شاء اللہ رزق میں برکت نصیب ہوگی۔واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم


