نقاب کے پیچھے دفن انسان
شیئر کریں
انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ دنیا اسے پہچاننے میں ناکام رہتی ہے ، بلکہ یہ ہے کہ ایک دن وہ خود اپنے اصل وجود سے ناواقف ہو جاتا ہے ۔ دوسروں کی توقعات کے مطابق جیتے جیتے وہ اپنے اندر ایسا اجنبی تعمیر کر لیتا ہے جسے معاشرہ پسند، خاندان قابلِ فخر اور اقتدار فرمانبردار شہری سمجھتا ہے ۔ مگر اس کامیابی کے نیچے سوال دفن رہتا ہے ۔ اگر تمام کردار مجھ سے الگ کر دیے جائیں تو میرے اندر کیا بچے گا؟ ماہرِ نفسیات کارل گستاو یونگ کے تصورِ ‘‘پرسونا’’ (Persona)کی معنویت اسی سوال میں ہے ۔ پرسونا (Persona)وہ سماجی نقاب ہے جس کے ذریعے انسان دنیا کے سامنے قابلِ قبول شناخت پیش کرتا ہے ۔ مسئلہ نقاب پہننا نہیں، اسے اصل چہرہ سمجھ لینا ہے ۔یہ صرف انفرادی نفسیات کا مسئلہ نہیں، انسانی تاریخ، تہذیب اور سیاست میں بھی یہی المیہ موجود ہے ۔ تہذیب نے باہمی زندگی کے اصول دیے ، مگر انسان کو اپنی خواہشات، آزاد خیالات اور شناخت سے دست بردار بھی کیا۔ اجتماعی نظم ایک عدالت بن گیا، جہاں خیال قبولیت، اختلاف سزا اور انفرادیت معاشرتی منظوری کے پیمانے پر پرکھی جانے لگی۔
قدیم روم میں ‘‘پرسونا ’’(Persona) تھیٹر کے ان نقابوں کو کہتے تھے جنہیں اداکار کرداروں کے لیے پہنتے تھے ۔ بادشاہ یا غلام کا کردار بدلتا، مگر اداکار کی ذات اس سے الگ رہتی۔ انسانی المیہ یہ ہے کہ اسٹیج سے اترنے کے بعد بھی وہ نقاب نہیں اتارتا۔ دفتر میں افسر، گھر میں فرمانبردار بیٹا اور معاشرے میں معزز شخص بنتے بنتے زندگی تھیٹر بن جاتی ہے ۔کردار ادا ہوتے ہیں، مگر اداکار شناخت کھو دیتا ہے ۔سقراط کا سوال ‘‘اپنے آپ کو پہچانو’’ اسی تضاد کو فلسفے کے مرکز میں لاتا ہے ۔ وہ شہریوں کے عقائد اور سماجی تصورات پر سوال اٹھاتا تھا، کیونکہ اس کے نزدیک غیر جانچی ہوئی زندگی معنویت کھو دیتی ہے ۔ وہ نیا نقاب نہیں پہنانا چاہتا تھا، موجودہ نقابوں کے تضادات دکھاتا تھا۔ معاشرہ سوال کرنے والے سے خوف زدہ ہوتا ہے ، کیونکہ سوال اس شناخت کو ہلا دیتا ہے جس کے سہارے لوگ جیتے ہیں۔اسی لیے آزاد فکر رکھنے والوں کو مخالفت، قید اور موت کا سامنا کرنا پڑا۔ سقراط کو زہر پینا پڑا، جیورڈانو برونو فکری و مذہبی اقتدار کے ہاتھوں مارا گیا۔ یہ واقعات اختلافِ رائے کی داستانیں ہی نہیں، اجتماعی شناخت کو چیلنج کیے جانے کے خوف کی مثالیں ہیں۔ جب اطاعت ضمیر کی آزادی سے زیادہ اہم ہو جائے تو نظم، ذہنی غلامی بن جاتا ہے ۔
فریڈرک نطشے نے پوچھا کہ جن اصولوں کو انسان ابدی سچائی سمجھتا ہے ، کیا وہ شعوری انتخاب ہیں یا معاشرتی اطاعت کا نتیجہ؟ انسان ہمیشہ اپنے عقائد کا آزاد مصنف نہیں ہوتا، کبھی وہ ان اقدار کا محافظ بن جاتا ہے جنہوں نے شخصیت بنائی، مگر آزادی محدود کر دی۔ ورثے کے خیالات کو اپنی دریافت سمجھ کر وہ سوال کرنا بھول جاتا ہے ۔ایرک فروم نے Escape from Freedom میں واضح کیا کہ آزادی اختیار کے ساتھ تنہائی، غیر یقینی اور ذمہ داری بھی لاتی ہے ۔ لوگ اس قیمت سے بچنے کے لیے طاقتور شخصیت، نظریے یا گروہ کے پیچھے پناہ لیتے ہیں۔ انہیں آسان لگتا ہے کہ کوئی دوسرا بتائے کیا سوچنا، کس سے محبت یا نفرت کرنا ہے ۔ تحفظ ملتا ہے ، مگر قیمت ان کی انفرادی شخصیت ادا کرتی ہے ۔ہنّا آرینڈٹ نے دکھایا کہ غوروفکر اور اخلاقی فیصلے کی صلاحیت کمزور پڑ جائے تو عام انسان بھی غلط اعمال میں شریک ہو سکتا ہے ۔ جب فرد ذمہ داری کسی ادارے یا حکم کے حوالے کرتا ہے تو ضمیر دوسروں کی آواز میں بولنے لگتا ہے ۔ وہ کہتا ہے : میں نے وہی کیا جو سب کرتے ہیں۔ مگر اجتماعی قبولیت کسی عمل کو درست نہیں بناتی۔ نقاب ذمہ داری سے فرار کا پردہ بھی بن سکتا ہے ۔یونگ ہمیں ان حصوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جنہیں ہم منظوری کے لیے دبا دیتے ہیں۔
انسان وہ نہیں جو دنیا کو دکھاتا ہے ، اس کے اندر خوف، غصہ، حسد، محبت، کمزوریاں اور تخلیقی صلاحیتیں بھی ہیں۔ انکار شدہ پہلوؤں کا سامنا داخلی تکمیل کا حصہ ہے ۔ اس کا مطلب ہر خواہش کو درست ماننا نہیں، بلکہ کمزوری پہچاننا، تضادات کی ذمہ داری قبول کرنا اور شخصیت کو شعوری
طور پر تشکیل دینا ہے ۔ جو اپنے سائے سے انکار کرتا ہے ، اسے دوسروں پر ڈال دیتا ہے ۔سرمایہ دارانہ معاشرے نے نقاب کو نئی شکل دی ہے۔ انسان اپنی شخصیت بازار میں بھی فروخت کرتا ہے ۔ کامیابی عہدے ، آمدنی، شہرت، خوب صورتی اور سوشل میڈیا کی توجہ سے ناپی جاتی ہے ۔ وہ خوش ہونے سے زیادہ خوش دکھائی دینے اور علم سے زیادہ ذہین نظر آنے میں مصروف ہے ۔ ڈیجیٹل دنیا میں وہ اپنی زندگی کا مدیر بھی ہے اور اشتہار بھی۔ کامیابی دکھاتا ہے ، مگر تنہائی اور خود سے بیگانگی نہیں۔ زندگی نمائش بن جاتی ہے ۔پاکستانی معاشرے میں یہ مسئلہ سامنے آتا ہے ۔ لوگوں کو اپنی رائے سے زیادہ خاندانی مرتبے ، مذہبی و سماجی شناخت اور سیاسی وابستگی کی فکر رہتی ہے ۔ کوئی گھر میں سچ نہیں کہہ پاتا، کوئی دفتر میں سوال نہیں اٹھاتا، کوئی اجتماع میں ضمیر کی آواز ظاہر نہیں کرتا۔ ہر خاموشی بزدلی نہیں، معاشی مجبوری اور عدم تحفظ انتخاب محدود کرتے ہیں۔ لیکن مجبوری مستقل عادت بن جائے تو انسان اپنے خیالات سے دور ہونے لگتا ہے ۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جب ادارے ، جماعتیں یا طاقتور گروہ غیر مشروط وفاداری مانگتے ہیں تو اختلاف کو کردار کی خرابی سمجھا جاتا ہے ۔ جمہوریت کا امتحان مخالف آواز برداشت کرنا بھی ہے ۔ سوال کرنے والے کو غدار کہا جائے تو شہری خیالات چھپانا سیکھتا ہے ۔ بظاہر اتفاق دکھائی دیتا ہے ، مگر اندر خوف اور بے اعتمادی پھیلتی ہے ۔ یہ اتحاد نہیں، اختلاف ظاہر کرنے کی صلاحیت کا زوال ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں شناخت، زبان، ثقافت اور سیاسی وابستگی کے سوال اہم ہیں۔ مادری زبان اور تہذیبی ورثے سے محبت کے لیے دوسروں سے نفرت ضروری نہیں۔ ہم آہنگی تب پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنی جڑوں سے وابستہ رہ کر دوسروں کے وجود اور حقِ اختلاف کو تسلیم کرے ۔ جو معاشرہ سب کو ایک سانچے میں ڈھالتا ہے ، وہ یکساں تو ہو سکتا ہے ، آزاد اور منصفانہ نہیں۔ طبقاتی تفاوت بھی طے کرتا ہے کہ کون بولے گا اور کس کی آواز دبے گی۔اس بحران کا راستہ سماجی کردار ترک کرنا نہیں۔ ہمیں والدین، دوست، شہری اور کارکن کی ذمہ داریاں نبھانی ہیں، مگر انہیں پوری شناخت نہیں بنانا۔ اختلاف میں تہذیب، کمزوری کے اعتراف میں وقار اور منظوری کے بغیر ضمیر سننے کا
حوصلہ ضروری ہے ۔ خود شناسی اپنے خوف، مفاد اور تعصبات کا جائزہ لینے سے شروع ہوتی ہے ۔ آزادی بے قید خواہش نہیں؛ اپنے انتخاب اور نتائج کی ذمہ داری ہے ۔
آزادی اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان دنیا کی قبولیت کو اپنی ذات کی واحد سند سمجھنا چھوڑ دیتا ہے ۔ سوال یہ نہیں کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ توقعات سے الگ ہو کر ہم اپنے بارے میں کیا جانتے ہیں۔ نقاب تحفظ دیتا ہے ، مگر جب روح اور دنیا کے درمیان دیوار بن جائے تو اسے توڑنا ضروری ہے ۔ جس دن انسان دوسروں کی نظروں میں اچھا دکھائی دینے کے لیے اپنی ہی نظروں میں اجنبی بن جائے ، کامیابی کے اندر شکست جنم لیتی ہے ۔ نجات بہتر نقاب پہننے میں نہیں، اپنے اصل چہرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی اخلاقی جرأت میں ہے ۔
٭٭٭


