محکمہ ورکس اینڈ سروسز، اربوں روپے کی 14اسکیمیں تکمیل کی منتظر
شیئر کریں
8ارب 62 کروڑکے ترقیاتی منصوبوں پر 7ارب خرچ ، اسکیمیں تاحال نامکمل
ادھوری اسکیموں کے باوجود 15 نئی اسکیمیں شروع ، سرکاری اداروں کی نگرانی ناکام
(رپورٹ: اسد آرائیں) سندھ کے محکمہ ورکس اینڈ سروسز میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر، ناقص مالیاتی منصوبہ بندی اور سرکاری وسائل کے غیرموثراستعمال کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ کے مختلف دفاتر میں8ارب 62 کروڑ، 95 لاکھ،34ہزار روپے مالیت کے ترقیاتی کام ٹھیکیداروں کو تفویض کیے گئے، تاہم متعدد منصوبے دو سے 13 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکے۔
ان اسکیموں پر مجموعی طور پر7ارب 61کروڑ،5لاکھ32ہزار روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن نہیں بنائی جاسکی۔ سندھ کوسٹل ہائی وے میں گھگھر پھاٹک سے کیٹی بندر، شاہ بندر اور علی بندر سمیت مختلف حصوں میں سڑک کی تعمیر پر 2 ارب 20 کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار روپے، ٹنڈو جام میں حیدرآباد تا میرپورخاص روڈ کے ساتھ بائی پاس کی تعمیرپر 1 ارب 45 کروڑ 81 لاکھ 60 ہزار روپے، گلشنِ سرمست حیدرآباد اور کورنگی کراچی میں میڈیکل کالجز کے قیام کی دو اسکیموں پر 1 ارب 31 کروڑ 95 لاکھ 49 ہزار روپے ،جی ایم ایم ایم سی میں 200 طلبہ کے لیے ہاسٹل اور سکھر میں اکیڈمک بلاک پارٹ ٹو کی تعمیرپر1 ارب 8 کروڑ 88 لاکھ 50 ہزار روپے ، ایس ایم بی بی سی چیئر و کنونشن سینٹر، سندھ گورنمنٹ قطر ہسپتال اورنگی ٹاؤن کی بہتری، سول اسپتال کراچی میں گودام اور کورنگی میں اضافی انڈور بلاک کی تعمیر پر 73 کروڑ 95 لاکھ 9 ہزار روپے، ٹنڈو آدم تا میرپورخاص روڈ کی خصوصی مرمتی اسکیم پر 32 کروڑ 84 لاکھ 63 ہزار روپے، شکارپور تا رتوڈیرو، رتوڈیرو تا دریا خان ڈیٹھو، تجیجا تا آغا فارم، گڑھی یاسین تا تقان ڈھانی بخش اور دیگر اسکیموں پر 5 کروڑ 43 لاکھ 20 ہزار روپے، ٹھٹھہ میں تین سڑکوں کی تعمیر اور بہتری میں سڑکوں کی تعمیر اور کینجھر جھیل تک جانے والی سڑک کو دو رویہ بنانے کا منصوبہ پر 5 کروڑ 28 لاکھ 75 ہزار روپے ، سندھ ہاؤس اسلام آباد میں گورنر انیکس کی تزئین و مرمت کی اسکیم پر 3 کروڑ 71 لاکھ روپے، نوشہرو فیروز میں سومر چنہڑ سے گاؤں جوان سولنگی تک سڑک کی تعمیر اسکیم پر 1 کروڑ 99 لاکھ 5 ہزار روپے ، جیکب آباد میں غریب آباد، دستگیر کالونی، شاہ غازی محلہ، بولان پمپ، پیچوہا پھاٹک روڈ، بابو محلہ اور بسم اللہ باغ سمیت مختلف علاقوں میں ٹف ٹائلز کی تنصیب کے کاموں پر 74 لاکھ 78 ہزار روپے ، حیدرآباد میں مین جامشورو روڈ سے مروی گارڈن کے راستے واوہو واہ، تعلقہ قاسم آباد تک سڑک کی مرمت اور کارپیٹنگ اسکیم پر 39 لاکھ 50 ہزار روپے ، سکھر میں جامع مسجد کی تعمیر و بحالی، پولیس ریسٹ ہاؤس اور اسسٹنٹ کمشنر پنو عاقل کے دفتر سمیت 13 تعمیراتی اسکیموں پر 11 کروڑ 60 لاکھ 84 ہزار روپے خرچ ہوئے ، جبکہ ضلع کشمور کی ہائی ویز ڈویژن کندھ کوٹ کے تحت 67 اے ڈی پی اسکیمیں جون 2024 تک مکمل نہ ہو سکیں، لیکن مزید 15 نئی اسکیمیں بھی شروع کردی گئیں۔ ان اسکیموں پر 17کروڑ 78لاکھ 64ہزار روپے خرچ ہوئے ۔ سابقہ آڈٹ رپورٹس میں بھی اسی نوعیت کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے باوجود صورتحال میں بہتری نہ آنا تشویش ناک امر ہے ۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ایک ہی نوعیت کی بے ضابطگیوں کے مسلسل سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں ناکامی نہ صرف عوامی مفادات کو متاثر کر رہی ہے بلکہ سرکاری وسائل کے مثر استعمال، مالیاتی نظم و نسق اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھا رہی ہے ۔ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود منصوبوں کا برسوں تک نامکمل رہنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکنے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔


