میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، حیدرآباد میں تعمیراتی مافیا بے لگام، قوانین نظرانداز

سندھ بلڈنگ، حیدرآباد میں تعمیراتی مافیا بے لگام، قوانین نظرانداز

جرات ڈیسک
جمعه, ۶ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد قائم خانی کی نگرانی میں جاری بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

آٹو بھان روڈ پر رہائشی پلاٹ نمبر 221-Aکا معاملہ توجہ کا مرکز، کمرشل حیثیت پر سوال

 

حیدرآباد میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے ) کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ، لطیف آباد کے مختلف یونٹس میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات، رہائشی پلاٹس کی کمرشلائزیشن، منظور شدہ نقشوں سے تجاوز اور اضافی منزلوں کی تعمیر کی شکایات سامنے آنے لگیں۔ شہری حلقوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول ساجد قائم خانی کی نگرانی میں ہونے والے تعمیراتی معاملات کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ذرائع کے مطابق لطیف آباد یونٹ نمبر 2، 5، 7، 10 اور 11میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات
اور اضافی اراضی کے استعمال سے متعلق شکایات موجود ہیں۔ آٹو بھان روڈ پر پلاٹ نمبر 221-Aکا معاملہ بھی توجہ کا مرکز ہے ، جہاں مبینہ طور پر 500گز سے زائد اضافی اراضی پر تعمیرات اور رہائشی پلاٹ کی کمرشل حیثیت سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ شہری حلقوں کا سوال ہے کہ اگر تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزیاں جاری ہیں تو متعلقہ افسران کی نگرانی اور فیلڈ عملے کی کارکردگی کہاں ہے؟ کیا ان تعمیرات کی اجازت قانونی تقاضے پورے کرکے دی گئی یا مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کو نظرانداز کیا گیا؟عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ سندھ، ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے اور چیئرمین اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد قائم خانی سمیت متعلقہ افسران کی کارکردگی، تعمیراتی اجازت ناموں اور منظور شدہ نقشوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے ، خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں