پیٹرول کی قیمت کا کھیل، پاکستان میں قیمتوں کے فارمولے کی تاریخ (دوسری قسط)
شیئر کریں
باسط علی
۔۔۔۔
دوسری قسط
پیٹرول کی قیمت کا کھیل، پاکستان میں قیمتوں کے فارمولے کی تاریخ:سرکاری ضمانتوں سے درآمدی مساوی قیمت تک
٭ پیٹرولیم کی قیمتوں کے فارمولے کسی ایک معاشی نظریے کے تحت مستقل نہیں رہے ، مختلف ادوار میں ان کا تعلق مالیاتی ضرورت، درآمدی دباؤ، صنعتی تحفظ اور صارفین کو مہنگائی سے بچانے کی ترجیحات سے بدلتا رہا
٭آج یہ بات حیران کن معلوم ہو سکتی ہے کہ کبھی پاکستان کی ریفائنریوں کے لیے سرمائے پر منافع کی مقررہ حدود موجود تھیں، حکومت کو منافع کی ضمانت یا نقصان کی تلافی کی ذمہ داری بھی اٹھانا پڑتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی حکومت ریفائنریوں کے منافع کی ضمانت دیتی تھی، پھر عالمی منڈی کو قیمت کا معیار بنایا گیا۔ قیمت مقرر کرنے کا اختیار کبھی سرکاری وزارتوں، کبھی تیل کمپنیوں کی مشترکہ کمیٹی اور کبھی اوگرا کے پاس رہا۔ لیکن اس طویل سفر میں ایک بنیادی سوال مسلسل موجود رہا،پیٹرول کی قیمت میں عالمی منڈی کا حصہ کتنا ہے اور حکومتی فیصلوں کا کتنا؟
جب حکومت نے منافع کی ضمانت ختم کی
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کے موجودہ تنازع کو سمجھنے کے لیے ہمیں تقریباً تین دہائیاں پیچھے جانا ہوگا۔ اس زمانے میں مقامی ریفائنریوں کی معاشی حیثیت آج سے مختلف تھی۔ حکومت نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر فیصلہ کن اختیار رکھتی تھی بلکہ ریفائنریوں کے منافع اور نقصان کے نظام میں بھی براہِ راست شریک تھی۔آج یہ بات حیران کن معلوم ہو سکتی ہے کہ ایک وقت میں پاکستان کی ریفائنریوں کے لیے سرمائے پر منافع کی مقررہ حدود موجود تھیں۔ بعض انتظامات میں حکومت کو منافع کی ضمانت یا نقصان کی تلافی کی ذمہ داری بھی اٹھانا پڑتی تھی۔ بعد میں یہی نظام تبدیل ہوا اور مقامی ریفائنریوں کی قیمتیں عالمی منڈی میں تیار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے منسلک کر دی گئیں۔ یہ تبدیلی پاکستان کی پیٹرولیم معیشت میں ایک بنیادی موڑ تھا۔اس سے پہلے حکومت کی توجہ صنعت کو مقررہ مالی تحفظ فراہم کرنے پر مرکوز تھی۔ نئے نظام میں صنعت کو بین الاقوامی قیمتوں سے منسلک آمدن کا موقع دیا گیا۔ بظاہر یہ سرکاری کنٹرول سے مارکیٹ کی طرف سفر تھا، لیکن اس کے ساتھ ایک نئی پیچیدگی پیدا ہوئی،جب عالمی منڈی میں قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھیں تو مقامی ریفائنریوں کو حاصل ہونے والی اضافی آمدن کا معاشی جواز کیسے پرکھا جائے ؟اکتوبر 2026کا تنازع اسی تاریخی تبدیلی کی ایک نئی شکل ہے ۔
حکومت اب ریفائنریوں سے کہہ رہی ہے کہ درآمدی مساوی قیمت کے بعض اجزاء سے پیدا ہونے والی اضافی آمدن اپنے پاس رکھنے کے بجائے سرکاری حساب میں جمع کرائیں۔ صنعت کا اعتراض ہے کہ جس قیمت کے اصول کے تحت اسے کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی، اسی کے نتائج اب اچانک تبدیل کیے جا رہے ہیں۔اس اختلاف کو محض حکومت اور صنعت کے مفادات کی کشمکش سمجھنا کافی نہیں۔ اس کے پیچھے پالیسی کی وہ تاریخ موجود ہے جس میں حکومت نے کبھی سرمایہ کار کو منافع کی ضمانت دی، کبھی اسے عالمی منڈی کے حوالے کیا اور کبھی عالمی قیمتوں سے پیدا ہونے والے نتائج کو انتظامی مداخلت کے ذریعے محدود کیا۔
یہ تاریخ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم کی قیمتوں کے فارمولے کسی ایک معاشی نظریے کے تحت مستقل نہیں رہے ۔ مختلف ادوار میں ان کا تعلق مالیاتی ضرورت، درآمدی دباؤ، صنعتی تحفظ اور صارفین کو مہنگائی سے بچانے کی ترجیحات سے بدلتا رہا۔
پہلا دور:ریفائنری کو تحفظ، حکومت کو اختیار
پاکستان کی ابتدائی ریفائننگ صنعت ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھی جہاں سرمایہ، جدید ٹیکنالوجی اور درآمدی خام تیل کی دستیابی محدود تھی۔ ریاست کے سامنے دو بڑے مقاصد تھے ۔ملک میں ریفائننگ کی صلاحیت پیدا کرنا اور ضروری پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی برقرار رکھنا۔اس مقصد کے لیے قیمتوں اور منافع پر سرکاری نگرانی کے ساتھ مالی تحفظ کا طریقہ اختیار کیا گیا۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس، یعنی PIDE، کی محققین حفصہ حنا اور عافیہ ملک کے مطابق 2000کی اصلاحات سے پہلے ریفائنریوں کے لیے سرمائے پر مقررہ منافع کا نظام رائج تھا، جس میں منافع کی حدود 10سے 40فیصد تک تھیں۔ اس نظام میں حکومت کو بعض حالات میں ریفائنریوں کے نقصان کی تلافی بھی کرنا پڑتی تھی۔تاہم اس تاریخی تفصیل میں ایک باریک نکتہ ضروری ہے ۔ اٹک ریفائنری کی جانب سے پاکستان انرجی کانفرنس 2023میں پیش کردہ صنعتی تاریخ کے مطابق 1988تک بعض انتظامات میں 18 فیصد تک مقررہ منافع یا پروسیسنگ فیس کا طریقہ موجود تھا، جبکہ 1993سے 2002کے دوران درآمدی مساوی قیمت کے ساتھ سرمائے پر منافع کی حدود بھی نافذ رہیں۔ 1994کی پیٹرولیم پالیسی میں نئی ریفائنریوں کے لیے مخصوص شرائط کے تحت آٹھ سال تک ادا شدہ سرمائے پر ٹیکس کے بعد کم از کم 25 فیصد منافع کا تحفظ بھی بیان کیا گیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرانے نظام سے نئے نظام کی طرف تبدیلی یکبارگی نہیں ہوئی۔ درآمدی مساوی قیمت اور منافع کی ضمانتوں کے بعض عناصر ایک عرصے تک ساتھ چلتے رہے ۔
یہ فرق اہم ہے ، کیونکہ بعض تاریخی بیانات یہ تاثر دیتے ہیں کہ 2000سے پہلے پاکستان میں صرف لاگت اور مقررہ منافع کا نظام تھا اور اس کے بعد اچانک مکمل درآمدی مساوی قیمت نافذ ہوگئی۔ اصل تاریخ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے ۔سرکاری ضمانتوں کے حق میں دلیل یہ تھی کہ مقامی ریفائننگ کی صنعت کو سرمایہ کاری کے لیے مالی یقین دہانی درکار ہے ۔ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ کاروباری خطرے کا ایک حصہ ریاست برداشت کرتی تھی۔معاشیات میں اسے Moral Hazardکے زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔ جب کسی کاروبار کو معلوم ہو کہ مخصوص حالات میں نقصان کی تلافی حکومت کرے گی تو لاگت کم کرنے ، پیداواری کارکردگی بہتر بنانے اور کاروباری خطرے کے انتظام کی ترغیبات متاثر ہو سکتی ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کی تمام ریفائنریاں لازماً غیر مؤثر تھیں۔ اس کے لیے الگ پیداواری شواہد درکار ہوں گے ۔ البتہ مقررہ منافع کی ضمانت والے نظام میں اس خطرے کا موجود ہونا ایک معروف معاشی حقیقت ہے ۔دوسری جانب حکومت کے لیے بھی یہ انتظام مشکل تھا۔ عالمی قیمتوں، شرحِ مبادلہ اور خام تیل کی لاگت میں تبدیلی کے باوجود صنعت کے مالی تحفظ کی ذمہ داری ریاستی خزانے پر دباؤ ڈال سکتی تھی۔یوں 1990کی دہائی کے آخر تک بنیادی سوال یہ بن چکا تھا کہ کیا حکومت کو ریفائنریوں کے منافع کی ضمانت جاری رکھنی چاہیے ، یا انہیں عالمی مارکیٹ کے معاشی خطرات اور مواقع کے ساتھ منسلک کر دینا چاہیے ؟
دوسرا دور: 2000 کی اصلاحات اور مارکیٹ کی طرف رخ
سن 2000 میں پاکستان نے پیٹرولیم کے شعبے میں ایسی اصلاحات شروع کیں جن کا اعلان کردہ مقصد حکومت کے براہِ راست کردار کو محدود کرنا اور قیمتوں کو مارکیٹ سے منسلک کرنا تھا۔عالمی بینک کی رپورٹ‘‘ پاکستان: آئل اینڈ گیس سیکٹر ریویو’’کے مطابق اس دور میں مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کا فریم ورک اختیار کیا گیا۔ فرنس آئل کی قیمتیں جولائی 2000سے آزاد کی گئیں، جبکہ دیگر مصنوعات کے لیے درآمدی مساوی قیمت، منظور شدہ مارجن اور ٹیکسوں پر مشتمل نظام استعمال ہوا۔یہاں درآمدی مساوی قیمت کا تصور مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔اس نظام میں تیار پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی حوالہ جاتی قیمت، خصوصاً عرب خلیج کی مارکیٹ، کو بنیادی معیار بنایا گیا۔ اس کے ساتھ قابلِ اطلاق نقل و حمل، ضمنی اخراجات اور دوسرے اجزاء شامل کیے جاتے تھے ۔اس تبدیلی کی معاشی منطق یہ تھی کہ اگر پاکستان کو اضافی پیٹرول یا ڈیزل بیرونِ ملک سے خریدنا پڑے تو مقامی پیداوار کی قیمت بھی اس متبادل لاگت سے منسلک ہونی چاہیے ۔لیکن اس نظام نے ایک اہم مالیاتی تعلق بھی تبدیل کیا۔پہلے ریفائنری کے منافع کا تعلق مقررہ سرمائے اور سرکاری تحفظ سے زیادہ تھا۔ نئے نظام میں اس کی آمدن عالمی مصنوعات کی قیمتوں اور منظور شدہ درآمدی مساوی قیمت سے متاثر ہونے لگی۔اس سے صنعت کو بعض حالات میں زیادہ منافع کا موقع ملا، لیکن عالمی منڈی میں ناموافق تبدیلیوں کے خطرات بھی بڑھ گئے ۔اس فیصلے کے معاشی نتائج کو سمجھنے کے لیے ایک اور پہلو اہم ہے ۔درآمدی مساوی قیمت کا اطلاق مقامی ریفائنری کی حقیقی لاگت معلوم کرنے کے لیے نہیں کیا جاتا۔ یہ متبادل درآمدی قیمت کا معیار ہے ۔چنانچہ کسی ریفائنری کا حقیقی ریفائننگ خرچ کم ہو اور عالمی درآمدی مساوی قیمت زیادہ ہو تو دونوں کے درمیان فرق اس کے مارجن کو بہتر بنا سکتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر خام تیل کی لاگت بڑھ جائے اور تیار مصنوعات کی قیمت اس رفتار سے نہ بڑھے تو مارجن سکڑ سکتا ہے ۔
یہی وہ تجارتی خطرہ ہے جو مقررہ منافع کے نظام سے مختلف ہے ۔
تیسرا دور: 2001میں قیمت مقرر کرنے کا اختیار تیل کمپنیوں کے پاس
یکم جولائی 2001 سے پاکستان میں قیمتوں کے تعین کا ایک نیا انتظام سامنے آیا۔حکومت نے آئل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی، یعنی OCAC، کو منظور شدہ فارمولے کے مطابق بعض پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لینے ، تعین کرنے اور اعلان کرنے کی ذمہ داری دی۔PIDEکی تحقیق کے مطابق جولائی 2001سے اپریل 2006تک اس کمیٹی نے موٹر اسپرٹ، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی ایکس ڈپو قیمتیں عموماً پندرہ روزہ بنیاد پر طے کیں۔یہ انتظام معاشی حکمرانی کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔قیمتوں کے تعین میں صنعت کی مشترکہ نمائندہ تنظیم کو کردار دینے سے سرکاری انتظامی بوجھ کم ہو سکتا تھا اور مارکیٹ کی معلومات براہِ راست دستیاب ہو سکتی تھیں۔ لیکن اس کے ساتھ مفادات کے ٹکراؤ کا سوال بھی پیدا ہوتا تھا۔جن کمپنیوں کی کاروباری آمدن قیمتوں اور مارجن سے متاثر ہوتی ہو، ان کی مشترکہ تنظیم کو قیمت کے تعین میں مرکزی کردار دینا مسابقتی نگرانی کا تقاضا بڑھا دیتا ہے ۔اس سے کسی غیر قانونی گٹھ جوڑ کا ثبوت خودبخود نہیں ملتا، لیکن ایسا انتظام مضبوط اور آزاد نگرانی کا محتاج ہوتا ہے ۔عالمی بینک نے بھی اس دور کے پاکستانی پیٹرولیم شعبے میں بنیادی ڈھانچے پر بعض کمپنیوں کی غالب حیثیت اور نئے کاروباری اداروں کے داخلے میں انتظامی رکاوٹوں کی نشاندہی کی تھی۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے ۔قیمتوں کو سرکاری وزارت سے نکال کر صنعتی کمیٹی کے ذریعے مقرر کرنا مکمل مسابقتی منڈی قائم کرنے کے برابر نہیں۔حقیقی مسابقت کے لیے درآمد، ذخیرہ اندوزی کے قانونی معنی میں نہیں بلکہ تجارتی ذخیرہ سازی، ٹرمینل تک رسائی، ترسیل، فروخت اور نئے کاروبار کے داخلے میں مؤثر مقابلہ ضروری ہوتا ہے ۔اگر ان شعبوں میں رکاوٹیں موجود ہوں تو قیمت کے فارمولے کی انتظامی آزادی سے لازماً مسابقتی نتائج حاصل نہیں ہوتے ۔
چوتھا دور:اوگرا کی تشکیل، لیکن اختیار کس کے پاس رہا؟
2002 میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی اوگرا، قائم ہوئی۔ اس کا مقصد پیٹرولیم اور گیس کے شعبوں میں ضابطہ کاری کے لیے ایک مخصوص ادارہ فراہم کرنا تھا۔اپریل 2006میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کی ذمہ داری OCACسے اوگرا کو منتقل کر دی گئی۔یہ تبدیلی بظاہر ادارہ جاتی آزادی کی طرف پیش رفت تھی۔ لیکن اوگرا کے اختیار کی حدود سمجھنا ضروری ہے ۔PIDEکی تحقیق کے مطابق حکومت نے کابینہ کے فیصلے کے ذریعے اوگرا کو اپنے منظور شدہ فارمولے اور پالیسی ہدایات کے تحت قیمتوں کے تعین کا اختیار تفویض کیا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ قیمت کا حساب کرنے والا ادارہ اور قیمت کی بنیادی پالیسی بنانے والا ادارہ مکمل طور پر ایک نہیں تھے ۔حکومت ٹیکسوں، پیٹرولیم لیوی اور بعض دیگر پالیسی اجزاء پر اختیار رکھتی تھی، جبکہ اوگرا مقررہ قواعد کے مطابق حساب اور نگرانی کا کردار ادا کرتا تھا۔
اس فرق کو نظرانداز کرنے سے عوامی بحث میں ایک اہم غلط فہمی پیدا ہوتی ہے ۔ جب قیمت بڑھتی ہے تو اکثر اوگرا کو اس کا ذمہ دار سمجھ لیا جاتا ہے ، حالانکہ قیمت کے بعض بڑے اجزاء حکومتی پالیسی سے متعین ہوتے ہیں۔16اپریل 2006کی ایک معاصر اخباری رپورٹ اس تعلق کو واضح کرتی ہے ۔ اس وقت پیٹرول کی ایکس ڈپو قیمت 56.29روپے فی لیٹر برقرار رکھی گئی، جبکہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 13.86 روپے فی لیٹر تھی۔ حکومت نے عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود صارف قیمت نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔یہ مثال آج کے تنازع کے لیے نہایت اہم ہے ۔حکومت کے پاس عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صارف کو منتقل کرنے کے بجائے اپنی وصولیوں میں ردوبدل کرنے کا اختیار موجود تھا۔ چنانچہ قیمتوں میں استحکام صرف عالمی منڈی کے حالات کا نتیجہ نہیں تھا؛ اس میں حکومتی مالیاتی ترجیحات بھی شامل تھیں۔
2007 اور 2008:جب لیوی نے عالمی مہنگائی کا بوجھ جذب کیا
پاکستان کی پیٹرولیم قیمتوں کی تاریخ میں 2007اور 2008کا دور خاص اہمیت رکھتا ہے ۔اس عرصے میں عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ پاکستان میں بھی درآمدی لاگت بڑھ رہی تھی، لیکن حکومت نے ایک مدت تک صارفین کو اس اضافے سے محفوظ رکھنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی کی۔اوگرا کے تاریخی قیمت ناموں سے مرتب کردہ اعداد کے مطابق 16 جنوری 2007 کو پیٹرول کی قیمت 53.70 روپے فی لیٹر کی گئی، جو ایک طویل مدت تک برقرار رہی۔ اس دوران بنیادی تیل کی لاگت تقریباً 25.97 روپے سے بڑھ کر 41.16 روپے فی لیٹر ہوئی، جبکہ پیٹرولیم لیوی مسلسل کم ہوتی گئی اور جنوری 2008 میں صفر تک پہنچ گئی۔یہ مثال پیٹرول کی قیمت کے ایک بنیادی مالیاتی اصول کو واضح کرتی ہے ۔حکومت عالمی قیمتوں میں اضافے کا اثر تین طریقوں سے سنبھال سکتی ہے : صارف پر منتقل کرے ، اپنی وصولیاں کم کرے ، یا بجٹ اور دوسرے مالیاتی انتظامات کے ذریعے اس کا کچھ حصہ برداشت کرے ۔لیکن اس کی حدود ہیں۔جب لیوی پہلے ہی صفر ہو جائے تو مزید ریلیف کے لیے یا تو دوسری وصولیاں کم کرنا ہوں گی، سبسڈی دینی ہوگی، یا قیمت بڑھنے دینا ہوگی۔ اگر حکومت قیمت کم رکھنے کے لیے مسلسل قرض لے تو مالیاتی دباؤ کسی دوسری شکل میں سامنے آ سکتا ہے ۔اس لیے لیوی میں کمی اور سبسڈی میں بھی فرق ہے ۔ پہلی صورت میں حکومت اپنی ممکنہ آمدن چھوڑتی ہے ؛ دوسری صورت میں اسے اضافی ادائیگی بھی کرنا پڑ سکتی ہے۔یہ تاریخی تجربہ اکتوبر 2026 کے فیصلے کو جانچنے کا ایک اہم معیار فراہم کرتا ہے ۔ ماضی میں حکومت نے عالمی قیمتوں کا بوجھ اپنی لیوی کم کر کے جذب کیا تھا۔ اب اس نے ایک مختلف انتظام اختیار کیا ہے جس میں ریفائنریوں کی آمدن کا حصہ صارفین کے ریلیف سے منسلک کیا گیا ہے ۔دونوں طریقوں میں صارف کی فوری قیمت ایک جیسی رہ سکتی ہے ، لیکن مالی بوجھ اٹھانے والا فریق مختلف ہوتا ہے ۔
پانچواں دور: 2011اور 2012کی ڈی ریگولیشن کا تضاد
2011 میں پاکستان نے موٹر اسپرٹ، ہائی آکٹین بلینڈنگ کمپوننٹ، لائٹ ڈیزل آئل اور بعض ہوابازی کے ایندھن کی قیمتوں کے نظام میں مزید ڈی ریگولیشن کی۔ستمبر 2012 میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت بھی ڈی ریگولیٹ کی گئی۔PIDEکے مطابق ان تبدیلیوں کے بعد ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو متعلقہ مصنوعات کی ایکس ریفائنری اور ایکس ڈپو قیمتیں مقرر کرنے اور اعلان کرنے کا کردار دیا گیا، لیکن یہ اختیار منظور شدہ قیمتوں کے فریم ورک کے اندر استعمال ہوتا تھا۔یہاں لفظ Deregulationکی تشریح نہایت ضروری ہے ۔کسی شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کا اس سے تمام تعلق ختم ہوگیا۔ قیمت کے بعض اجزاء مارکیٹ سے منسلک ہو سکتے ہیں، لیکن ٹیکس، معیار، ذخائر، درآمدی اجازت، ترسیل اور صارف کے لیے زیادہ سے زیادہ قیمت کے قواعد برقرار رہ سکتے ہیں۔پاکستان میں یہی ہوا۔قیمتوں کا کچھ نظام مارکیٹ سے منسلک ہوا، لیکن بنیادی ضابطہ کاری اور سرکاری مالیاتی اختیار موجود رہا۔اس انتظام کو مکمل آزاد منڈی کہنا درست نہیں۔ اسے مختلف ادوار میں جزوی ڈی ریگولیشن یا نیم منضبط قیمتوں کا نظام کہنا زیادہ مناسب ہے ۔یہ تضاد بعد کے بحرانوں میں بار بار سامنے آیا۔ کمپنیاں بعض قیمتوں کو مارکیٹ سے منسلک سمجھتی رہیں، جبکہ حکومت صارف قیمت اور سپلائی کے بارے میں انتظامی فیصلے کرتی رہی۔اس نظام میں ذمہ داری کا تعین مشکل ہو سکتا ہے : قیمت بڑھنے پر عالمی منڈی کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ، سپلائی متاثر ہونے پر کمپنیوں کو، اور مالی دباؤ پیدا ہونے پر حکومت کو۔لیکن یہ تینوں ایک ہی معاشی نظام کے باہم منسلک حصے ہیں۔
پی ایس او کی درآمدی قیمت: ایک پرانا سوال
آج پی ایس او کے کارگو کی حقیقی لاگت کو قیمت کا معیار بنانے کی بات ایک نئی اصلاح کے طور پر پیش کی جا رہی ہے ، لیکن اس کی تاریخی جڑیں پرانی ہیں۔2020کے پیٹرول بحران پر قائم تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس وقت ایکس ریفائنری قیمت کا حساب پی ایس او کے گزشتہ مہینے بندرگاہ پہنچنے والے درآمدی کارگو کی وزنی اوسط لاگت کی بنیاد پر ہوتا تھا۔رپورٹ کے مطابق پی ایس او کی خریداری میں بین الاقوامی Platts حوالہ جاتی قیمتوں کی مخصوص مدت کی اوسط، شرحِ مبادلہ اور دوسرے قابلِ اطلاق اجزاء شامل ہوتے تھے۔یہ ایک نہایت اہم تاریخی حقیقت ہے ۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ پی ایس او کی حقیقی درآمدی لاگت کو قیمت کے تعین میں استعمال کرنا 2026 میں پہلی بار متعارف نہیں ہوا۔ البتہ 2026 کے نئے انتظام میں استعمال ہونے والے کارگو، حساب کی مدت، مخصوص اجزاء اور ریفائنریوں سے فرق وصول کرنے کا طریقہ پہلے کے انتظام سے مختلف ہے ۔اس لیے یہ دعویٰ کہ نئے فارمولے نے پہلی مرتبہ فرضی قیمتوں کے بجائے حقیقی درآمدی قیمت متعارف کرائی، تاریخی تناظر میں محدود تشریح کا محتاج ہے ۔اصل سوال یہ ہے کہ پہلے کون سی لاگت استعمال ہوتی تھی، اب کون سی استعمال ہوگی، اور دونوں طریقوں کے نتیجے میں قیمت کا کتنا فرق پیدا ہوتا ہے ۔
2020 کا پیٹرول بحران: قیمت اور سپلائی کا خطرناک تعلق
جون 2020 میں پاکستان کو پیٹرول کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بحران اس بات کی مثال بن گیا کہ قیمت کے تعین کا نظام صرف صارف کی ادائیگی ہی نہیں بلکہ کمپنیوں کے درآمدی فیصلوں کو بھی متاثر کرتا ہے ۔کورونا وبا اور عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید کمی کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں کم کی گئیں۔ لیکن عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، موجودہ ذخائر کی لاگت اور مستقبل کی قیمتوں کے بارے میں غیر یقینی صورت حال نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے تجارتی فیصلوں پر اثر ڈالا۔پیٹرولیم ڈویژن کے سرکاری بیان کے مطابق بعض کمپنیوں نے نقصان کے خدشے کے باعث مطلوبہ مقدار میں پیٹرول درآمد نہیں کیا، جسے حکومت نے لائسنس کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پی ایس او نے اس دوران سپلائی کی کمی پوری کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اس بحران کی معاشی اہمیت یہ ہے کہ اگر حکومت آج صارف قیمت کم کر دے ، لیکن کمپنیوں کے پاس موجود ذخیرہ زیادہ قیمت پر خریدا گیا ہو تو فوری فروخت سے انہیں نقصان ہو سکتا ہے ۔اس کے برعکس اگر کمپنی نے سستا ذخیرہ خریدا ہو اور قیمت بڑھ جائے تو اسے فائدہ مل سکتا ہے ۔اس لیے قیمت کے فارمولے میں صرف عالمی مارکیٹ کی تازہ قیمت دیکھنا کافی نہیں۔ ذخیرے کی حقیقی لاگت، مطلوبہ ذخیرہ برقرار رکھنے کی ذمہ داری اور نئی درآمد کے لیے مالی ترغیب بھی اہم ہیں۔
2020 کا تجربہ بتاتا ہے کہ قیمت کا ایسا نظام جس میں صارف کے لیے فوری ریلیف تو موجود ہو لیکن سپلائی برقرار رکھنے کی معاشی ترغیبات کمزور ہوں، قلت کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے ۔اس سے کمپنیوں کی قانونی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی، مگر یہ واضح ہوتا ہے کہ قیمت اور سپلائی کو الگ الگ سمجھ کر پالیسی بنانا خطرناک ہو سکتا ہے۔
2023 سے 2026:جب حکومت نے ریفائنریوں کے لیے نئی مالی ترغیبات دیں
پاکستان کی پیٹرولیم قیمتوں کی تاریخ کا ایک اور اہم باب 2023 کی ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی ہے ۔حکومت کا مقصد پرانی ریفائنریوں کو جدید بنانا، یورو فائیو معیار کے ایندھن کی پیداوار بڑھانا اور زیادہ سلفر والے فرنس آئل کی پیداوار کم کرنا تھا۔اس مقصد کے لیے Deemed Duty یا تصوراتی ڈیوٹی کی صورت میں مالی ترغیبات متعارف کرائی گئیں۔یہ اصطلاح خاص توجہ چاہتی ہے ۔ تصوراتی ڈیوٹی لازماً وہ کسٹمز ڈیوٹی نہیں ہوتی جو کسی مخصوص مقامی ریفائنری نے تیار مصنوعات کی درآمد پر ادا کی ہو۔ یہ قیمت کے نظام میں منظور شدہ ایک ایسا مالی فائدہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد مقامی صنعت کو تحفظ یا سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ہو۔2023کی پالیسی اور فروری 2024 کی ترامیم کے تحت پیٹرول اور ڈیزل پر اضافی ترغیبات کا انتظام کیا گیا، جن کی مخصوص رقوم ریفائنری اپ گریڈیشن کے لیے مشترکہ ایسکرو اکاؤنٹس میں جمع ہونی تھیں۔ ان فنڈز کا استعمال منصوبوں کی پیش رفت اور طے شدہ شرائط سے منسلک تھا۔یہاں ایک اہم معاشی فرق سامنے آتا ہے ۔اگر حکومت کسی ریفائنری کو مخصوص ڈیوٹی نما مالی فائدہ دے اور اس کے بدلے جدید مشینری لگانے ، معیار بہتر بنانے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کی پابندی عائد کرے تو یہ ایک مشروط صنعتی ترغیب ہے ۔لیکن اگر ایسی رقم طویل مدت تک وصول ہوتی رہے اور اس کے بدلے سرمایہ کاری، کارکردگی یا معیار میں مطلوبہ بہتری نہ آئے تو پالیسی کے معاشی نتائج پر سوال اٹھنا فطری ہے ۔
ستمبر 2026میں حکومت نے ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی میں مزید تبدیلیاں کیں۔ ان میں نئے معاہدوں کی مدت، مالی ترغیبات کے انتظام اور منصوبوں کی نگرانی سے متعلق شرائط شامل تھیں۔ اس عرصے کی رپورٹنگ میں تقریباً چھ ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کا حوالہ بھی دیا گیا، لیکن یہ مجوزہ سرمایہ کاری تھی، مکمل شدہ منصوبوں کی مالیت نہیں۔اس پس منظر میں اکتوبر 2026کا فیصلہ ایک نئی اہمیت اختیار کرتا ہے۔حکومت ایک طرف ریفائنریوں کو جدید بنانے کے لیے مالی ترغیبات فراہم کر رہی تھی اور دوسری طرف غیر معمولی درآمدی پریمیم کے اثرات سے صارفین کو بچانے کے لیے ان کی وصولیوں پر پابندی لگا رہی تھی۔دونوں فیصلوں کے مقاصد مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا مجموعی اثر ایک ہی صنعت کی مالی حالت اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر پڑتا ہے ۔اس لیے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ ریفائنریوں نے گزشتہ سہ ماہی میں کتنا منافع کمایا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ انہیں کون سی مالی ترغیبات کن شرائط پر دی گئیں، ان میں سے کتنی رقم مخصوص منصوبوں کے لیے محفوظ ہے اور کتنی رقم آزادانہ کاروباری منافع کی صورت میں دستیاب ہے ۔
ایک ہی نظام میں چار مختلف مفادات
پاکستان کی پیٹرولیم قیمتوں کی تاریخ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ قیمت کے ہر فارمولے کے پیچھے چار معاشی مفادات بیک وقت موجود رہے ہیں۔حکومت کو مالی آمدن اور صارف قیمتوں میں استحکام درکار ہوتا ہے ۔ ریفائنریاں اپنی لاگت، سرمایہ کاری اور منافع کا تحفظ چاہتی ہیں۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے درآمد، ذخیرہ سازی اور فروخت کے مارجن اہم ہیں۔ صارف کو مناسب قیمت اور بلا تعطل سپلائی چاہیے ۔ان مقاصد میں لازماً تصادم نہیں، لیکن ہر وقت مکمل ہم آہنگی بھی ممکن نہیں۔مثلاً درآمدی مساوی قیمت مقامی ریفائننگ کی معاشی قدر برقرار رکھ سکتی ہے ، لیکن اس سے صارف کو فوری طور پر کم قیمت کی ضمانت نہیں ملتی۔ اسی طرح لیوی میں کمی صارف کو ریلیف دے سکتی ہے ، مگر حکومت کی آمدن کم ہو سکتی ہے ۔قیمت پر انتظامی پابندی وقتی استحکام فراہم کر سکتی ہے ، لیکن اگر اس سے درآمد کنندہ کی حقیقی لاگت پوری نہ ہو تو سپلائی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔اس لیے کسی ایک فریق کے فائدے یا نقصان کو پورے نظام کی کامیابی یا ناکامی کا حتمی معیار نہیں بنایا جا سکتا۔اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ آیا قیمت کا نظام حقیقی معاشی لاگت کی درست نمائندگی کرتا ہے ، مناسب مسابقت برقرار رکھتا ہے ، صارف کو قابلِ اعتماد سپلائی فراہم کرتا ہے اور سرکاری وصولیوں کو شفاف بناتا ہے ۔
تاریخی ریکارڈ کا ایک اور سبق:حساب کی شفافیت
پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں کا ایک اہم مسئلہ بنیادی حسابات تک عوامی رسائی بھی ہے ۔اوگرا کے 2006سے 2011کے تاریخی قیمت ناموں میں ایکس ریفائنری قیمت، لیوی، فریٹ، آئل مارکیٹنگ کمپنی اور ڈیلر کے مارجن اور سیلز ٹیکس جیسے اجزاء الگ الگ دکھائے جاتے تھے ۔ان ریکارڈز کی ایک آزاد ڈیٹا آرکائیو نے 2006 سے آگے کے تاریخی قیمت ناموں کو مرتب کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ 2011 کے بعد پیٹرول کے مکمل سرکاری قیمت اجزاء کا مسلسل یکساں ریکارڈ دستیاب نہیں رہا، جبکہ جولائی 2026 سے روزانہ تفصیلی حسابات دوبارہ مرتب کیے جا رہے ہیں۔یہاں احتیاط ضروری ہے ،کسی ایک سرکاری ویب سائٹ پر مسلسل تاریخی ریکارڈ دستیاب نہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ متعلقہ حساب کبھی تیار ہی نہیں ہوا۔لیکن عوامی نگرانی کے لیے ریکارڈ کا آسان، مستقل اور قابلِ تصدیق ہونا ضروری ہے ۔ایک مؤثر نظام میں ہر قیمت کی تبدیلی کے ساتھ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ عالمی مصنوعات کی قیمت میں کتنا فرق آیا، شرحِ مبادلہ نے کتنا اثر ڈالا، درآمدی پریمیم اور فریٹ میں کیا تبدیلی ہوئی، حکومت کی وصولیوں میں کیا ردوبدل ہوا اور مختلف کاروباری مارجن کتنے رہے ۔اس کے بغیر قیمت میں اضافے یا کمی کے بارے میں مختلف دعووں کی آزادانہ تصدیق مشکل رہتی ہے ۔
تاریخ کا حاصل: فارمولے بدلے ، بنیادی سوال برقرار رہا
پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا تاریخی سفر ایک واضح ترتیب دکھاتا ہے ۔پہلے ریفائنریوں کے لیے مقررہ منافع اور سرکاری تحفظ کے انتظامات تھے ۔ پھر درآمدی مساوی قیمت کا اصول زیادہ نمایاں ہوا۔ 2001 میں قیمتوں کے تعین میں صنعت کی مشترکہ کمیٹی کو کردار ملا۔ 2006 میں یہ ذمہ داری اوگرا کو منتقل ہوئی۔ 2011 اور 2012 میں مزید ڈی ریگولیشن کی گئی، مگر حکومتی مالیاتی اور انتظامی اختیار برقرار رہا۔2020کے بحران نے قیمت اور سپلائی کے باہمی تعلق کو نمایاں کیا۔ 2023 سے ریفائنریوں کی جدید کاری کے لیے نئی مالی ترغیبات سامنے آئیں۔ اور اکتوبر 2026 میں حکومت نے درآمدی قیمت کے بعض اجزاء سے پیدا ہونے والی اضافی آمدن کو صارفین کے ریلیف سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا۔اس پوری تاریخ میں ایک بنیادی سوال مسلسل موجود رہا ہے : قیمت کا کون سا حصہ عالمی منڈی کی حقیقی لاگت سے پیدا ہوتا ہے ، کون سا حصہ سرکاری پالیسی کا نتیجہ ہے ، اور کون سا حصہ مختلف کاروباری اداروں کی آمدن بنتا ہے ؟
یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قیمت کے فارمولے میں تبدیلی ہمیشہ کسی ایک فریق کے مفاد میں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات حکومت صارف کو تحفظ دینے کے لیے اپنی آمدن کم کرتی ہے ۔ کبھی مقامی صنعت کو سرمایہ کاری کی ترغیب دیتی ہے ۔ کبھی درآمدی لاگت کا بوجھ صارف پر منتقل کرتی ہے ۔ اور کبھی قیمت کے مخصوص اجزاء سے حاصل ہونے والی آمدن کی تقسیم بدل دیتی ہے ۔لیکن ان تمام فیصلوں کی معاشی جانچ کے لیے ایک مشترک شرط ضروری ہے : قیمت کے ہر جزو، اس کی قانونی بنیاد اور اس کے مالی اثرات کا مکمل اور قابلِ تصدیق حساب۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی پیٹرولیم قیمتوں کی تاریخ موجودہ تنازع کو سمجھنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے ۔30اکتوبر 2026کا فیصلہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔ یہ ایک ایسے نظام کی تازہ تبدیلی ہے جس میں حکومت کئی دہائیوں سے مارکیٹ کی قیمت، صنعتی تحفظ اور سرکاری مالیاتی ضرورت کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے ۔مگر اس تاریخ سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے ،کسی فارمولے کو مارکیٹ پر مبنی قرار دینا کافی نہیں، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مارکیٹ کا خطرہ کس کے حصے میں آتا ہے ، منافع کس کو ملتا ہے اور حکومت کب اور کس بنیاد پر مداخلت کرتی ہے ۔یہ سوال اب پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے ، کیونکہ موجودہ تنازع صرف قیمت کے تعین کا نہیں، بلکہ ریفائنریوں کے غیر معمولی منافع، سرکاری وصولیوں اور صارفین کو دیے جانے والے ریلیف کی حقیقی مالی تقسیم کا بھی ہے ۔اور اسی تقسیم کا حساب اگلی قسط کا موضوع ہوگا۔
٭٭٭


