سندھ بلڈنگ، وسطی میں غیرمحفوظ اونچی عمارتوں کا ذمہ دار کون؟
شیئر کریں
لیاقت آباد نمبر 3، پلاٹ نمبر ڈی 465 پر چوتھی منزل کی تعمیر، مکینوں کو تشویش
عامر علی، ضیاء کالا گٹھ جوڑ، غیر قانونی تعمیرات کو فروغ حاصل، ڈی جی کی چشم پوشی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسطی میں کمزور اور غیرمحفوظ عمارتوں پر اضافی منزلوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہونے سے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ لیاقت آباد نمبر 3، پلاٹ نمبر ڈی 465 پر مبینہ طور پر چوتھی منزل کی تعمیر کا معاملہ بھی سامنے آگیا، جس پر علاقہ مکینوں نے متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ عمارت پر اضافی منزل کی تعمیر کے حوالے سے تعمیراتی اجازت، منظور شدہ نقشے اور عمارت کی ساخت کی مضبوطی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گنجان آباد علاقے میں پہلے سے موجود عمارتوں پر اضافی بوجھ ڈالنا کسی ممکنہ حادثے کا سبب بن سکتا ہے ۔
مکینوں کا موقف ہے کہ کمزور عمارت پر اضافی منزل سے جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے ، متعلقہ ادارے فوری معائنہ کرکے قانون کے مطابق کارروائی کریں۔دوسری جانب ذرائع کی جانب سے بلڈنگ انسپکٹر عامر علی اور ضیاء کالا کے مبینہ گٹھ جوڑ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مبینہ طور پر اس گٹھ جوڑ کے باعث علاقے میں غیرقانونی تعمیرات کو فروغ مل رہا ہے ۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ شہری حلقوں کی جانب سے متعلقہ ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد پر بھی مبینہ طور پر معاملے پر چشم پوشی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے ۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ لیاقت آباد میں جاری اضافی تعمیرات کا ریکارڈ اور منظور شدہ نقشے چیک کیے جائیں اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر ڈی 465 سمیت علاقے کی کمزور عمارتوں کا فوری تکنیکی معائنہ کرایا جائے اور کسی ممکنہ حادثے سے قبل حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔


