افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں
شیئر کریں
پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے فضائی حدود میں بھیجے گئے 8 ڈرونز کو مار گرا کر دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ ڈرونز آج صبح پاکستان کی فضائی حدود کی جانب بھیجے گئے تھے، جنہیں پاک فضائیہ کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے بروقت ڈیٹیکٹ کیا اور کارروائی کرتے ہوئے تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا، 4 ڈرونز طورخم بارڈر سے ملحقہ علاقوں جبکہ مزید 4 ڈرونز کوہاٹ سے متصل سرحدی پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے۔ تباہ شدہ ڈرونز کا ملبہ تحویل میں لینے کا عمل جاری ہے۔ پاک افغان سرحد پر پاک فضائیہ کی نگرانی میں دفاعی نظام ہمہ وقت فعال اور تیار ہے، ڈرونز کی دراندازی افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی معاونت اور سرپرستی کی نشاندہی کرتی ہے۔ گزشتہ رات پاکستانی فورسز نے کرم سیکٹر میں افغان طالبان کے مورچوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا تھا۔پاکستان نے ایک روز قبل کہا تھا کہ اس نے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی حملے کیے، جنہیں پاکستان کے مطابق ڈرونز ذخیرہ کرنے اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ حملے ‘دانستہ، انتہائی درستگی کے حامل، نپے تلے اور متناسب’ تھے اور انہیں ایسے شناخت شدہ فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جن کا پاکستان کے خلاف حملوں کی کوششوں سے براہ راست تعلق تھا۔ اس سے قبل افغان سرزمین سے پاکستان کی جانب بھیجے گئے آٹھ ڈرونز بھی مار گرائے گئے تھے۔ حکام کے مطابق چار ڈرونز طورخم سے ملحقہ علاقوں جبکہ چار کوہاٹ کے قریب پہاڑی سرحدی علاقوں میں گرائے گئے۔
افغان طالبان حکومت نے پاکستانی فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ قندھار، پکتیا اور خوست میں حملوں کے نتیجے میں چار شہری ہلاک ہوئے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملوں کو افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مناسب جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔پاکستان متعدد مواقع پر افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان مخالف عسکریت پسند گروہوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کو علاقائی اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف عالمی طاقتیں اس صورتحال پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
یورپی یونین کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان جِل برٹران نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ افغانستان میں فتنہ الخوارج سمیت متعدد عالمی دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں، جو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں جب پاکستان کو دہشتگردی کے شدید چیلنجز کا سامنا ہے، وہ خاموش نہیں رہ سکتا اور اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔یورپی یونین داعشِ خراسان کو افغانستان سے ابھرنے والا ایک بڑا عالمی دہشتگرد خطرہ تصور کرتی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر روس، چین، امریکہ اور یورپی یونین سمیت متعدد عالمی قوتیں پہلے ہی اپنے خدشات کا اظہار کر چکی ہیں۔ماہرین کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشتگردی کے اثرات خطے کے امن و استحکام پر براہ راست پڑ رہے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
افغانستان میں موجود دہشتگرد نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پورے خطے کیلئے بڑا خطرہ ہے۔عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق عالمی برادری کو خطرے کی شدت تسلیم کرنے کیلئے مزید کتنی دہشت گردی اور درکار ہے؟ دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کے واضح ثبوتوں کے باوجود دنیا کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔افغان طالبان سے عبوری تعلقات کے باوجود بعض ممالک کے سکیورٹی ادارے شدید تشویش کا شکار ہیں، افغانستان میں خواتین کو کم بنیادی حقوق دیئے جاتے ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، عالمی برادری کوافغان طالبان کی دہشت گردانہ پالیسیوں کیخلاف زبانی جمع خرچ کے بجائے سخت ترین رویہ اپنانا ہوگا۔اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکومت کے زیرِ اقتدار افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جو پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے خلاف سرگرم ہیں۔ طالبان نے دوحہ امن معاہدے کے تحت یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین دہشتگردی اور سرحد پار حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی، تاہم حالیہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ القاعدہ اور طالبان کے روابط بدستور قائم ہیں، بلکہ یہ تعلقات پہلے سے زیادہ فعال ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں ایمن الظواہری کی کابل میں ہلاکت کو اس بات کا ثبوت قرار دیا گیا کہ القاعدہ کے نیٹ ورک اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں زابل، وردک، قندھار، پکتیا اور ہلمند کے راستوں سے بلوچستان میں داخل ہوتی ہیں۔ طالبان حکومت کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج کی سرگرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں، جبکہ اس کے سربراہ نور ولی محسود کو ہر ماہ 50 ہزار 500 امریکی ڈالر فراہم کیے جاتے ہیں۔ محسود کے قبضے میں امریکی افواج کے چھوڑے گئے جدید ہتھیار بھی موجود ہیں۔ جعفر ایکسپریس دھماکے اورژوب کنٹونمنٹ حملوں میں افغانستان سے منسلک ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے ہیں۔
٭٭٭


