میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026:پولیس کی کمان کا سوال یا صوبائی اختیار کی نئی حد بندی؟

خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026:پولیس کی کمان کا سوال یا صوبائی اختیار کی نئی حد بندی؟

جرات ڈیسک
منگل, ۲۹ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

باسط علی
۔۔۔۔۔

٭مجوزہ قانون ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی شدید ہے ، تحریک انصاف کی قیادت وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے

٭خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017کا بنیادی تصور یہ تھا کہ پولیس کو سیاسی حکومت سے مکمل طور پر کاٹ دینا نہیں، بلکہ سیاسی حکومت کی پالیسی نگرانی اور پولیس کی روزمرہ عملی کمان کے درمیان ایک حد قائم کرناہے

٭صوبائی حکومت کے مطابق مجوزہ قانون کا مقصد پولیس کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے زیادہ جواب دہ، پیشہ ور اور مؤثر بنانا ہے ۔ اس کے لیے دو الگ ادارہ جاتی فورم تجویز کیے گئے ہیں،پولیس پالیسی بورڈ، پولیس عملیاتی بورڈ

٭‘‘پولیس کی خودمختاری ’’کی اصطلاح غلط فہمی پیدا کرتی ہے ۔پولیس کسی جمہوری ریاست میں حکومت سے آزاد ریاست نہیں ہوتی، پولیس کو قانون، حکومت کی عمومی پالیسی اور پارلیمانی نگرانی کے تابع ہونا چاہیے

٭صوبائی حکومت کے مطابق اگر صوبائی پولیس افسر کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہو تو حکومت وفاقی حکومت سے اس کی خدمات واپس لینے یا نئے افسر کی تعیناتی کے لیے کارروائی کر سکتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیبر پختونخوا میں پولیس کے لیے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026بظاہر پولیس کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کا معاملہ ہے ، لیکن اس کے اندر چھپا اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے، صوبائی حکومت اور پولیس کے درمیان اختیار کی آئینی حد کہاں ختم ہوتی ہے ، اور پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری کہاں سے شروع ہوتی ہے ؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہو گیا ہے کہ مجوزہ قانون ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی شدید ہے ، تحریک انصاف کی قیادت وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے ، پولیس اور انتظامیہ کے کردار پر دونوں جانب سے سوال اٹھ رہے ہیں، اور فروری 2026میں پشاور ہائی کورٹ پہلے ہی یہ واضح کر چکی ہے کہ سیاسی حکومت کی عمومی نگرانی اور پولیس کے روزمرہ انتظامی معاملات بالخصوص اعلیٰ افسران کی تعیناتی و تبادلے ایک ہی چیز نہیں ہیں۔

اس لیے اس قانون کو صرف اس سوال سے دیکھنا کہ ‘‘پولیس کس کے کنٹرول میں ہوگی’’؟مسئلے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے ۔ اصل بحث پانچ الگ مگر باہم مربوط دائروں پر مشتمل ہے :پالیسی سازی، عملی کمان، افسران کی تعیناتی و تبادلے ، مالی و انتظامی اختیار، اور احتساب۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں 2017کے پولیس قانون، 2024کی ترامیم، فروری 2026کے عدالتی فیصلے اور اب زیرِ بحث 2026 کے مجوزہ قانون کو ایک مسلسل قانونی سفر کے طور پر دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے ۔

2017 سے 2026 تک:اصل تنازع کہاں سے پیدا ہوا؟
خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017کا بنیادی تصور یہ تھا کہ پولیس کو سیاسی حکومت سے مکمل طور پر کاٹ دینا نہیں، بلکہ سیاسی حکومت کی پالیسی نگرانی اور پولیس کی روزمرہ عملی کمان کے درمیان ایک حد قائم کرناہے ۔اصل قانون میں صوبائی پولیس افسر، یعنی پولیس کے سربراہ، کو پولیس کی انتظامی کمان کے حوالے سے اہم اختیارات دیے گئے تھے ۔ قانون میں پولیس سربراہ کی تعیناتی، اختیارات، مختلف سطحوں کے افسران کی تعیناتی، ضلعی پولیس کی ذمہ داری اور تفتیشی نظام سے متعلق الگ دفعات موجود تھیں۔یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے ۔

جمہوری نظام میں پولیس منتخب حکومت کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے ۔ حکومت امن و امان کی ترجیحات طے کر سکتی ہے ، بجٹ دے سکتی ہے ، پالیسی بنا سکتی ہے اور پولیس کی کارکردگی کا احتساب کر سکتی ہے ۔ لیکن اگر یہی حکومت یہ طے کرنے لگے کہ کون سا ضلعی پولیس افسر کس ضلع میں لگے گا، کس افسر کا تبادلہ کب ہوگا اور کون سا افسر کس سیاسی یا انتظامی شخصیت کی ہدایت پر کام کرے گاتو یہ نگرانی سے آگے بڑھ کر عملی کمان میں مداخلت بن سکتی ہے ۔فروری 2026میں پشاور ہائی کورٹ نے اسی فرق کو خاص طور پر نمایاں کیا۔ عدالت نے 2024کی ان ترامیم کو کالعدم قرار دیا جن کے ذریعے اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتی کے لیے وزیر اعلیٰ کی منظوری لازم کی گئی تھی اور پولیس سربراہ کے بعض انتظامی اختیارات محدود ہوئے تھے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ وزیر اعلیٰ پولیس کی ترجیحات متعین کر سکتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ کہ کسی ضلع میں کون سا ڈی پی او، ایس پی یا ایس ایس پی تعینات ہو گا اور اس کا تبادلہ کب اور کیسے ہو گا، پولیس کے انتظامی دائرے میں آتا ہے ۔یہ فیصلہ موجودہ تنازع کی سب سے اہم قانونی بنیاد ہے ۔کیونکہ اب سوال یہ نہیں رہتا کہ حکومت کو پولیس پر کوئی اختیار ہونا چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ بنتا ہے کہ حکومت کا اختیار ،نگرانی تک ہے یاعملی کمان تک بھی پھیل سکتا ہے ۔

مجوزہ 2026 قانون کیا تبدیل کرنا چاہتا ہے ؟
خیبر پختونخوا کابینہ نے ستمبر 2026میں پولیس ایکٹ 2026کی منظوری دی ہے ، لیکن دستیاب معلومات کی بنیاد پر اس وقت بھی قانون کی ہر شق کا حتمی اور مکمل عوامی متن سامنے نہیں آیا تھا۔ اس لیے اس کی بعض تفصیلات کو قطعی قانونی حکم کے بجائے کابینہ کی منظوری اور صوبائی حکومت کی جاری کردہ وضاحتوں کے طور پر دیکھنا چاہیے ۔صوبائی حکومت کے مطابق مجوزہ قانون کا مقصد پولیس کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے زیادہ جواب دہ، پیشہ ور اور مؤثر بنانا ہے ۔ اس کے لیے دو الگ ادارہ جاتی فورم تجویز کیے گئے ہیں:
پولیس پالیسی بورڈ، جس کی سربراہی وزیر اعلیٰ کریں گے ، اور
پولیس عملیاتی بورڈ، جس کی سربراہی صوبائی پولیس افسر کریں گے ۔
صوبائی حکومت کے مطابق اس تقسیم کا مقصد پالیسی اور عملی امور کو الگ کرنا ہے ۔ پولیس سربراہ سالانہ پولیسنگ منصوبہ تیار کرے گا، جس میں ترجیحات، اہداف اور کارکردگی کے مقاصد شامل ہوں گے ، اور یہ منصوبہ پالیسی بورڈ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔یہ تصور اصولی طور پر قابلِ فہم ہے حکومت پالیسی طے کرے اور پولیس اس پالیسی پر عمل کرے ۔لیکن یہاں اصل قانونی مسئلہ ایک ہی جملے میں چھپا ہوا ہے ۔اگر پولیس سربراہ کے انتظامی، مالی اور عملی فیصلے بھی حکومتی منظوری یا وزیر اعلیٰ کی ہدایات سے مشروط ہوں تو پھر پالیسی اور عمل کے درمیان لکیر کتنی واضح رہتی ہے ؟
دستیاب مسودے کی تفصیلات کے مطابق پولیس کی انتظامیہ پولیس سربراہ کے پاس رہے گی، مگر اس کے عملی، مالی اور انتظامی اختیارات حکومت یا وزیر اعلیٰ کی پالیسی اور ہدایات کے تابع ہوں گے ۔ اسی طرح ریجنل اور ضلعی پولیس افسران کے تبادلے و تعیناتیاں پولیس سربراہ کرے گا مگر ان کے لیے وزیر اعلیٰ کی منظوری کا عنصر شامل ہو گا۔یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ قانون اور مجوزہ قانون کے درمیان اصل فرق پیدا ہوتا ہے ۔

پولیس کی خودمختاری کا مطلب حکومت سے آزادی نہیں
اس پوری بحث میں ‘‘پولیس کی خودمختاری ’’کی اصطلاح بعض اوقات غلط فہمی پیدا کرتی ہے ۔پولیس کسی جمہوری ریاست میں حکومت سے آزاد ریاست نہیں ہوتی۔ پولیس کو قانون، حکومت کی عمومی پالیسی اور پارلیمانی نگرانی کے تابع ہونا چاہیے ۔ اس کا بجٹ عوامی نمائندوں کے ذریعے منظور ہوتا ہے اور اس کی کارکردگی کا جواب بھی منتخب حکومت کو دینا پڑتا ہے ۔لیکن جوابدہی اور عملی خودمختاری ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ایک پیشہ ور پولیس نظام میں حکومت یہ کہہ سکتی ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائی ترجیح ہے ، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں، شہری جرائم پر توجہ بڑھائی جائے یا خواتین کے خلاف جرائم کی تفتیش بہتر کی جائے ۔ مگر حکومت کا یہ کہنا کہ اس ضلع میں فلاں افسر لگاؤ اور فلاں کو ہٹاؤایک مختلف نوعیت کا اختیار ہے ۔

فروری 2026کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی اہمیت یہی ہے ۔ عدالت نے حکومت کی نگرانی کو ختم نہیں کیا؛ اس نے نگرانی اور روزمرہ انتظامیہ کے درمیان حدقائم کرنے کی کوشش کی۔ عدالت کے مطابق حکومت پولیس کی ترجیحات مقرر کر سکتی ہے ، لیکن فیلڈ کمانڈروں کی تعیناتی اور تبادلہ پولیس انتظامیہ کے دائرے میں رہنا چاہیے ۔لہٰذا موجودہ تنازع میں یہ کہنا کہ ‘‘صوبائی حکومت پولیس کو اپنے تابع کرنا چاہتی ہے ’’ایک سیاسی تعبیر ہے ، اسے حتمی قانونی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح یہ کہنا بھی کافی نہیں کہ ‘‘یہ محض انتظامی اصلاح ہے ’’۔ اصل فیصلہ قانون کی شقوں اور ان کے عملی اثرات سے ہو گا۔

سب سے حساس نکتہ: تعیناتیاں اور تبادلے
پولیس کے ادارہ جاتی کردار میں سب سے طاقتور انتظامی آلہ افراد کی تعیناتی اور تبادلہ ہے۔ اگر ایک ضلعی پولیس افسر کو معلوم ہو کہ اس کی مدتِ تعیناتی اس کے پیشہ ورانہ سربراہ کے بجائے سیاسی قیادت کی منظوری سے وابستہ ہے تو اس کے فیصلہ سازی کے رویے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ لازماً ہر افسر کے بارے میں سیاسی جانبداری کا ثبوت نہیں، لیکن ادارہ جاتی ڈھانچے میں مراعات اور سزا کے ذرائع کس کے ہاتھ میں ہیں، یہ ہمیشہ اہم ہوتا ہے ۔پشاور ہائی کورٹ نے فروری کے فیصلے میں اسی خدشے کو واضح کیا تھا کہ اگر سیاسی انتظامیہ فیلڈ کمانڈروں کے تبادلوں پر براہِ راست قابض ہو جائے تو افسران پولیس کے پیشہ ورانہ سلسلۂ کمان کے بجائے سیاسی سرپرستی کی طرف دیکھ سکتے ہیں۔ عدالت نے اسے کمان کے تسلسل، نظم و ضبط اور جواب دہی کے لیے مسئلہ قرار دیا۔اب مجوزہ قانون میں اگرچہ یہ اختیار براہِ راست وزیر اعلیٰ کے پاس مکمل طور پر منتقل نہیں کیا جا رہا بلکہ پولیس سربراہ کے ذریعے استعمال ہونے کی بات ہے ، مگر منظوری کا عنصر شامل ہونے سے سوال دوبارہ پیدا ہوتا ہے کہ حتمی انتظامی اختیار کس کے پاس ہے ؟یہ وہ شق ہے جسے مستقبل میں عدالت بھی غالباً صرف عنوان سے نہیں بلکہ عملی اثر کے اعتبار سے دیکھے گی۔

پولیس سربراہ کے احتساب کا سوال
مجوزہ قانون کا ایک مضبوط پہلو یہ ہے کہ اس میں پولیس سربراہ کے احتساب کا باقاعدہ تصور سامنے آتا ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق اگر صوبائی پولیس افسر کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہو تو حکومت وفاقی حکومت سے اس کی خدمات واپس لینے یا نئے افسر کی تعیناتی کے لیے کارروائی کر سکتی ہے ۔ دستیاب مسودے کی تفصیلات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت سے نئے پولیس سربراہ کے لیے اعلیٰ افسران کا پینل طلب کرنے کا طریقہ رکھا گیا ہے ۔یہاں صوبائی حکومت کا ایک اہم آئینی و انتظامی مقدمہ موجود ہے ،اگر پولیس امن و امان، جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے تو آخرکار عوام کے منتخب نمائندوں کے سامنے اس کی کارکردگی کا حساب بھی ہونا چاہیے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ احتساب اور کنٹرول کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے؟

اگر حکومت کارکردگی کے واضح پیمانے مقرر کرے ، سالانہ منصوبے کی منظوری دے ، نتائج کا جائزہ لے اور ناکامی کی صورت میں قانونی طریقۂ کار کے ذریعے پولیس سربراہ کی تبدیلی کا مطالبہ کرے تو یہ جواب دہی ہے ۔لیکن اگر ‘غیر تسلی بخش کارکردگی’ ایک مبہم اصطلاح بن جائے اور اس کے ذریعے پولیس سربراہ کو ایسے فیصلوں پر مجبور کیا جا سکے جو حکومت کی فوری سیاسی ضرورت سے متعلق ہوں تو احتساب، عملی دباؤ میں تبدیل ہو سکتا ہے ۔لہٰذا اصل ضرورت یہ ہے کہ قانون میں کارکردگی کے پیمانے ، جائزے کا طریقہ، مدت، وجوہات اور فیصلہ سازی کا ریکارڈ واضح ہو۔

مریم نواز کا نجی دورہ ، سرکاری طیارہ، حکمران خاندان اور موروثی استحقاق کی کہانی

ڈی ایس پی کی براہِ راست بھرتی:بظاہر معمولی مگر اہم تبدیلی
مجوزہ قانون کا ایک اور حساس پہلو ڈی ایس پی کی سطح پر براہِ راست بھرتی کے کوٹے میں اضافہ ہے ۔صوبائی حکومت کے ترجمان کے
مطابق براہِ راست بھرتی کا کوٹہ پانچ فیصد سے بڑھا کر پندرہ فیصد کیا جا رہا ہے ۔ اس نظام میں امیدوار صوبائی پبلک سروس کمیشن کے
ذریعے مقابلے کے امتحان سے گزر کر براہِ راست ڈی ایس پی مقرر ہوتے ہیں، جبکہ دوسرا راستہ پولیس کے اندرونی ترقیاتی سلسلے سے آتا ہے ۔یہ تبدیلی بذاتِ خود سیاسی مداخلت کا ثبوت نہیں۔دنیا کے مختلف پولیس نظاموں میں براہِ راست بھرتی اور داخلی ترقی دونوں ساتھ ساتھ موجود ہو سکتے ہیں۔ براہِ راست بھرتی کا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ نئے تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر رکھنے والے افراد پولیس میں داخل ہوں، جبکہ داخلی ترقی کا نظام نچلی سطح سے تجربہ رکھنے والے افسران کے لیے پیشہ ورانہ راستہ فراہم کرتا ہے ۔اصل سوال تناسب، میرٹ، تربیت اور ترقی کے اگلے مراحل کا ہے ۔اگر براہِ راست بھرتی کے افسران کے لیے شفاف امتحانی اور تربیتی نظام ہو تو یہ انتظامی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ اگر بھرتی کے بعد ترقی کا نظام غیر شفاف ہو جائے تو وہی راستہ ادارہ جاتی عدم توازن پیدا کر سکتا ہے ۔وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ براہِ راست بھرتی کے ذریعے سیاسی پسند و ناپسند کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ یہ ایک وفاقی حکومت کا اعتراض ہے ، ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔ اس خدشے کا حقیقی جائزہ اسی وقت ممکن ہو گا جب بھرتی کے امتحان، میرٹ کے معیار، تربیتی نظام اور ترقی کے قواعد مکمل طور پر سامنے ہوں۔

تفتیشی نظام:قانون کا نسبتاً مضبوط اصلاحی پہلو
مجوزہ قانون کا ایک ایسا حصہ بھی ہے جسے سیاسی کشمکش سے الگ دیکھنے کی ضرورت ہے :تفتیشی نظام کی تنظیم نو۔صوبائی حکومت نے ریجنل انویسٹی گیشن افسران کے قیام اور تفتیشی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی بات کی ہے ۔ اسی طرح تنازعات کے حل کے لیے قائم موجودہ کونسلوں کو ختم کر کے نئے قانون کے تحت دوبارہ تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے ۔یہ حصہ اس لیے اہم ہے کہ پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا سوال صرف کمان سے نہیں بلکہ تفتیش کے معیارسے بھی وابستہ ہے ۔ایک پولیس نظام میں گرفتاری، مقدمہ درج کرنا اور چھاپہ مارنا ابتدائی مرحلے ہیں؛ اصل امتحان یہ ہے کہ شواہد کس معیار سے جمع کیے گئے ، تفتیش کتنی غیر جانب دار تھی، استغاثہ کے لیے مقدمہ کتنا مضبوط بنایا گیا اور عدالت میں اس کی قانونی پائیداری کتنی رہی۔اس لیے اگر مجوزہ قانون تفتیش کو انتظامی دباؤ سے الگ کرنے ، ماہر افسران کی نگرانی میں لانے اور علاقائی سطح پر تفتیشی معیار بہتر بنانے کا مؤثر طریقہ وضع کرتا ہے تو یہ اصلاحی پہلو سیاسی تنازع سے زیادہ دیرپا اہمیت رکھتا ہے ۔

مالی اختیار بھی عملی خودمختاری کی بنیاد ہے
پولیس کی عملی خودمختاری صرف تبادلوں سے طے نہیں ہوتی۔جس ادارے کے پاس اپنے وسائل کے استعمال، خریداری، نفری، تربیت، گاڑیوں، مواصلاتی نظام اور روزمرہ اخراجات کے بارے میں محدود اختیار ہو، اس کی عملی خودمختاری بھی محدود رہتی ہے ۔مجوزہ قانون میں پولیس سربراہ کے مالی اور انتظامی اختیارات کو حکومتی پالیسی اور منظوری کے دائرے سے جوڑنے کی بات سامنے آئی ہے ۔یہاں ایک مشکل توازن پیدا ہوتا ہے ۔ ایک طرف عوامی رقم کے استعمال پر منتخب حکومت کا اختیار ضروری ہے ، دوسری طرف اگر ہر انتظامی فیصلہ سیاسی منظوری سے مشروط ہو جائے تو پولیس کی روزمرہ کارکردگی سست یا غیر مؤثر ہو سکتی ہے ۔اس لیے بہترین قانونی ڈھانچہ وہ ہو گا جس میں بجٹ کی مجموعی ترجیحات حکومت طے کرے ، مگر منظور شدہ بجٹ کے اندر پیشہ ورانہ عملی فیصلوں کے لیے پولیس قیادت کو واضح اختیار حاصل ہو۔

وفاق کا اعتراض:قانونی ہے یا سیاسی؟
وفاقی حکومت نے مجوزہ قانون پر سخت اعتراض کیا ہے ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ قانون پولیس کے موجودہ کمانڈ ڈھانچے کو کمزور کر سکتا ہے ، افسران کی تعیناتی و تبادلوں میں سیاسی اختیار بڑھا سکتا ہے اور وفاقی پولیس سروس کے قواعد سے متصادم ہو سکتا ہے ۔یہ اعتراض دو الگ سوالات پر مشتمل ہے ، جنہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا ضروری ہے ۔پہلا سوال آئینی اختیارکا ہے :کیا صوبائی اسمبلی پولیس کے انتظام اور اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے بارے میں قانون سازی کر سکتی ہے ؟دوسرا سوال وفاقی افسران کے انتظامی ڈھانچے کا ہے ۔اگر پولیس سربراہ وفاقی پولیس سروس کا افسر ہے اور صوبے میں تعینات ہے تو اس کی خدمات، تبادلے اور واپسی کے بارے میں صوبائی قانون کس حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے ؟یہی وہ قانونی میدان ہے جہاں محض سیاسی بیانات کافی نہیں ہوں گے ۔ اگر کوئی شق آئین یا کسی بالادست وفاقی قانون سے متصادم ہے تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن صرف یہ کہنا کہ صوبائی قانون ‘وفاقی حکومت کو پسند نہیں’اسے غیر آئینی نہیں بنا دیتا۔اسی طرح صوبائی خودمختاری کا حوالہ بھی ہر شق کو خود بخود آئینی تحفظ نہیں دیتا۔اصل فیصلہ آئین، متعلقہ وفاقی قوانین، پولیس سروس کے قواعد، صوبائی قانون اور ان سب کے باہمی تعلق سے ہو گا۔

18ویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کا اصل مطلب
اس تنازع میں 18ویں آئینی ترمیم کا حوالہ بار بار دیا جا رہا ہے ، مگر اس کا مفہوم بھی سادہ انداز میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔پولیس اور امن و امان بنیادی طور پر صوبائی انتظامی ذمہ داریوں سے وابستہ ہیں۔ اس لیے صوبائی حکومت کا یہ مؤقف قابلِ فہم ہے کہ وہ اپنے صوبے میں امن و امان کی ذمہ داری قبول کرتی ہے تو اسے انتظامی اختیار بھی درکار ہے ۔لیکن پاکستان کا وفاقی نظام ایسا نہیں جس میں صوبائی قانون آئین یا وفاقی قانون کے ہر دوسرے دائرے سے آزاد ہو۔اس لیے اصل اصول یہ بنتا ہے :صوبائی خودمختاری کا مطلب صوبائی حکومت کی مطلق انتظامی بالادستی نہیں، اسی طرح وفاقی اختیار کا مطلب صوبائی انتظامیہ کے روزمرہ پولیس معاملات پر براہِ راست کنٹرول بھی نہیں۔یہی آئینی توازن موجودہ تنازع کا بنیادی امتحان ہے ۔

گورنر کا کردار:تاخیر، نظرثانی یا مستقل رکاوٹ؟
مجوزہ قانون کے حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر بل ان کے پاس منظوری کے لیے آیا تو وہ اس کا آئینی و قانونی جائزہ لیں گے اور اعتراضات کی صورت میں اسے واپس بھیج سکتے ہیں۔یہاں آئین کا آرٹیکل 116بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔
صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والا بل گورنر کے پاس جاتا ہے ، اور گورنر کے لیے آئینی طریقۂ کار مقرر ہے ۔ گورنر اعتراضات کے ساتھ اسے دوبارہ غور کے لیے اسمبلی کو بھیج سکتے ہیں، لیکن یہ اختیار مستقل طور پر کسی بل کو روک دینے کے برابر نہیں۔ آئین میں مقررہ طریقہ کار کے مطابق اسمبلی دوبارہ کارروائی کر سکتی ہے اور مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد بل قانون بننے کی آئینی صورت بھی موجود ہے ۔اس لیے گورنر کا کردار سیاسی کشمکش میں اہم ضرور ہے ، مگر اسے ‘‘مطلق ویٹو اختیار’’سمجھنا درست نہیں۔اصل قانونی جنگ، اگر تنازع برقرار رہتا ہے ، زیادہ امکان ہے کہ عدالتی فورم پر پہنچے ۔

کیا وفاق صوبائی قانون کو براہِ راست روک سکتا ہے ؟
یہ سوال اس پورے معاملے کا سب سے اہم قانونی سوال ہے ۔وفاقی حکومت کے نمائندوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلی قانون منظور بھی کر لے تو اس کے نفاذ کو چیلنج کیا جا سکتا ہے ۔ دستیاب قانونی تجزیوں کے مطابق صوبائی قانون اگر آئین یا کسی ایسے وفاقی قانونی دائرے سے متصادم ہو جس پر صوبائی اسمبلی قانون سازی نہیں کر سکتی تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ۔یہاں ایک بنیادی اصول یاد رکھنا چاہیے :وفاقی حکومت محض انتظامی حکم سے کسی صوبائی اسمبلی کے قانون کو منسوخ نہیں کر سکتی۔اگر قانون نافذ ہو جائے اور وفاق اسے آئین سے متصادم سمجھتا ہو تو تنازع کا آئینی حل عدالت کے ذریعے نکل سکتا ہے ۔اسی طرح صوبائی حکومت بھی وفاقی مؤقف کو محض سیاسی الزام کہہ کر نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اگر قانون میں واقعی ایسی شقیں موجود ہوں جو آئین یا بالادست وفاقی قانون سے متصادم ہوں تو عدالتی جانچ ناگزیر ہو گی۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ کشمکش کو ‘‘وفاق بمقابلہ صوبہ’’کے جذباتی عنوان کے بجائے ‘‘اختیارات کی آئینی حد بندی’’ کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے ۔

گورنر راج:قانونی امکان اور سیاسی حقیقت الگ چیزیں ہیں
گورنر خیبر پختونخوا نے موجودہ تنازع کے دوران گورنر راج کے آئینی امکان کا حوالہ بھی دیا، جبکہ بعد میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت گورنر راج زیرِ غور نہیں اور حالات اس کے متقاضی نہیں۔یہاں بھی دو چیزوں کو الگ رکھنا ضروری ہے ۔آئین کے آرٹیکل 234 میں صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی مخصوص صورت میں وفاقی سطح پر کارروائی کا طریقہ موجود ہے ۔ لیکن اس آئینی اختیار کا وجود اس بات کا ثبوت نہیں کہ موجودہ سیاسی تنازع لازماً اس مرحلے تک پہنچ گیا ہے ۔یعنی آئینی امکان اور موجودہ سیاسی ضرورت ایک ہی چیز نہیں۔گورنر راج کو محض پولیس قانون کے تنازع کا معمول کا انتظامی حل سمجھنا بھی درست نہیں ہو گا۔ یہ صوبائی حکومت، اسمبلی اور وفاقی نظام کے تعلقات کو بنیادی طور پر بدل دینے والا قدم ہو سکتا ہے ، اس لیے اس کا قانونی معیار عام قانون سازی کے تنازع سے کہیں بلند ہے ۔

موجودہ سیاسی کشمکش اس قانون کو کیوں زیادہ حساس بنا رہی ہے ؟

اگر یہی پولیس قانون کسی نسبتاً پُرسکون سیاسی ماحول میں آتا تو شاید اس کی بحث زیادہ تر پولیس اصلاحات تک محدود رہتی۔مگر موجودہ حالات مختلف ہیں۔خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے شدید سیاسی اختلاف رکھتی ہے ۔ احتجاجی سیاست، کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کے الزامات، سرکاری وسائل کے استعمال، پولیس کی ذمہ داری اور اسلام آباد مارچ کے معاملے نے پولیس کے انتظامی کردار کو براہِ راست سیاسی تنازع کا حصہ بنا دیا ہے ۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ بعض کارروائیوں میں اس کے منتخب نمائندوں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ وفاقی سطح پر حکومت نے سرکاری مشینری کو سیاسی احتجاج کے لیے استعمال نہ کرنے پر زور دیا ہے ۔ایک چیز واضح ہے جس وقت سیاسی کشمکش شدید ہو، اسی وقت پولیس کے اختیار کی ساخت تبدیل کرنا لازماً زیادہ حساس عمل بن جاتا ہے ۔کیونکہ قانون کا ہر انتظامی اختیار فوراً ایک عملی سیاسی سوال میں بدل جاتا ہے ۔اگر حکومت پولیس سربراہ سے جواب طلب کر سکتی ہے تو جواب طلبی کا معیار کیا ہو گا؟اگر حکومت تعیناتیوں کی منظوری دے سکتی ہے تو کیا اس کا استعمال سیاسی مقاصد کے لیے نہیں ہو گا؟اگر پولیس سربراہ حکومت کی پالیسی سے اختلاف کرے تو فیصلہ کس کا حتمی ہو گا؟اور اگر پولیس سربراہ حکومت کے احکامات کو غیر قانونی سمجھے تو اس کے پاس تحفظ کا کیا راستہ ہو گا؟یہ سوال کسی ایک جماعت کے لیے نہیں بلکہ ہر صوبائی حکومت کے لیے اہم ہیں۔

  • خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے شدید سیاسی اختلاف رکھتی ہے ۔ احتجاجی سیاست، کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کے الزامات، سرکاری وسائل کے استعمال، پولیس کی ذمہ داری اور اسلام آباد مارچ کے معاملے نے پولیس کے انتظامی کردار کو براہِ راست سیاسی تنازع کا حصہ بنا دیا ہے ۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ بعض کارروائیوں میں اس کے منتخب نمائندوں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اصل امتحان آج کی حکومت نہیں، آنے والی حکومتیں ہیں
اس قانون کو پرکھنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ موجودہ سیاسی جماعتوں کے نام عارضی طور پر ذہن سے نکال دیے جائیں۔فرض کریں آج جو جماعت صوبائی حکومت میں ہے ، کل وہ اپوزیشن میں چلی جائے اور دوسری جماعت حکومت میں آ جائے ۔ کیا یہی قانون تب بھی پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری، شہری آزادیوں اور غیر جانب دار انتظامیہ کے لیے مناسب سمجھا جائے گا؟یہی اصل ادارہ جاتی معیار ہے ۔ایک اچھا قانون کسی مخصوص حکومت کو طاقت دینے کے لیے نہیں بلکہ ہر آنے والی حکومت کے اختیار کی حد متعین کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اگر قانون ایسا ڈھانچہ بنائے جس میں کسی بھی سیاسی حکومت کے لیے فیلڈ افسران پر غیر ضروری دباؤ ڈالنا مشکل ہو، لیکن اسی وقت منتخب حکومت کو پالیسی، بجٹ اور کارکردگی کے معاملے میں مؤثر اختیار حاصل رہے تو ادارہ مضبوط ہوتا ہے ۔اس کے برعکس اگر قانون موجودہ سیاسی ضرورت کو سامنے رکھ کر بنایا جائے اور اس میں اختیار کی واضح حدیں نہ ہوں تو کل یہی شقیں کسی مختلف سیاسی حکومت کے ہاتھ میں بالکل مختلف نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔

اس قانون کے لیے اصل معیار کیا ہونا چاہیے ؟
مجوزہ قانون کو سیاسی بیانات کے بجائے کم از کم چھ بنیادی اصولوں پر پرکھا جانا چاہیے ۔
اول:پالیسی اور عملی کمان کی واضح حد۔
وزیر اعلیٰ اور حکومت پولیس کی ترجیحات طے کریں، مگر روزمرہ فیلڈ کمان واضح پیشہ ورانہ سلسلۂ کمان کے ذریعے چلے ۔
دوم:تعیناتی اور تبادلے کے اصول۔
ڈی پی او، آر پی او اور دیگر اہم فیلڈ افسران کی تعیناتی کے لیے تحریری، شفاف اور پیشہ ورانہ معیار ہونا چاہیے ۔ اگر سیاسی منظوری درکار ہو تو اس کی حدود اور وجوہات بھی قانون میں واضح ہوں۔
سوم:پولیس سربراہ کا جواب دہ ہونا۔
پولیس سربراہ ناقابلِ احتساب نہیں ہونا چاہیے ۔ لیکن کارکردگی کی بنیاد پر احتساب کے لیے واضح پیمانے ، تحریری جائزہ اور قانونی طریقہ ضروری ہے ۔
چہارم:تفتیشی خودمختاری۔
تفتیش کو سیاسی اور انتظامی دباؤ سے زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنا ضروری ہے ، کیونکہ پولیس کی ساکھ کا اصل امتحان مقدمے کی تفتیش اور عدالت میں شواہد کی پائیداری ہے ۔
پنجم:مالی اختیار۔
حکومت بجٹ اور مجموعی ترجیحات طے کرے ، مگر منظور شدہ بجٹ کے اندر پولیس قیادت کو روزمرہ عملی ضرورتوں کے لیے معقول اختیار حاصل ہو۔
ششم:عدالتی مطابقت۔
نئے قانون کی ہر اہم شق کو آئین، وفاقی قوانین، پولیس سروس کے قواعد اور فروری 2026 کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں جانچنا ہو گا۔

اصل مسئلہ پولیس نہیں، ریاستی اختیار کی حد ہے
اس سارے تنازع کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو مسئلہ یہ نہیں کہ پولیس کس کی ہے ؟پولیس صوبے کی انتظامی مشینری کا حصہ ہے ، لیکن اس کا مقصد کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی خدمت نہیں بلکہ قانون کا نفاذ اور شہریوں کا تحفظ ہے ۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت پولیس سے جواب دہی کس حد تک طلب کر سکتی ہے ؟پولیس سربراہ کو عملی فیصلوں میں کتنی آزادی حاصل ہو گی؟فیلڈ افسران کی تعیناتی کس بنیاد پر ہو گی؟

وفاقی پولیس سروس کے افسران کی صوبائی تعیناتی کے دوران وفاق اور صوبے کے اختیارات کہاں تک ہوں گے ؟اور اگر حکومت اور پولیس قیادت کے درمیان اختلاف ہو تو آخری قانونی راستہ کیا ہو گا؟

فروری 2026 کا پشاور ہائی کورٹ فیصلہ اس بحث میں ایک اہم اصول پہلے ہی سامنے رکھ چکا ہے ۔حکومت پالیسی اور نگرانی کر سکتی ہے ، مگر پولیس کی داخلی انتظامیہ اور عملی کمان کو اس حد تک سیاسی اختیار کے تابع نہیں کیا جا سکتا کہ پیشہ ورانہ سلسلۂ کمان ہی کمزور ہو جائے ۔ اب مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ وہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے یا اس کی نئی تعبیر پیش کرتا ہے ۔صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ پولیس کو زیادہ جواب دہ، مؤثر اور ادارہ جاتی طور پر منظم کرنا چاہتی ہے ،وفاقی حکومت کو خدشہ ہے کہ اس عمل میں پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری محدود ہو سکتی ہے ۔ دونوں مؤقف اپنی جگہ سیاسی دعوے ہیں۔ حتمی جواب قانون کے متن، اس کے نفاذ اور بالآخر آئینی جانچ سے سامنے آئے گا۔اسی لیے اس وقت سب سے اہم چیز یہ نہیں کہ کون سا فریق سیاسی بحث میں زیادہ بلند آواز ہے ، بلکہ یہ ہے کہ قانون میں اختیار کی لکیر کہاں کھینچی جاتی ہے ۔ایک ایسا پولیس قانون جس میں حکومت پالیسی بنائے ، پولیس قیادت جواب دہ ہو، تفتیش پیشہ ورانہ بنیادوں پر ہو، تعیناتیاں شفاف معیار کے تحت ہوں، مالی اختیار واضح ہو اور سیاسی حکومت روزمرہ فیلڈ کمان کو اپنی فوری ضرورت کے مطابق تبدیل نہ کر سکے وہی قانون طویل مدت میں ادارہ جاتی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے ۔اور اگر اختیار کی یہی حد بندی واضح نہ ہو تو مسئلہ کسی ایک وزیر اعلیٰ، ایک آئی جی، ایک جماعت یا ایک حکومت تک محدود نہیں رہے گا۔ پھر ہر نئی حکومت پولیس کے اختیار کی حد دوبارہ متعین کرنے کی کوشش کرے گی، ہر نئی سیاسی کشمکش پولیس کو اپنے اندر کھینچے گی، اور قانون ایک مستقل ادارہ جاتی ضابطے کے بجائے اقتدار کی بدلتی ہوئی ضرورتوں کا میدان بن سکتا ہے ۔خیبر پختونخوا کے موجودہ تنازع کی اصل اہمیت بھی یہی ہے ۔یہ محض ایک نیا پولیس ایکٹ نہیں۔یہ اس سوال کا ایک نیا مرحلہ ہے کہ پاکستان کے وفاقی نظام میں منتخب صوبائی حکومت، وفاقی انتظامیہ، پولیس کی پیشہ ورانہ کمان اور عدالت کے درمیان اختیار کی آخری آئینی لکیر کہاں قائم کی جائے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں