میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قومی ایمرجنسی؟ یا ایک نئے بندوبست کی تیاری؟

قومی ایمرجنسی؟ یا ایک نئے بندوبست کی تیاری؟

جرات ڈیسک
منگل, ۲۹ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ہر طرف ہاہا کار ہے !

کیا صدرِ مملکت آصف علی زرداری پھر کسی چھٹی پر جانے والے ہیں؟

نامعلوم منطقوں اور مشتبہ سیاسی نقشوں پر حرکت پیدا ہو رہی ہے ۔ تاریکیوں کے چمگادڑ پھر جاگ رہے ہیں۔ سازشیں حشرات الارض کی طرح رینگ رہی ہیں۔

افراتفری، آپادھاپی کا نسخہ ٔ اکسیراس مرتبہ قومی ایمرجنسی ہے!

مگر ذرا ٹھہریے۔ یہ پاکستان ہے ۔یہاں خبر ہمیشہ خبر نہیں ہوتی۔ کبھی خبر کسی فیصلے کا سایہ ہوتی ہے ۔ کبھی سایہ کسی فیصلے سے پہلے آ جاتا ہے۔ اور کبھی فیصلے ابھی کہیں ہوتے بھی نہیں، مگر ان کے لیے فضا پہلے سے تیار ہونے لگتی ہے۔ آج کل سیاسی فرشتے زیادہ مصروف ہیں وہ اپنی ‘صدائے کن’ کی تیاریوں میں ہیں۔ پاکستان کا خانہ ساز ‘‘تکوینی بندوبست’’ خطرے میں ہے۔ نئے ‘فیکون’ پر کان لگائے ہوئے ہے۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بات ہو رہی ہے ۔ قومی ایمرجنسی کا بھی چرچا ہے ۔اور 28ویں آئینی ترمیم کی سرگوشیاں پھر سنائی دے رہی ہیں۔ نئے انتظامی یونٹس کی بات ہو رہی ہے ۔ نظام کی ناکامی کا اعتراف بھی ہو رہا ہے ۔ اسی دوران تحریک انصاف کو ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف آتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے ۔اتفاقات کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔مگر پاکستان میں سیاست کا کمال یہی ہے کہ یہاں سب کچھ بیک وقت اتفاق بھی ہو سکتا ہے اور منصوبہ بھی۔افواہیں کبھی بھی خبریں بن سکتی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا خیال حکومتی حلقوں میں پہلے رد کیا جا رہا تھا۔ پھر اچانک گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج پر مشاورت ہوئی ہے اور آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے ۔وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی اسے ایک آئینی و قانونی آپشن قرار دیا، اگرچہ حتمی فیصلہ نہ ہونے کی بات بھی ساتھ کہی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ گورنر راج کے ساتھ گورنر کی بھی تبدیلی زیر غور ہے۔ بیچارے فیصل کریم کنڈی جس بندوبست پر رال ٹپکا رہے ہیں، وہ برتن اور دسترخوان اُن کا ہونے والا نہیں۔ یہ لقمے کسی اور کے لیے ہیں۔ رانا ثناء اللہ جس بندوبست کا حصہ ہیں، خطرے میں تو وہ بھی ہے!
پاکستان میں جو چیز کل تک ‘‘نہیں’’تھی،اگلے دن‘‘انتخاب’’ بن جاتی ہے۔ جب کوئی غیر معمولی اقدام ‘‘انتخاب’’ بن جائے تو سمجھ لیجیے کہ اصل بحث شاید اقدام پر نہیں،‘ اس کے لیے زمین ہموار کرنے پر’شروع ہو چکی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 234صوبے میں آئینی مشینری ناکام ہونے کی صورت میں صدر کو مخصوص اختیارات استعمال کرنے کا راستہ دیتا ہے۔ یعنی گورنر راج کوئی آئین سے باہر کا تصور نہیں۔ آئین میں اس کا راستہ موجود ہے، اس کی مدت کی حدود ہیں، پارلیمانی منظوری کی شرط ہے۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ راستہ موجود ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ راستہ کھولنے کے لیے منظرنامہ کون سا بنایا جا رہا ہے؟ کبھی خیال آتا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے نام پر جو ‘آئینی انتخاب’ کے جھمیلے اُٹھائے جا رہے ہیں، کہیں یہ مرکزی بندوبست کے لیے کوئی خطرہ تو پیدا نہیں کر رہے؟ کیا معلوم مستقبل میں مورخ یہ لکھے کہ فیصل کریم کنڈی اور رانا ثناء اللہ جن جماعتوں کا حصہ تھے، ان کی قبریں بھی ان ہی ‘‘آئینی آپشنز’’ کی کدالوں سے کھودی گئیں!

یہ کچھ اتنا بعید از قیاس مفروضہ بھی نہیں۔‘ قومی ایمرجنسی’ کی باتیں مرکزی ذرائع ابلاغ کی بحثوں میں سنور رہی ہیں۔ ایک نجم سیٹھی کیا، سیٹھوں نے کتنے ہی سیٹھی ایسے ہی درفنطنیاں چھوڑنے اور طاقت وروں کی خدمت کے لیے بٹھا رکھے ہیں۔ یاد رکھیں!قومی ایمرجنسی معمول کا لفظ نہیں۔ آئین کا آرٹیکل 232بھی موجود ہے ۔ جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی بدامنی جس سے ملک یا اس کے کسی حصے کی سلامتی خطرے میں ہو اور جو صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہو، اس کے لیے آئینی راستہ موجود ہے۔ مگر ذرا غور کیجیے !پہلے بدامنی، پھر بے قابو بدامنی، پھر ریاستی اختیار کو چیلنج، پھر صوبائی حکومت کی ناکامی، پھر وفاق کی ضرورت، پھر غیر معمولی اقدام اور آخر میں آئین۔ یعنی کبھی کبھی آئین فیصلہ نہیں کرتا، فیصلہ پہلے ہو چکا ہوتا ہے، آئین اس کی زبان فراہم کرتا ہے۔ آئین کا متن صاف ہے۔ مگر پاکستان کی سیاست کا متن ہمیشہ صاف نہیں رہا۔ یہاں سوال یہ نہیں ہوتا کہ شق میں کیا لکھا ہے ۔

سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ شق کو پڑھ کون رہا ہے، کس وقت پڑھ رہا ہے، کس بحران کے درمیان پڑھ رہا ہے اور کس ضرورت کے تحت پڑھ رہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی بندوبست آئینی بندوبست پر سایہ ڈالنے لگتا ہے ۔

موجودہ بحران کو سمجھنے کے لیے بہت پیچھے نہیں بس ایک قدم پیچھے ہٹ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں اقتدار کی عمارت ہمیشہ ان لوگوں کے نام سے نہیں پہچانی جاتی جو اس کی اگلی قطار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ سامنے حکومت، پیچھے بندوبست۔پاکستان میں موجودہ حکومت ایک سیاسی حکومت ہے۔

آئینی طور پر،پارلیمانی طور پر،دفتری کاغذات میں۔لیکن سیاست کاغذات سے کہیں زیادہ پیچیدہ شے ہے۔ یہ حکومت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اشتراک سے قائم ہوئی۔ تحریک انصاف اس کی سب سے بڑی سیاسی مخالف قوت ہے۔ عمران خان جیل میں ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے۔

تحریک انصاف مسلسل دباؤ کے باوجود سیاسی طور پر ختم نہیں ہوئی۔ یہی موجودہ بندوبست کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جس خوف کے خلاف بندوبست بنایا گیا تھا، وہ خوف ختم نہیں ہوا۔بلکہ شاید اسی لیے پورا بندوبست اب خود ایک سوال بن گیا ہے۔ یہاں ایک عجیب صورتِ حال پیدا ہوتی ہے۔ جو سیاسی حکومت سامنے ہے، عوام اسی سے حساب مانگتے ہیں۔ جو فیصلے دکھائی دیتے ہیں، ان کی ذمہ داری بھی اسی کے کھاتے میں لکھی جاتی ہے۔ اور جو طاقتیں اس بندوبست کی تشکیل کے بارے میں سوالات کا مرکز بنتی ہیں، ان کے بارے میں کھل کر بات کرنا ہی ایک الگ مسئلہ بن جاتا ہے۔ یوں اقتدار کی ایک عجیب تقسیم پیدا ہوتی ہے۔ اختیار کہیں اور،چہرہ کہیں اور، ذمہ داری کہیں اور۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ‘‘ہائبرڈ’’ جیسے الفاظ بھی ناکافی ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ ہائبرڈ نظام میں بھی کم از کم یہ معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی کون چلا رہا ہے۔ یہاں کبھی کبھی مسئلہ یہ بن جاتا ہے کہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا شخص بھی آئینے میں دیکھ کر پوچھ رہا ہوتا ہے، میں کہاں جا رہا ہوں؟

نظام کے سب سے طاقت ور کردار محسن نقوی نظام کو ناکام قرار دے چکے۔ ہائبرڈ نظام اتنا بڑا بوجھ بن گیا ہے کہ ڈرائیور یہ تو نہیں جانتا کہ وہ کہاں جا رہا ہے مگر وہ ساتھ میں یہ بھی کہہ رہا ہے کہ وہ وہاں نہیں جانا چاہتا جہاں کے لیے گاڑی پروگرام کر دی گئی۔ نئے نظام کی تشکیل کے نام پر انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کو ڈرائیور اپنا اسٹیشن نہیں بنانا چاہتے۔ مگر 28ویں آئینی ترمیم کا سایہ دیوار پر صاف دکھائی دیتا ہے ۔

پاکستان میں بعض اوقات سایہ جسم سے پہلے نظر آتا ہے۔ اگر موجودہ سیاسی بندوبست پہلے ہی کمزور ہے، اگر حکومت اپنے سیاسی وجود کے لیے مسلسل انتظامی سہاروں کی محتاج دکھائی دیتی ہے، اگر تحریک انصاف کو ختم نہیں کیا جا سکا، اگر عمران خان جیل میں رہ کر بھی سیاسی مرکز بنے ہوئے ہیں، تو پھر نئے صوبے، نئی آئینی ترتیب اور نئی انتظامی اکائیاں صرف انتظامی اصلاح نہیں رہتیں۔ وہ طاقت کی نئی جغرافیہ سازی بن سکتی ہیں۔ اور طاقت کا جغرافیہ بدل جائے تو سیاست کا نقشہ خود بخود بدلنے لگتا ہے۔ پھر کیا ایک صوبے میں گورنر راج اور کیا ملک گیر ایمرجنسی؟ ایسے میں صدر مملکت اگر چھٹی پر چلے جائیں توملک کے سیاسی بحران کی تشریح کے نئے زاویے کھل جائیں گے۔ گورنر راج، ایمرجنسی اورترمیم کے درمیان عوام ٹیلی وژن کی اسکرین پر بیٹھ کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ اصل فیصلہ کہاں ہو رہا ہے؟ ایسی جگہوں پر جس کا کوئی آئینی پتہ نہیں۔یا ایسی جگہوں پر جس کا پتہ تو موجود ہے مگر جن کا یہ نہیں پتہ کہ وہ اپنے اصل پتے پر ہیں یا نہیں؟مگر لطیفہ تو یہ ہے کہ اب عوام ٹیلی وژن اسکرین پر جاتے کہاں ہیں، اُنہیں تو پہلے سے ہی پتہ ہے کہ اصل فیصلہ کیا ہے اور کہاں ہو رہا ہے؟
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں