میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
محسن نقوی کا بیان بے معنی ہے،کوئی سیاق وسباق نہیں'رانا ثنا اللہ

محسن نقوی کا بیان بے معنی ہے،کوئی سیاق وسباق نہیں'رانا ثنا اللہ

جرات ڈیسک
بدھ, ۵ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

آزاد کشمیر میں الیکشن نہ ہوتے تو مودی کا سندور ٹو کا ایجنڈاکامیاب ہوجاتا’ مشیر وزیر اعظم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ بے کہا ہے کہ محسن نقوی کا بیان بے معنی ہے، اس کا کوئی واضح سیاق وسباق نہیں،

محسن نقوی نے کہا سسٹم تباہ ہو چکا،یہ کس سسٹم کی بات کر رہے ہیں؟ ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام ہے،آئین کی وجہ سے فیڈریشن قائم ہے، عدلیہ اور ایگزیکٹو آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کریں۔

ایک انٹر ویو میں انہوںنے کہا کہ محسن نقوی کی انتظامی یونٹس سے متعلق بات شاید نئے صوبوں سے متعلق ہے، مسائل کے حل کیلئے یونٹس،صوبے اور بااختیار بلدیاتی نظام سے کسی کو انکار نہیں، جو کچھ ہو گا آئین کے تحت ہو گا،اس سے باہر کیسے ہو گا؟

انتظامی یونٹس اسی سسٹم میں بننے ہیں،کیا اس سے باہر نکل کر بننے ہیں؟ ہمارے بزرگوں نے 1973 کا آئین بنایا، ہمارے بزرگ اس نتیجے پر پہنچے کہ ملک کیلئے پارلیمانی جمہوری نظام بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام کی طرف جھکنا ہے تو اس طرف جھک جائیں،رہنا جمہوری نظام نے ہے، ہم ہائبرڈ ماڈل میں نہیں ہیں، سیاسی وعسکری قیادت کا باہمی عزت کیساتھ ملک چلانے کا نتیجہ ہے ہماری دنیا میں عزت ہے، سیاسی وعسکری قیادت کا باہمی عزت کے ساتھ ملک چلانے کا نتیجہ ہے کہ معرکہ حق جیتا، ہمارا نام امن دینے والے ممالک میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ 26ویں اور27ویں ترمیم کی ضرورت تھی، محسن نقوی سے پوچھیں گے کون سا بزنس مین کس کو 50 کروڑ فنڈ دیتاہے، فیلڈمارشل عاصم منیر قوم کے ہیروہیں، فیلڈ مارشل نے قوم کو معرکہ حق کے ذریعے عزت دی، محسن نقوی کی بات سے اتفاق نہیں کرتا، تقریب میں بزنس مین بیٹھے تھے،ان کی عزت کرتا ہوں،

محسن نقوی کی گفتگو سے متعلق پارٹی فیصلہ نہ کرتی تو پھر دوسرے انداز سے دیکھا جاتا۔انہوںنے کہا کہ سسٹم تباہ نہیں ہوا، پہلے بھی دہشتگردی پر قابو پایا تھا،اب بھی پائیں گے، میرپور میں 13 سیٹوں پر الیکشن میں 53 فیصدٹرن آئوٹ تھا، آزاد کشمیر میں صاف شفاف الیکشن ہوا،لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا، مظفرآباد کی 9 سیٹوں پر الیکشن ہوا،4پر پیپلزپارٹی اور 5 پر(ن)لیگ جیتی، کالعدم ایکشن کمیٹی کا مقصد تھا کہ آزاد کشمیر الیکشن نہیں ہونے دینا، سندور ٹووالوں کا ایجنڈا ہے کہ آزاد کشمیر میں الیکشن نہ ہو، آزاد کشمیر میں الیکشن نہ ہوتے تو مودی کا سندور ٹو کا ایجنڈا کامیاب ہوجاتا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں