سندھ بلڈنگ، انہدامی کارروائیوں کا ڈراما بے نقاب، منہدم عمارتیں پھر تعمیر
شیئر کریں
نمائشی انہدام کے بعد ناظم آباد کے پلاٹ 3G-2/6اور 5C-4/24پر ازسرِنو تعمیر شروع
ڈائریکٹر فہیم صدیقی کی نگرانی ، بیٹر اسامہ طوطی کو غیر قانونی امور پر چھوٹ؟ مکینوں کو تشویش
خلافِ ضابطہ تعمیرات کے خلاف انہدامی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود ناظم آباد میں مبینہ طور پر منہدم کی گئی تعمیرات کا دوبارہ کھڑا ہونا متعلقہ ادارے کی کارروائی اور نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے ۔ گزشتہ دنوں کارروائی کا سامنا کرنے والے ناظم آباد کے پلاٹ 3G-2/6 اور 5C-4/24 پر دوبارہ تعمیراتی سرگرمیوں کی اطلاعات نے انہدامی آپریشن کی مؤثریت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔مقامی ذرائع کے مطابق دونوں پلاٹس پر تعمیرات کو خلافِ ضابطہ قرار دے کر انہدامی کارروائی کی گئی تھی، مگر کارروائی کے بعد دوبارہ تعمیر شروع ہونے سے یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ انہدامی آپریشن کے بعد تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی کس کی ذمہ داری تھی اور دوبارہ تعمیر کی اجازت یا گنجائش کیسے پیدا ہوئی؟ذرائع اور علاقہ مکینوں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈائریکٹر فہیم صدیقی کی نگرانی میں بیٹر اسامہ طوطی کو مبینہ طور پر بعض غیر قانونی امور میں رعایت حاصل ہے ۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ متعلقہ افسران اور اتھارٹی کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر پلاٹ 3G-2/2 اور 5C-4/24 پر تعمیرات خلافِ ضابطہ تھیں تو انہدام کے بعد دوبارہ تعمیر کیسے شروع ہوگئی؟ انہوں نے معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق معاملے کی اصل صورتِ حال متعلقہ ریکارڈ، تعمیراتی منظوریوں اور انہدامی کارروائی کی دستاویزات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔ اتھارٹی یا متعلقہ افسران کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔


