میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
میرٹ ختم کامیابی ختم

میرٹ ختم کامیابی ختم

جرات ڈیسک
پیر, ۲۱ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

یہ صرف ایک عنوان نہیں بلکہ وہ آئینہ ہے جو ہمیں ہماری بربادی کی داستان دکھا رہا ہے حق تلفی اور اقربا پروری نے ہمارے پورے نظام
کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس سے ہر چیز الٹ پلٹ ہو گئی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کامیابی کے سسٹم کو دفن کرنے والے آج اپنی
ناکامیوں پر بھی فخر کررہے ہیں ایک وقت تھا جب پاکستان نے دنیا پر حکمرانی کی وہ وہ ریکارڈ بنائے کہ آج تک نہ ٹوٹ سکے جب میرٹ
زندہ تھا تو ایک بال بوائے بھی عالمی چیمپئن بن گیا تھا اور آج جب میرٹ کمزور ہے تو ہر طرف ہار کی شرمندگی عوام کو۔اٹھانا پڑ رہی ہے آج اسی بال بوائے کی کہانی ہے جس نے پاکستان کو پہلی بار دنیا میں شناخت دی ہاشم خان کی کہانی صرف اسکواش کی تاریخ کا ایک سنہرا باب نہیں
بلکہ پاکستان کے پورے نظام کے لیے ایک سبق ہے پشاور کے ایک کلب میں گیندیں اٹھانے والا ایک معمولی سا بچہ اپنی محنت، شوق اور
صلاحیت کے بل بوتے پر دنیا کا چیمپیئن بنا اس کے پاس نہ مہنگی اکیڈمی تھی، نہ جدید سہولیات اور نہ ہی کسی بااثر شخصیت کی سفارش اس کے
پاس صرف ایک ریکٹ، کھیل کا جنون اور آگے بڑھنے کا عزم تھا۔قیام پاکستان سے پہلے پشاور کے ایک کلب میں برطانوی افسر اسکواش
کھیلا کرتے تھے کورٹ سے باہر جانے والی گیندیں اٹھانے کے لیے ایک چھوٹا سا لڑکا کھڑا رہتا تھا وہ صرف گیندیں نہیں اٹھاتا تھا بلکہ بڑے غور سے کھیل بھی دیکھتا تھا افسر شاٹ لگاتے گیند واپس آتی اور یہ بچہ خاموشی سے اسے اٹھا کر دوبارہ کھلاڑیوں کے حوالے کردیتااور جب
کھیل ختم ہوجاتا تواسکے بعد اس بچے کا کھیل شروع ہوتا افسر کلب سے چلے جاتے، کورٹ خالی ہوجاتا اور وہی بال بوائے ہاتھ میں ریکٹ
پکڑ کر ان شاٹس کو دہرانے لگتا نہ کوئی مہنگی اکیڈمی تھی، نہ جدید کوچ، نہ بہترین سہولیات اور نہ ہی کسی بڑے خاندان کی پشت پناہی اس کے
پاس صرف شوق تھا، مشاہدہ تھا اور محنت کرنے کا حوصلہ تھاوالد کا سایہ کم عمری میں اٹھ گیا تو تعلیم بھی چھوٹ گئی روزگار کے لیے اسی کلب میں
گیندیں اٹھانا اور کورٹ صاف کرنا زندگی کا حصہ بن گیا لیکن ہاشم نے اپنے حالات کو اپنی منزل نہیں بننے دیا جس کورٹ پر وہ صفائی کرتے
تھے، اسی کورٹ کو انہوں نے اپنا اسکول بنا لیاوہ دوسروں کو کھیلتے دیکھتے، سیکھتے، پھر خود مشق کرتے کبھی پرانے ریکٹ سے، کبھی محدود وسائل
کے ساتھ وقت گزرا تو بال بوائے ایک ایسا کھلاڑی بن گیا جس نے اسکواش کی دنیا میں پاکستان کا نام بلند کردیا۔

1944 میں انہوں نے آل انڈیا اسکواش چیمپئن شپ جیتی اور اگلے دو سال بھی اپنا اعزاز برقرار رکھا پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو
انہوں نے نئے ملک کی قومی سطح پر نمائندگی کی اور 1949 میں پاکستان کی پہلی قومی اسکواش چیمپئن شپ جیتی۔ پھر 1951 میں وہ وقت آیا
جب دنیا نے پشاور کے اس کھلاڑی کو پہچانا ہاشم خان برطانیہ پہنچے اور برٹش اوپن کے فائنل میں مصر کے محمود کریم کو شکست دے کر چیمپئن بن
گئے یہ صرف ایک کھلاڑی کی کامیابی نہیں تھی یہ میرٹ کی کامیابی تھی ہاشم خان نے 1951 سے 1956 تک مسلسل چھ مرتبہ برٹش اوپن جیتا
اور پھر 1958 میں ساتویں مرتبہ یہ اعزاز حاصل کیا ان کی کامیابی کے بعد پاکستان میں اسکواش کا ایسا دور شروع ہوا جس نے کئی دہائیوں
تک دنیا کو حیران کیے رکھا۔ اعظم خان، روشن خان، قمر زمان، جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے عظیم نام سامنے آئے پاکستان نے صرف
ٹائٹل نہیں جیتے بلکہ دنیا کو یہ بتایا کہ اگر صلاحیت کو موقع ملے تو پاکستانی نوجوان کسی سے کم نہیں لیکن آج پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ٹیلنٹ آج
بھی موجود ہے۔

ہمارے گلی محلوں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایسے ہزاروں بچے موجود ہیں جو مناسب تربیت اور مواقع ملنے پر دنیا کے
بہترین کھلاڑی بن سکتے ہیں مسئلہ صلاحیت کا نہیں، مسئلہ اس صلاحیت کو تلاش کرنے اور صحیح جگہ پہنچانے کا ہے۔کھیلوں میں میرٹ کا مطلب
صرف یہ نہیں کہ اچھا کھیلنے والے کو ٹیم میں شامل کرلیا جائے۔ میرٹ ایک مکمل نظام کا نام ہے۔ اس میں ٹیلنٹ کی تلاش، شفاف ٹرائلز،
معیاری کوچنگ، جدید تربیت، مناسب سہولیات، فٹنس، مسلسل کارکردگی اور غیرجانبدارانہ انتخاب سب شامل ہیں۔جب کسی نوجوان کو یہ
یقین ہو کہ اس کی محنت اسے آگے لے جائے گی تو وہ دن رات محنت کرتا ہے اور جب اسے محسوس ہو کہ اس کی کارکردگی سے زیادہ سفارش،
تعلقات یا گروپ بندی اہم ہے تو اس کے ہاتھ میں موجود ریکٹ، بیٹ، گیند بھی اس کا حوصلہ نہیں بچا سکتا۔یہیں سے زوال شروع ہوتا
ہے۔ ہم اکثر بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ پاکستان ٹیلنٹ سے مالا مال ہے یقیناً ہے مگر صرف ٹیلنٹ کافی نہیں ہوتا۔ ٹیلنٹ کو نظام چاہیے،
تربیت چاہیے، مواقع چاہیے اور سب سے بڑھ کر میرٹ چاہیے پاکستان نے کرکٹ میں عالمی کپ جیتا، اسکواش میں دنیا پر حکمرانی کی، ہاکی
میں عالمی اعزازات حاصل کیے اور مختلف کھیلوں میں ہمارے کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیت منوائی لیکن ماضی کی کامیابیاں مستقبل کی ضمانت
نہیں ہوتیں۔ اگر ہم آج بھی پرانی کامیابیوں پر فخر کرتے رہیں اور نئی نسل کے لیے وہی نظام نہ بنائیں جس نے ماضی میں چیمپئن پیدا کیے
تھے تو صرف تاریخ سنانے سے کھیل ترقی نہیں کرے گا کرکٹ میں بھی یہی اصول ہے قومی ٹیم میں جگہ کسی کا مستقل حق نہیں ہونی چاہیے جو کھلاڑی بہتر کارکردگی دکھائے اسے موقع ملنا چاہیے جو مسلسل اچھا کھیل رہا ہو اسے آگے بڑھایا جائے اور جو توقعات پوری نہ کرسکے اس
کے بارے میں شفاف اور میرٹ پر فیصلہ ہونا چاہیے ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ پاکستان میں کتنے ایسے باصلاحیت نوجوان صرف اس لیے کھیل چھوڑ دیتے ہیں کہ ان کے پاس وسائل نہیں کتنے بچے ایسے ہیں جن کے والدین مہنگی فیس، کٹس، سفر اور تربیت کے اخراجات
برداشت نہیں کرسکتے کتنے کھلاڑی ایسے ہیں جو کسی بڑے شہر کے کلب تک نہیں پہنچ پاتے اس سلسلہ میں ریاست، کھیلوں کی فیڈریشنوں، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ہر ضلع میں ٹیلنٹ ہنٹ ہو، شفاف ٹرائلز ہوں، باصلاحیت بچوں کا ڈیٹا تیار کیا جائے انہیں
اسکالرشپ دی جائیں کوچنگ فراہم کی جائے اور پھر ان کی کارکردگی کی بنیاد پر انہیں صوبائی اور قومی سطح تک پہنچایا جائے فیڈریشنوں میں
بھی احتساب ضروری ہے عہدے اعزاز نہیں، ذمہ داری ہیں۔ اگر کوئی عہدیدار برسوں عہدے پر رہ کر بھی اپنے کھیل کو آگے نہ لے جاسکے تو
اس سے سوال ہونا چاہیے کہ اس نے کھلاڑیوں کے لیے کیا کیا؟کھیلوں کا بجٹ کہاں خرچ ہوا؟ کتنے نئے کھلاڑی سامنے آئے؟ کتنے
کھلاڑیوں کو بین الاقوامی تربیت ملی؟ کتنے ٹرائلز شفاف طریقے سے ہوئے؟

یہ سوالات کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ ایک بہتر نظام کے لیے ہیں۔ ہاشم خان کے پاس وسائل نہیں تھے لیکن راستہ کھلا تھا۔ انہوں نے
دوسروں کو کھیلتے دیکھا، سیکھا، محنت کی اور پھر دنیا کو شکست دے دی آج شاید ہمارے پاس ہاشم خان سے کہیں زیادہ باصلاحیت نوجوان
موجود ہیں مگر ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ان کے لیے راستہ بھی اتنا ہی کھلا ہے؟کیا کسی گاؤں کا عام بچہ بھی عالمی چیمپئن بن سکتا ہے؟آج
پاکستان میں کھیلوں کا پورا نظام موجود ہے پاکستان سپورٹس بورڈ، وزیر اعظم یوتھ پروگرام ہے، صوبائی سطح پر کھیلوں کے محکمے ہیں، فیڈریشنز
ہیں اور انکے بجٹ ہیں اس سب کے باوجود ہم جعلی کھلاڑی پیدا کرتے ہیں انکے ویزے لگواتے ہیں اور پیسہ کماتے ہیں آج ادارے موجود
ہیں لیکن کامیابیاں سمیٹنے والے لوگ موجود نہیں ہیں ہمیں ان اداروں میں ایسی شفافیت چاہئیں جہاں سفارش دروازے پر ہی رک جائے اور
صلاحیت اندر داخل ہو جہاں عہدہ کارکردگی سے بڑا نہ ہو، جہاں تعلق ٹیلنٹ پر بھاری نہ پڑے اور جہاں کھلاڑی کا مستقبل کسی کی ذاتی پسند
و ناپسند کا محتاج نہ ہو کیونکہ کھیل میں بھی وہی اصول ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ہے میرٹ ہوگا تو مقابلہ ہوگا، مقابلہ ہوگا تو صلاحیت نکھرے
گی، صلاحیت نکھرے گی تو کامیابی آئے گی اور اگر میرٹ ختم ہوگیا تو کامیابی بھی صرف ماضی کی کہانی بن کر رہ جائے گی۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں