میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
غربت سے امارت تک

غربت سے امارت تک

جرات ڈیسک
پیر, ۲۱ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

جنوبی سوڈان کے مشہور ارب پتی ‘لارنس لوال’نے جب اپنی محنت اور دماغ سے بے پناہ دولت کمائی، تو اچانک حکومت حرکت میں آ
گئی۔ حکام نے فوراً لارنس کے ‘ذرائع آمدن’(Source of Income)کی سخت تحقیقات شروع کر دیں کہ اس کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا۔ لارنس نے ان تحقیقات پر کوئی شور نہیں مچایا، بلکہ خاموشی سے اپنی تمام دولت اور کاروبار سمیٹا اور ہمیشہ کے لیے کینیڈا منتقل ہو گیا۔ جاتے جاتے حکومت کے منہ پر طمانچہ مارا۔ لیکن ملک چھوڑتے وقت اس نے میڈیا اور حکومت کو ایک ایسا پیغام دیا جس نے سب کی بولتی بند کر دی۔لارنس نے اپنے پیغام میں لکھا۔ جب میں جوبا شہر کے فٹ پاتھوں پر سوتا تھا، بارشوں میں رات بھر بھیگتا تھا، بھوکا پیاسا دن گزارتا تھا اور کچرے کے ڈھیر سے روٹی کے ٹکڑے نکال کر کھاتا تھا۔تب حکومت کہاں تھی؟ اس وقت حکام کو میرے ‘سورس آف غربت’ (Source of poverty)میں دلچسپی کیوں نہیں ہوئی؟ اور آج جب میں نے محنت سے پیسے کما لیے تو تم مجھ سے سورس آف انکم
پوچھنے آ گئے؟

یہ کڑوا سچ صرف لارنس کا نہیں، بلکہ ہر اس غریب کی کہانی ہے جسے برے وقت میں ریاست لاوارث چھوڑ دیتی ہے، لیکن کامیاب ہونے
پر حصہ مانگنے پہنچ جاتی ہے۔ امریکا کے شہر بروکلین میں ایک بچہ ایک معمولی سے سرکاری رہائشی منصوبے میں رہتا تھا۔ گھر غریب تھا، والد
معمولی ملازمت کرتے تھے ، خواب چھوٹے تھے اور مسائل بڑے۔ ایک دن والد کام کے دوران زخمی ہوگئے ۔ گھر واپس آئے تو ٹانگ پر
پلستر تھا۔ علاج کے لیے مناسب سہولت نہیں تھی، کام ختم، آمدنی ختم اور گھر کے اخراجات اپنی جگہ موجود تھے ۔ وہ بچہ دروازے کے پاس کھڑا
اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا اور شاید پہلی مرتبہ اسے معلوم ہوا کہ غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں، یہ انسان کے اندر سے مستقبل کا یقین بھی
چھین لیتی ہے ۔ اس بچے کا نام Howard Schultzتھا۔ وہی Howard Schultzجو بعد میں Starbucksکو دنیا کے
بڑے کاروباری برانڈز میں تبدیل کرنے والوں میں شمار ہوا۔ وہ خود بتاتا ہے کہ اس کے بچپن نے اسے یہ سبق دیا کہ اگر کسی انسان کے پاس
مشکل وقت میں کوئی سہارا نہ ہو تو ایک حادثہ پورے خاندان کو توڑ سکتا ہے ۔لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے ۔ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو غربت کو اپنی قسمت سمجھ کر بیٹھ جاتے ہیں اور دوسرے وہ جو غربت کو اپنا استاد بنا لیتے
ہیں۔ پہلے لوگ کہتے ہیں، ‘‘میرے پاس وسائل نہیں ہیں’’، دوسرے پوچھتے ہیں، ‘‘میرے پاس وسائل کیوں نہیں ہیں اور میں انہیں پیدا
کیسے کر سکتا ہوں’’؟ فرق صرف اتنا سا ہے ، مگر یہی فرق بعض اوقات انسان کو فٹ پاتھ سے محل تک پہنچا دیتا ہے ۔

جنوبی کوریا کا ایک نوجوان Do Won Changبھی انہی لوگوں میں شامل تھا۔ وہ 1981ء میں اپنی اہلیہ کے ساتھ امریکا پہنچا۔ پیسے کم تھے ، تعلیم یونیورسٹی کی سطح کی نہیں تھی اور زبان بھی مکمل طور پر مانوس نہیں تھی۔ اس نے ایک وقت میں تین کام کیے ، کافی شاپ میں کام، پٹرول پمپ پر ملازمت اور صفائی کا کام۔ اس کی اہلیہ ہیئر ڈریسر کے طور پر کام کرتی تھیں۔ یہاں ذرا رک کر سوچیے ۔ ایک طرف تین نوکریاں کرنے والا نوجوان، دوسری طرف لاس اینجلس کی وہ دنیا جہاں لوگ فیشن، کاروبار اور سرمایہ کی زبان بولتے تھے ۔ ایک دن Do Won نے محسوس کیا کہ گیس اسٹیشن پر آنے والے نسبتاً خوش حال لوگ زیادہ تر گارمنٹس کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اس نے سوال کیا، ‘‘یہ لوگ اتنی اچھی گاڑیاں کیسے چلاتے ہیں’’؟ اس سوال نے اس کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ اس نے کپڑوں کے کاروبار کو سمجھنا شروع کیا۔ تین سال کی محنت کے بعد میاں بیوی نے تقریباً 11ہزار ڈالر جمع کیے اور 1984ء میں لاس اینجلس میں صرف 900مربع فٹ کی ایک چھوٹی سی دکان کھولی۔ اس کا نام Fashion 21تھا۔ پہلے سال ہی اس دکان نے تقریباً 700ہزار ڈالر کی فروخت کی۔ یہی کاروبار آگے چل کر Forever 21بن گیا۔

دنیا کا المیہ دیکھیے ، ہم اکثر کامیاب آدمی کو اس کی آخری منزل پر دیکھتے ہیں اور اس کے راستے کے پتھر بھول جاتے ہیں۔ ہم کسی کروڑ پتی کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں، ‘‘اس کے پاس پیسہ ہے ’’۔ ہم کسی ارب پتی کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں، ‘‘اس کے پاس وسائل ہیں’’۔ لیکن ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کبھی اس کے پاس صرف ایک خیال تھا، دو ہاتھ تھے ، چند گھنٹے تھے اور ناکامیوں کا ایک طویل راستہ تھا۔ Jan Koumکی زندگی بھی اسی فلسفے کی ایک مثال ہے ۔ وہ یوکرین سے امریکا آیا، اس کے خاندان نے مالی مشکلات دیکھیں اور خاندان نے food stamps جیسے حکومتی امدادی نظام سے بھی فائدہ اٹھایا۔ بعد میں اسی نوجوان نے واٹس ایپ کی بنیاد رکھی، جو 2014ء میں فیس بک کو تقریباً 19 ارب ڈالر کے سودے میں فروخت ہوا۔ یعنی جس شخص کے گھر میں کبھی وسائل محدود تھے ، اس نے بعد میں ایسی ٹیکنالوجی بنائی جس کی قیمت اربوں ڈالر لگائی گئی۔

یہاں اصل سوال دولت کا نہیں ہے۔ اصل سوال تبدیلی کا ہے ۔ انسان آخر تبدیل کیسے ہوتا ہے؟ قرآن کریم فرماتا ہے۔ ‘‘انسان کے
لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔”پیسہ کمانا مشکل ہے، لیکن پیسہ کما کر اپنے ماضی کو نہ بھولنا اس سے کہیں مشکل ہے ۔ ایک غریب آدمی امیر ہو جائے تو یہ ذاتی کامیابی ہے، لیکن اگر ایک امیر آدمی غریب انسان کے لیے راستہ آسان کر دے تو یہ انسانی کامیابی ہے۔

غربت انسان کی آخری شناخت نہیں ہونی چاہیے۔ غربت ایک حالت ہے، شخصیت نہیں۔ امارت بھی صرف بینک اکاؤنٹ کا نام نہیں۔
اصل امارت یہ ہے کہ انسان کے پاس خواب ہو، ہمت ہو، کردار ہو، علم ہو، مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت ہو اور کامیاب ہونے کے بعد دوسروں کے لیے دروازے کھولنے کا حوصلہ بھی ہو۔

دنیا کے ہر غریب بچے کے پاس شاید Howard Schultzجیسا موقع نہ ہو، ہر نوجوان Do Won Changجیسا کاروباری ذہن نہ رکھتا ہو، ہر شخص Jan Koumجیسی ٹیکنالوجی نہ بنا سکے ، لیکن ہر معاشرہ یہ ضرور فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ اپنے غریب انسان کو ہمیشہ غریب رکھے گا یا اسے آگے بڑھنے کا موقع دے گا۔
بعض لوگ غربت سے نکل کر صرف امیر بنتے ہیں۔ اور بعض لوگ غربت سے نکل کر دوسروں کے لیے مدد اور راستہ بن جاتے ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں