میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آپ کے مسائل اور ان کا حل

آپ کے مسائل اور ان کا حل

جرات ڈیسک
جمعه, ۳۱ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

مفتی محمد وقاص رفیع

فاطمہ نام رکھنے کی منت ماننے کا حکم
سوال:میرے ہسبنڈ نے خانہ کعبہ میں جا کر یہ سوچا تھا کہ اگر اللہ پاک نے بیٹی دی تو اس کا نام فاطمہ رکھیں گے ۔ تو کیا ہم صرف فاطمہ ہی رکھ سکتے ہیں، یا فاطمہ کے ساتھ کوئی اور نام بھی لگا سکتے ہیں؟ جیسے "ایمان فاطمہ”ہوتا ہے ، اس طرح کچھ رکھ سکتے ہیں؟ سائلہ: امامہ زکریا (حافظ آباد)
جواب:فاطمہ نام رکھنا ضروری نہیں کوئی اور نام بھی رکھ سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو فاطمہ نام کے ساتھ کوئی اور نام ملا کر بھی رکھ سکتے ہیں جیسے ایمان فاطمہ، حیا فاطمہ رداء فاطمہ وغیرہ۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

"ابنا”یا ” بنات”کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنے کا حکم:
سوال:اگر کوئی اپنے گروپ کا نام "ابناء مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم” یا "بنات سراج المنیر صلی اللّٰہ علیہ وسلم”رکھے تو کیا ایسا نام رکھنا جائز ہوگا!؟ (کیونکہ آج تک اس طرح کی اصطلاح نہ سنی ہے نہ کہیں نظر سے گزری ہے ) سائلہ:کرن ناز (انگلینڈ)
جواب: "ابنا” یا "بنات” جیسے الفاظ سے نسب کی حقیقی نسبت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا تو جائز نہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی کی ہے البتہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ کی طرف روحانی نسبت کرنا جائز ہے ۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

زندوں اور مردوں کو طواف کا ثواب پہنچانے کا حکم:
سوال:مفتی صاحب مرحومین کی طرف سے اور جو حیات ہیں ان سب کی طرف سے طواف کر سکتے ہیں؟ میں نے سب کی طرف سے طواف کیے ہیں اب کچھ لوگ کہ رہے ہیں کہ طواف مرحومین کی طرف سے نہیں کرسکتے ۔ سائل: رفاقت سلطان (کراچی)
جواب:لوگ غلط کہہ رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ آپ زندوں اور مردوں سب کی طرف سے طواف کرسکتے ہیں اور اس کا ثواب ان سب کو ملے گا۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

چرس کی بو طرح پرفیوم بنانے اور اس کے استعمال کا حکم:
سوال: محترم !چرس کی بو کی طرح پرفیوم بنانا اور استعمال کرنے میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟ سائل:جمیل منٹھار (کراچی)
جواب:چرس کی بو کی طرح پرفیوم بنانے اور اس کے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس میں چرس کی آمیزش بالکل نہ ہو۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

آن لائن نکاح کرنے کا حکم:
سوال:مفتی صاحب آن لائن نکاح کا کیا حکم ہے ؟ سائل:علی رضا (کبیر والا ضلع خانیوال)
جواب:نکاح کے درست ہونے کے لیے ایجاب وقبول کی مجلس کا باہم متحد ہونا ضروری ہے ، جب کہ آن لائن نکاح کرنے کی صورت میں ایجاب و قبول کی مجلس باہم متحد نہیں ہوسکتی، لہٰذا آن لائن نکاح کے جواز کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ فریقین (دولہا دلہن) میں سے کوئی ایک فریق فون پر کسی ایسے آدمی کو اپنا وکیل بنادے جو دوسرے فریق کے پاس موجود ہو اور وہ وکیل شرعی گواہوں (یعنی دو مسلمان عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں فریقِ اول (غائب) کی طرف سے ایجاب کرلے اور دوسرا فریق اسی مجلس میں قبول کرلے تو اتحادِ مجلس کی شرط پوری ہونے کی وجہ سے یہ نکاح آن لائن صحیح ہوجائے گا۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

حائضہ عورت کا مطاف میں جانے کا حکم:
سوال:مفتی صاحب حائضہ عورت مطاف میں جاسکتی ہے ؟ سائلہ:شہلا منصور (ہانگ ہانگ)
جواب:حیض والی عورت طواف کرنے والی جگہ میں نہیں جاسکتی کیوں کہ حیض آنے کی وجہ سے وہ ناپاک ہوتی ہے اور طواف والی جگہ پر جانے کے لئے عورت کا پاک ہونا ضروری ہے ۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

جوبلی انشورنس کا حکم:
سوال:مفتی صاحب ایک مسئلے کے بارے میں پتہ کرنا تھا انشورنس کے بارے میں علماء کی کیا رائے ہے مثلا ایک بندے نے اگر جوبلی انشورنس کروانی ہے اپنے مال کی حفاظت کے لیے اس کے گودام میں 12، 13 کروڑ کا مال پڑا ہوا ہے اور اس کا سال کا وہ دو لاکھ روپے جوبلی انشورنش والوں کو دیتا ہے تو آیا یہ انشورنس ٹھیک ہوگی یا کوئی انشورنس علماء کی نظر میں ایسی ہے جو اسلامک ہو اور وہ ٹھیک ہو ؟ سائل: زین العابدین (بنگلور انڈیا)
جواب:انشورنس جوبلی ہو یا کوئی اور یہ سراسر جوئے پر مبنی ہوتی ہے اس لئے یہ بالکل حرام اور ناجائز ہے اور اس کا بہترین متبادل حل "تکافل” ہے جس سے اس سے مقاصد حل ہو جاتے ہیں اور وہ جائز ہے ۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

کریڈٹ کارڈ کے استعمال کا حکم:
سوال:مفتی صاحب! براہِ کرم رہنمائی فرمائیں میں سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہوں، اور میرے ساتھ میری اہلیہ اور بچے بھی رہتے ہیں۔ جس کمپنی میں میں کام کرتا ہوں وہاں تنخواہ کی تاریخ مقرر نہیں ہے ، کبھی جلدی آ جاتی ہے اور کبھی کافی دیر سے ، اس کی وجہ سے ہر ماہ بچوں کی اسکول فیس، گھر کا کرایہ، گاڑی کی قسط اور دیگر ضروری اخراجات وقت پر ادا نہیں ہو پاتے ، بلکہ بعض اوقات جرمانہ بھی ہو جاتا ہے ، وقت پر ادائیگی کرنے کے لیے کبھی کسی دوست سے قرض لینا پڑتا ہے ، پھر تنخواہ آتے ہی وہ قرض واپس کر دیتا ہوں، لیکن بار بار قرض مانگنے میں شرمندگی محسوس ہوتی ہے ۔چونکہ تنخواہ کی تاریخ مقرر نہیں ہے جبکہ ماہانہ اخراجات مقرر اور وقت پر ادا کرنا ضروری ہوتے ہیں، تو کیا ایسی صورت میں میرے لیے شریعت کے مطابق (Shariah Compliant) کریڈٹ کارڈ رکھنا جائز ہوگا؟
میری نیت صرف یہ ہے کہ کسی سے قرض نہ مانگنا پڑے ، اور جیسے ہی تنخواہ آئے ، کریڈٹ کارڈ کی پوری رقم فوراً ادا کر دوں، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔ مجھے حرام اور سود سے بہت ڈر لگتا ہے ، اور یہ خوف بھی رہتا ہے کہ اگر میں کریڈٹ کارڈ لے لوں یا بنوا لوں تو کہیں اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہو جائیں یا میرے گھر اور اہلِ خانہ کی برکت نہ اٹھ جائے ۔ اللہ کے لیے اس بارے میں میری رہنمائی فرما دیں۔ سائل:شاہ رخ ملک (سعودی عرب)
جواب:کسی معاملے کے حلال وحرام ہونے کا مدار درحقیقت وہ معاہدہ ہوتا ہے جو فریقین کے درمیان طے پاتا ہے ، کریڈٹ کارڈ لینے والا کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والے اداروں کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں لی جانے والی رقم واپس نہ کر سکا تو ایک متعین شرح کے ساتھ جرمانہ کے نام پر سود ادا کروں گا۔ جس طرح سود کا لینا حرام ہے اسی طرح اس کا معادہ کرنا بھی شرعا ناجائز اور حرام ہے ۔ اس بنیاد پر بالفرض اگر کریڈٹ کارڈ لینے والا لی گئی رقم مقررہ مدت میں واپس بھی کردے تو معاہدہ کے سودی ہونے کی وجہ سے اصولی طور پر کریڈٹ کارڈ کا استعمال نا جائز ہے ۔ اور اگر مقررہ مدت کے بعد سود کے ساتھ رقم واپس کرتا ہے تو اس کے ناجائز ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے ، اس لیے ادائیگی کی صورت کوئی بھی ہو اس سے قطع نظر نفس معاہدہ کے سودی ہونے کی وجہ سے کریڈٹ کارڈ بنوانا ہی ناجائز ہے ۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

گورنمنٹ اسکیم سے فنڈ لینے والے پر قربانی کا حکم:
سوال:مفتی صاحب ایک شخص نے گورنمنٹ سکیم سے فنڈ لیا گھر کی تعمیر کا اب وہ اس کے پاس رقم موجود ہے کیا اس رقم کی وجہ سے اس پر قربانی ہوگی؟ سائل: مولانا محمد طیب علوی (حسن ابدال ضلع اٹک)
جواب:گورنمنٹ سکیم سے فنڈ لینے والے شخص پر قربانی واجب نہیں ہے کیوں کہ اس نے یہ رقم بطور قرض حکومت سے لی ہے جس کا ادا کرنا اس کے ذمہ ضروری ہے اور دوسرے یہ کہ یہ رقم اس کی حاجات اصلیہ میں بھی داخل ہے یعنی وہ اپنے رہنے سہنے کے لئے گھر بنانا چاہتا ہے لہٰذا ایسے شخص پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے ۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں