میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عصرِ حاضر میں قرآن کریم سے بے توجہی

عصرِ حاضر میں قرآن کریم سے بے توجہی

جرات ڈیسک
اتوار, ۲۷ اگست ۲۰۲۳

شیئر کریں

مولوی محمد طیب حنیف

حق تعالیٰ شانہٗ کے اَن گنت انعامات واحسانات میں سے دو انعام تاریخِ اسلامی کے لیے یادگار وبیش قیمت ہیں، جن کی بدولت گم گشتہ راہ انسان کو ہدایت وکامرانی کے زینہ سے متعارف کرایا گیا، جس سے قعرِ مذلت میں بھٹکی انسانیت نے ترقی کی منازل کو طے کیا۔ ان میں ایک سب سے عظیم نعمت فخرِ دو عالم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودِ اطہر ہے، جن کی آمد سے چہار دانگِ عالم میں توحید کا غلغلہ اُٹھا، جن کی بعثت نے اطرافِ عالم کو آفتابِ ہدایت کی کرنوں سے منور کیا، یوں انسانیت کی اندوہناک تاریخ نے گمراہیت کی تاریکیوں سے بامِ عروج تک کے سفر کا آغاز کیا۔
دوسری گراں قدر نعمت اُمتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوات والتسلیمات کے لیے کلامِ پاک کا نزول ہے، جس نے روحانی وجسمانی امراض و آلام میں گرفتار انسانیت کو بطور نسخہئ کیمیا علاج فراہم کیا، نیز مردہ دل اقوام کو ابدی زندگی سے روشناس کرایا، عقل وخرد کے حامل خود ساختہ رسوم وقیود میں جکڑے افراد کو کرامت ِ انسانی کا بھولا ہوا درس یاد دلاکر بلند نگاہی ووسعتِ ظرفی سے بہرہ یاب کیا:
ہر دو عالم قیمتِ خود گفتہ ای
نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز
”تم نے اپنی قدر وقیمت سے دونوں عالم کو مطلع کیا ہے، اپنی قیمت بڑھاؤ، یہ اس حد تک بھی سستا سودا ہے“۔
حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب ؒنے اس کو خوبصورت پیرائے میں ڈھالتے ہوئے فرمایا:درحقیقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو دو بعثتوں سے سرفراز کیا گیا:
1۔بعثت ِجسمانی:اس کو حیاتِ ظاہری سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، جس کا آغاز ماہِ ربیع الاول کے مہینہ سے ہوا، جس وقت آپ کی ذاتِ گرامی کو عدم سے وجودبخشا گیا، جس نے افرادِ انسانی کو حقیقی انسانیت کا سبق دیا۔
2۔بعثت ِروحانی:اس کو حیاتِ ثانیہ سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس کی ابتدا نزولِ قرآن سے ہوئی، جس سے آپ کے شرف وکرامت میں مزید اضافہ ہوا۔
ان میں سے پہلی بعثت جمال ہی جمال تھی، جبکہ دوسری بعثت جمال وکمال کا بیش بہا خزینہ تھی، جس کا مشاہدہ آج تک کیا جارہا ہے۔
بعثت ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد
قرآن مجید میں الفاظ کی تقدیم وتاخیر کے ساتھ متعدد مقامات پر آپ کی بعثت ورسالت کے مقاصدِ عظمیٰ کو اُجاگر کیا گیا ہے، جس سے وحی اور موحٰی الیہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی) کا شرف وتکرُّم نمایاں ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:
”والَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۰ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ“
ترجمہ:(اللہ مالک وبرتر ذات) وہی ہے جس نے اُمی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول کو بھیجا جو اُن کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کرتا ہے، اُن کا تزکیہ کرتا ہے، اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے“۔
تعلیم وتعلُّمِ قرآن کی فضیلت
قرآن مجید باری کا کلام، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ، کتابِ ہدایت، دستورِ حیات وتمام انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے، جس کے الفاظ کے ساتھ معانی کے تحفظ کا ذمہ قدرتِ خداوندی نے لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تعلیم وتعلُّم کو افضل ترین اعمال میں شمار کرکے اس سے وابستہ افراد کو خیریت کا مژدہ سنایا ہے۔ اس عمل کے دیگر اعمال سے افضل ہونے کے سبب کو شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلویؒ نے یوں اُجاگر کیا ہے:کلام پاک چوں کہ دین اسلام کی اصل وبنیاد ہے، اس کی بقاؤثباتی پر شریعت دین کا مدار ہے، اس پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے قرآن مجید کا افضل ترین ہونا ظاہر وباہر ہے“۔
یہ بات تو مسلم ہے کہ جس چیز کی جس قدر اہمیت وعظمت ہوتی ہے، اسی لحاظ سے اس کے آداب وحقوق کی رعایت و پاسداری کی طرف توجہ مبذول کرائی جاتی ہے، چونکہ اس عظیم نعمت سے غفلت وبے توجہی بسااوقات ابدی محرومی کا سبب بنتی ہے، چنانچہ قرآن مجید کو خوش الحانی سے ترتیل وتجوید سے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے معانی ومفاہیم میں تفکُّر وخوض اور اس کو عملی زندگی میں زندہ کرنا یہ بھی اس کے حقوق میں داخل وشامل ہے، جس کی رعایت ہر مسلمان پر ضروری ہے۔
ہجر القرآن(قرآن کریم سے بے توجہی) کا مفہوم
قرآن مجید میں صراحتاًآتا ہے کہ روزِ قیامت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم سے متعلق شکویٰ و شکایت کریں گے کہ انہوں نے قرآن مجید کو مہجور بنادیا، چنانچہ فرمایا:”وَقَالَ الرَّسُوْلُ یَارَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْآنَ مَہْجُوْرًا“۔
لفظ“مَہْجُوْر”یہ کلمہ“ہجر”سے ماخوذ ہے، جس کے دو معانی مفسرین نے ذکر کیے ہیں:
1۔کسی چیز کوترک کردینا/لاپرواہی کے ساتھ پسِ پشت ڈال دینا۔ اس کا معنی تو بالکل واضح ہے کہ روزِ قیامت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید سے عدمِ التفات وبے توجہی کی شکایت کریں گے، جیسا کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ قرآن مجید اپنے حقوق کی کوتاہی پر حق تعالیٰ شانہ کے دربار میں مخاصمت کرے گا، فرمایا:
”من تعلم القرآن وعلق مصحفہٗ لم یتعاہدہ ولم ینظر فیہ جاء یوم القیامۃ متعلقًا بہٖ یقول: یا رب! عبدک ہٰذا اتخذنی مہجورا اقض بینی وبینہٗ“۔
ترجمہ:جس نے قرآن مجیدکو سیکھا، اور پھر اس کو طاقچہ میں رکھ کر اس کے حقوق کی رعایت سے غفلت برتی، اس میں دیکھ کر پڑھنے کا بالکل اہتمام نہیں کیا، ایسی صورت میں یہی قرآن روزِ قیامت اس کے ساتھ چمٹے ہوئے آئے گا اور حق تعالیٰ شانہٗ کی بارگاہ میں درخواست گزار ہوگا کہ اے میرے رب! آپ کے اس بندے نے مجھے بالکل سِرے سے پس پشت ڈال دیا، میرے اور اس کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمادیجیے“۔
2۔ہذیان وبدگوئی، یعنی روزِ قیامت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی شکایت کریں گے کہ یہ اقرارِ حق سے روگردانی کرنے والے قرآن مجید کو لغو وعبث کلام تصور کرتے ہوئے اس کو تختہئ مشق بناتے اور اس کو استہزاء کا نشانہ بناتے تھے، اور اس کے سامنے آوازیں بلند کرکے اس کی تحقیر و توہین کا ارتکاب کرتے تھے۔
ہجر القرآن کی عملی مروجہ صورتیں
حافظ ابن القیم حنبلی ؒ نے اپنی کتاب“الفوائد ”میں ہجر القرآن کی پانچ عملی صورتوں کو ذکر کیا ہے، جو درج ذیل ہیں:
1۔تلاوتِ قرآن اور سماعت میں بے توجہی کا اظہار
عام طور پر یہ مشاہدہ ہے کہ قرآن مجید کو مخصوص حالات مثلاً غم وکرب، مخصوص زمان مثلاً کسی عزیز کی رحلت و وصال پر تلاوت کیا جاتا ہے، باقی ایام میں اس کو نہایت غفلت کے ساتھ الماری کی نذر کردیا جاتا ہے، یہ نہایت برا عمل ہے، اسی طرح قرآن مجید پڑھتے ہوئے خاموشی سے کان لگانے کے بجائے اس پر آوازیں بلند کرنا، یا محض عدمِ التفات یہ سب“ہجر القرآن”کے وسیع مفہوم کا حصہ ہیں، جن سے احتراز ضروری ہے۔
2۔آیات ومضامینِ قرآنی کے فہم وتفکر سے غفلت کا اظہار
قرآن مجید حق تعالیٰ شانہ کا کلام ہے، جن سے ہر صاحب ِایمان شخص کو محبت ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ محبوب کے خط تک رسائی کی صورت میں عاشق اس وقت تک بے چین و بے سکونی کی زندگی بسر کرتا ہے جب تک کہ اس کے مندرجات پر اطلاع نہ ہوجائے، اور اس کے مضمون کی فہم دانی کے لیے کوئی دقیقہ نہیں اُٹھاتا ہے، تو کیا ملک الملوک ذات کے کلام کو اس قدر بھی اہمیت ورتبہ حاصل نہیں؟
3۔احکاماتِ قرآنی پر عمل پیرائی سے استغنا کا اظہار
قرآن مجید کو دستور ِحیات، مشعلِ راہ اور کتابِ ہدایت تسلیم کرنے کے باوجود اس کے حلال و حرام، اوامر ونواہی سے متعلق کوتاہی وغفلت کا اظہار یہ ایسا شنیع عمل ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ معاشرے میں سکونت پذیر خلقتِ خدا کی ایک بڑی تعداد اس مرض میں مبتلا ہے، جو مغربی تہذیب وتمدن پر اس قدر فریفتہ ہیں کہ ان کے طرزِ زندگی کے اپنانے کو باعث ِفخر ومسرت تصور کرتے ہوئے اس کو کامیابی سمجھا جاتا ہے، اور ا س تاریک راہ کو ترقی کے دلفریب عنوان ولیبل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے:
میں قرآن پڑھ چکا تو اپنی صورت ہی نہ پہچانی
میرے ایمان کی ضد ہے مرا طرزِ مسلمانی
4۔نجی زندگی وگھریلوں معاملات میں رفعِ تنازع کے لیے قرآنی ہدایات کو ناقص تصور کرنا
قرآن مجید ہمارے واسطے محض قصہ گوئی کی کتاب نہیں، بلکہ ایک جامع دستور ِحیات وقانونِ زندگی ہے، جس کے ذریعہ نجی وداخلی تنازعات کو بحسن وخوبی رفع کیا جاسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کو حکم و فیصل تسلیم کرنا اور اس کے مطابق زندگی کو ڈھالنا اس کے حقوق میں داخل وشامل ہے۔
5۔امراضِ جسمانی وروحانی کے لیے نہایت مفید و باعثِ شفاء
انسانی جسم جو غم وتکالیف کی آماج گاہ ہے، اس میں روحانی وجسمانی امراض وتکالیف سے نجات کے لیے بعض آیات کا ورد بطور علاج وشفاء نہایت مجرب ہے، جب اس کلام پاک کے نزول کی تاثیر سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل سکتا ہے تو روحِ انسانی سے حسد وعداوت، کینہ و بغض جیسی بیماریوں کو مکمل صاف کردیتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:“قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَاءٌ”یعنی یہ قرآن مجید اہلِ ایمان کے لیے ہدایت وشفایابی کا ذریعہ ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن مجید کے ساتھ صحیح تعلق ووابستگی قائم کرنے اور اس کے حقوق کی پاسداری کی توفیق عطا فرمائے، اور روزِ قیامت اس کو ہمارے خلاف حجت بننے سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں