میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، موجودہ شرح سود برقرار

نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، موجودہ شرح سود برقرار

جرات ڈیسک
پیر, ۲۷ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

مرکزی بینک ملکی معیشت میں استحکام، مہنگائی پر قابو، بیرونی کھاتوں کے توازن برقرار رکھنے پر زور

مالیاتی شعبے کی مضبوطی کو یقینی بنانے کیلئے آئندہ بھی متوازن پالیسی اپنائے رکھے گا؛ گورنر اسٹیٹ بینک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے آئندہ دو ماہ کے لیے پالیسی ریٹ (شرح سود) 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پیر کو مانیٹری پالیسی سے متعلق پریس کانفرنس میں کیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ملکی اور عالمی معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور جولائی سے فروری کے دوران اوسط مہنگائی 5.5 فیصد رہی۔ ان کے مطابق مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مالی سال 2027 میں اس کے جی ڈی پی کے تناسب سے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔جمیل احمد نے بتایا کہ عالمی حالات کے باوجود ترسیلات زر اور برآمدات میں بہتری کی توقع برقرار ہے۔ ان کے مطابق دسمبر 2026 تک ترسیلات زر 20.20 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث مالی سال 2027 میں برآمدات میں مزید بہتری متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں گزشتہ چار ماہ کے دوران 30 کروڑ ڈالر کی آمد ہوئی ہے، جو بیرونی شعبے کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ رواں مالی سال درآمدات میں اضافہ متوقع ہے، تاہم بیرونی مالی آمدن اور دیگر ذرائع کی بدولت زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری برقرار رہے گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں