میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارت ماحولیاتی اعتبار سے بدترین ملک

بھارت ماحولیاتی اعتبار سے بدترین ملک

جرات ڈیسک
بدھ, ۲۹ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

2026 کے ماحولیاتی کارکردگی اشاریے میں بھارت 176ویں نمبر پر رہا، یعنی اس کی پوزیشن دنیا میں نیچے سے دوسری ہے۔یہ شرم ناک درجہ بندی بھارت کی ماحولیاتی پالیسیوں، حکومتی دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان موجود گہرے تضاد کو بے نقاب کرتی ہے۔ماحولیاتی کارکردگی اشاریہ ایک عالمی پیمانہ ہے، جس کے ذریعے ممالک کی کارکردگی کا جائزہ ماحولیاتی صحت، ماحولیاتی نظام کی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی سے متعلق اشاریوں کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔

ییل یونیورسٹی اور کولمبیا یونیورسٹی سمیت مختلف علمی اور تحقیقی اداروں کے سائنس دان ہر دو سال بعد عالمی ماحولیاتی کارکردگی اشاریہ مرتب کرتے ہیں۔ہر ملک کی درجہ بندی کے لیے سیٹلائٹ تصاویر سمیت متعدد ذرائع سے حاصل کردہ اعداد و شمار کو مختلف اشاریوں اور مخصوص موضوعاتی زمروں کے تحت جانچا جاتا ہے۔ماحولیاتی صحت کے شعبے میں ہوا کے معیار، ماحولیاتی آلودگی اور فضا میں موجود انتہائی باریک مضر ذرات کی مقدار جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔بھارت کی انتہائی ناقص درجہ بندی اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ حکومتی نظام کروڑوں شہریوں کو صاف اور محفوظ ہوا فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ماحولیاتی نظام کی پائیداری سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ملک اپنے قدرتی وسائل کا انتظام اور تحفظ کتنی مؤثر انداز میں کرتا ہے۔اس شعبے میں درختوں اور جنگلات کے رقبے میں کمی، زرعی زہروں سے آلودگی کے خطرات اور سمندری مساکن کے تحفظ جیسے اشاریے شامل کیے جاتے ہیں۔قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق بلند بانگ حکومتی دعوؤں کے باوجود، عملی صورت حال بدانتظامی، بے لگام آلودگی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تباہی کی سنگین تصویر پیش کرتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی کے شعبے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین سمیت نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں ہونے والی تبدیلیوں اور رجحانات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔موسمیاتی قیادت کے دعوے اس وقت محض کھوکھلے نعرے بن جاتے ہیں جب نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں کمی اور ماحول کے تحفظ کے عملی نتائج دکھائی نہ دیں۔ان تمام عوامل کو یکجا کرکے ہر ملک کو صفر سے 100 تک مجموعی ماحولیاتی کارکردگی اسکور دیا جاتا ہے۔ زیادہ اسکور بہتر ماحولیاتی کارکردگی، جبکہ کم اسکور سنگین ماحولیاتی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارت کا مجموعی ماحولیاتی کارکردگی اسکور صرف 22.46 ہے۔یہ انتہائی کم اسکور ثابت کرتا ہے کہ بڑی معیشت اور عالمی طاقت ہونے کے دعوے شہریوں کی صحت، قدرتی وسائل اور ماحول کے تحفظ کی ضمانت نہیں ہیں۔اس کے برعکس، سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والے ملک ایسٹونیا نے 74.79 اسکور حاصل کیا۔ایسٹونیا اور بھارت کے اسکور میں موجود وسیع فرق دونوں ممالک کی ترجیحات، پالیسی سازی اور عملی اقدامات کے درمیان گہری خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔لاؤس نے 21.78 اسکور کے ساتھ 2026 کے ماحولیاتی کارکردگی اشاریے میں سب سے بدترین کارکردگی دکھائی۔ بھارت کا لاؤس سے محض معمولی فرق کے ساتھ دنیا کا دوسرا بدترین ملک قرار پانا کسی بھی ذمہ دار حکومت کے لیے ایک سنگین انتباہ اور باعث شرمندگی ہونا چاہیے۔مخصوص پالیسی شعبوں میں بھارت ماحولیاتی صحت کے لحاظ سے 174ویں، ماحولیاتی نظام کی پائیداری میں 171ویں اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پالیسیوں میں 130ویں نمبر پر رہا۔یہ اعداد و شمار کسی ایک شعبے کی عارضی کمزوری نہیں، بلکہ بھارت کے پورے ماحولیاتی انتظامی نظام کی وسیع، مسلسل اور منظم ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں۔جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک میں بھارت کا علاقائی درجہ بھی سب سے آخری، یعنی آٹھواں، رہا۔

خطے کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے باوجود ماحولیاتی کارکردگی میں آخری مقام حاصل کرنا حکومتی ترجیحات اور پالیسیوں کی ناکامی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔اس سے قبل 2022 کے ماحولیاتی کارکردگی اشاریے میں بھی بھارت کو 180واں اور آخری مقام دیا گیا تھا۔مسلسل بدترین درجہ بندی سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک رپورٹ یا ایک مخصوص سال تک محدود نہیں، بلکہ ایک دیرینہ بحران ہے جسے حکومت مسلسل نظرانداز کرتی آئی ہے۔

2022 کی درجہ بندی سامنے آنے کے چند روز بعد بھارتی حکومت نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ اشاریہ ’’قیاس آرائیوں اور غیر سائنسی طریقوں‘‘ پر مبنی ہے۔تاہم عالمی درجہ بندی کو محض مسترد کردینے سے زہریلی ہوا، خطرناک دھند، آلودہ ماحول اور عوامی صحت کی تباہ کن زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ تنقید کا جواب اعداد و شمار پر الزام تراشی نہیں، بلکہ شفاف پالیسی سازی، سخت عمل درآمد اور قابلِ پیمائش عملی نتائج ہونے چاہییں۔بھارت میں زہریلی دھند، دھوئیں اور گرد و غبار کی غیر معمولی مقدار نے اسے سانس لینے کے لیے دنیا کے بدترین ممالک میں شامل کردیا ہے۔جب کروڑوں شہری صاف ہوا جیسے بنیادی حق سے بھی محروم ہوں تو معاشی ترقی اور عالمی طاقت کے تمام دعوے اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتے ہیں۔ بھارت زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بننے والی گرین ہاؤس گیسوں کا دنیا میں تیسرا سب سے بڑا اخراج کنندہ ہے۔اتنے بڑے پیمانے پر نقصان دہ گیسوں کے اخراج کے باوجود ناکافی اقدامات کرنا نہ صرف خطرناک غفلت، بلکہ اپنی عوام اور پوری دنیا کے مستقبل کے ساتھ سنگین لاپروائی کے مترادف ہے۔یہ درجہ بندی واضح کرتی ہے کہ تشہیری مہمات، سیاسی نعرے، عالمی کانفرنسیں اور حکومتی بیانات حقیقی ماحولیاتی کارکردگی کا نعم البدل نہیں ہوسکتے۔ماحولیاتی بحران کو مسلسل نظرانداز کرنا محض انتظامی ناکامی نہیں، بلکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے حقِ زندگی، صحت اور محفوظ مستقبل کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں