میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جوان وجود کو خط

جوان وجود کو خط

ویب ڈیسک
منگل, ۲۶ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستارچوہدری

میرے جوان وجود !! آج جب میرے ہاتھ کانپتے ہیں، نظردھندلا چکی ہے اورسیڑھیاں چڑھتے ہوئے سانس ساتھ چھوڑنے لگتی ہے تو مجھے تیرا خیال بہت آتا ہے ۔ وہی تُو ۔۔بیس برس کا نوجوان، آنکھوں میں خوابوں کے جنگل لیے ، دل میں محبتوں کے چراغ جلائے اور خود کو ہمیشہ زندہ رہنے والا سمجھنے والا لڑکا۔۔ میں آج بڑھاپے کی دہلیزپربیٹھا تجھے ایک خط لکھ رہا ہوں، شاید اس لیے کہ وقت نے مجھے وہ سب سکھا دیا، جو زندگی تیرے کان میں کبھی آہستہ سے بھی نہ کہہ سکی۔
بیٹا!! جس محبت کیلئے تُورات رات بھر جاگتا ہے ، ایک دن وہ کسی اور کے نام کے ساتھ زندہ ہوگی اورتُو؟ تُو اُس کی پرانی تصویریں دیکھ کرصرف اتنا سوچے گا کہ انسان وعدوں سے نہیں، ضرورتوں سے بندھا ہوتا ہے ۔ جن دوستوں پرتُوجان دیتا ہے ، ایک دن وہ تیرے دکھ سننے کیلئے بھی وقت نہیں نکال پائیں گے ، یہ دنیا تعزیتوں سے زیادہ مصروفیات پریقین رکھتی ہے ۔ لوگ مرنے والوں کو نہیں بھولتے ، وہ صرف زندہ رہنے والوں میں الجھ جاتے ہیں اور ہاں !! آج تُو آئینے میں اپنے چہرے کو دیکھ کر مسکراتا ہے نا؟ ایک دن یہی آئینہ تجھے خاموش کر دے گا، کیونکہ وقت انسان کے چہرے سے پہلے اُس کے اندرکی روشنی چھینتا ہے ۔
بیٹا!! میں جانتا ہوں، ابھی تُجھے میری باتیں تلخ لگ رہی ہوں گی، کیونکہ جوانی ہمیشہ خود کو استثنا سمجھتی ہے ، اُسے لگتا ہے ، دنیا کے سارے حادثے دوسروں کیلئے ہوتے ہیں، اپنے لیے نہیںمگر سن !! زندگی کسی کے خوابوں کا احترام نہیں کرتی، ایک دن آئے گا، جب تُو لوگوں کو خوش رکھنے کیلئے خود کو تھکاتا رہے گا، اور بدلے میں صرف تنہائی پائے گا۔ تُو رشتوں کو بچانے کیلئے جھکتا رہے گا، اور لوگ اُسے تیری کمزوری سمجھ لیں گے اور سب سے خطرناک دن وہ ہوگا، جب تُو پہلی بار یہ محسوس کرے گا کہ اب کوئی تجھے سمجھنے والا نہیں رہا۔ بیٹا!! ہروہ شخص جو آج تیرے ساتھ ہنس رہا ہے ، ضروری نہیں کل تیرے دکھ میں بھی کھڑا ہو، زندگی محفلوں سے زیادہ امتحانوں میں لوگوں کے اصل چہرے دکھاتی ہے ۔ میں نے عمر بھردولت کماتے لوگوں کو دیکھا، مگر بڑھاپے میں اُن کے کمرے دواؤں سے بھرے تھے ، خوشیوں سے نہیں۔ میں نے محبت میں مر جانے والوں کو بھی دیکھا۔اور چند سال بعد اُنہیں کسی نئے چہرے پر مسکراتے بھی دیکھا۔اس لئے ایک بات یاد رکھنا، زندگی میں کسی چیز کو ہمیشہ کیلئے اپنا مت سمجھنا، کیونکہ وقت، انسان سے اُس کی سب سے پسندیدہ چیز ہی پہلے چھینتا ہے ۔
اوربیٹا !! ایک بات جو شاید تُو کبھی نہ سمجھ سکے ، وہ یہ ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ نقصان اُس کے دشمن نہیں پہنچاتے ، بلکہ اُس کی اپنی توقعات پہنچاتی ہیں، تُو ہراُس شخص کیلئے مخلص رہے گا جسے تُو اپنا کہے گا، مگرزندگی کا ایک سچ یہ بھی ہے کہ ہر اپنا آخری وقت تک اپنا نہیں رہتا، ایک دن تُو اپنے ہی گھر میں بیٹھا یہ محسوس کرے گا کہ لوگ تمہاری موجودگی کے عادی تو ہوسکتے ہیں، مگر تمہاری قدر کے نہیں۔ تُو جن لوگوں کیلئے اپنی نیندیں قربان کرے گا، وہی ایک دن تیرے پیغام کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھیں گے اور جانتا ہے سب سے عجیب لمحہ کون سا ہوگا؟ جب تُو ہجوم میں بیٹھا ہوگا، چاروں طرف آوازیں ہوں گی، لوگ ہنس رہے ہوں گے ، مگر تیرے اندر مکمل خاموشی اُترچکی ہوگی، یہی وہ عمر ہوتی ہے جہاں انسان کو سمجھ آتا ہے کہ تنہائی اکیلے ہونے کا نام نہیں، بلکہ اُن لوگوں کے درمیان خاموش ہوجانے کا نام ہے ، جنہیں کبھی اپنی دنیا سمجھا تھا۔ بیٹا!! اگر وقت واپس ملے تو میں تجھے صرف ایک نصیحت کروں گا، لوگوں کو خوش کرنے میں اپنی پوری زندگی مت جلا دینا، کیونکہ آخرمیں انسان کو یہ احساس بہت دیر سے ہوتا ہے کہ وہ خود کیلئے جینا ہی بھول گیا تھا۔
اور سن بیٹا!! جب تُو جوان ہوگا نا، تو تجھے لگے گا کہ زندگی بہت لمبی ہے ، تُو ہرغلطی کے بعد خود سے کہے گا، ابھی تو بہت وقت پڑا ہے ، مگر بڑھاپا انسان کو ایک خوفناک سچ بتاتا ہے ، زندگی لمبی نہیں ہوتی، بس انسان اسے ضائع بہت کرتا ہے ، تُو اُن لوگوں کے پیچھے بھاگے گا جو کبھی تیرے نہ تھے اوراُن لوگوں کو نظر انداز کرے گا جو خاموشی سے تجھے چاہتے تھے ، تُو پیسہ کمانے میں اتنا مصروف ہوجائے گا کہ ایک دن تیرے اپنے ہی تجھ سے اجنبی محسوس ہونے لگیں گے اور پھر ایک وقت آئے گا، جب تیرے پاس دولت تو ہوگی، مگر وہ لوگ نہیں ہوں گے جن کیلئے تُو نے وہ سب جمع کیا تھا۔ بیٹا !! میں نے قبروں پر کھڑے ہوکر ایک بات سیکھی ہے ، مرنے والوں کی سب سے بڑی حسرت ادھورے خواب نہیں ہوتے ، بلکہ ادھوری محبتیں اورنظر انداز کیے گئے رشتے ہوتے ہیں، لوگ آخری سانسوں میں یہ نہیں کہتے ،کاش میں نے زیادہ پیسہ کمایا ہوتا، وہ صرف یہ سوچتے ہیں،کاش!! میں نے اُن لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارا ہوتا جنہیں میں محبت کہتا تھااور شاید یہی زندگی کا سب سے ظالم مذاق ہے ، انسان کو رشتوں کی قیمت اُس وقت سمجھ آتی ہے ، جب وقت اُس کے ہاتھ سے پھسل چکا ہوتا ہے ۔
اوراب بیٹا!! جب یہ خط اپنے اختتام کے قریب ہے ، تو میں تجھے ایک آخری بات کہنا چاہتا ہوں۔ ایک دن آئے گا، جب تیرے بال سفید ہوں گے ، آواز میں تھکن اُتر آئے گی، اور لوگ تیرے جملوں سے زیادہ تیری خاموشیوں کو نظر انداز کریں گے ، تُو ایک کرسی پر بیٹھا ماضی کو ایسے یاد کرے گا، جیسے کوئی شخص جلتے ہوئے گھر سے اپنی چند تصویریں بچانے کی کوشش کرتا ہے ۔ تب تجھے احساس ہوگا، زندگی اصل میں بڑی مختصر کہانی تھی، جسے ہم نے ہمیشہ بہت لمبی سمجھا۔ بیٹا۔!! لوگ تجھے کامیابی سے یاد نہیں رکھیں گے ، دنیا کو تیرے عہدے ، تیری تنخواہ اور تیرے بینک بیلنس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا، آخر میں انسان صرف اپنے رویّوں سے زندہ رہتا ہے ، اگر ہوسکے تو کسی کا دل مت توڑنا، کیونکہ وقت صرف چہرے بوڑھے نہیں کرتا، کچھ آہیں انسان کی روح تک کو تھکا دیتی ہیں اور ہاں، اپنی ماں کو وقت دیا کرنا، باپ کی خاموش محبت کو سمجھنے کی کوشش کرنا، کیونکہ جب یہ دونوں چلے جاتے ہیں نا، تو انسان دنیا کی سب سے بڑی یتیمی محسوس کرتا ہے ، چاہے اُس کی عمرساٹھ سال ہی کیوں نہ ہو۔

والسلام
بوڑھا وجود


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں