اورنگزیب رضی، جنید آرائیں کے تبادلوں سے پہلے منصوبے مکمل
شیئر کریں
لطیف آباد یونٹ نمبر 10میں رات دن تعمیراتی سرگرمیاں، منصوبوں کی جلد تکمیل کی دوڑ
شہریوں کا ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد اور اینٹی کرپشن سندھ سے تحقیقات کا مطالبہ
………………
حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد یونٹ نمبر 10میں متعدد کمرشل منصوبوں اور پلازوں پر رات دن تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق مختلف منصوبوں پر مزدور مسلسل دو شفٹوں میں کام کر رہے ہیں تاکہ تعمیراتی کام جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ حلقوں میں ممکنہ تبادلوں کی خبروں کے بعد منصوبوں کی تکمیل میں غیرمعمولی تیزی آ گئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ بعض منصوبوں کے مالکان کو خدشہ ہے کہ اگر متعلقہ افسران کے تبادلے عمل میں آ گئے تو زیرِ تعمیر پلازوں پر کارروائی یا تعمیراتی عمل میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے،
اسی لیے تعمیراتی کام رات دن جاری رکھا جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق بعض منصوبوں کی تکمیل کے لیے مخصوص ٹارگٹ مقرر کیے گئے ہیں تاکہ ممکنہ تبادلوں سے قبل تمام اہم تعمیراتی مراحل مکمل کر لیے جائیں۔
اسی دوران متعلقہ حلقوں میں یہ بات بھی زیرِ بحث ہے کہ اگر تبادلے ہو گئے تو بعد میں ہونے والی کسی بھی انکوائری کی ذمہ داری موجودہ افسران پر عائد نہیں ہوگی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ انہی معاملات پر سندھ بلڈنگ کے افسران، جن میں اورنگزیب رضی اور جنید آرائیں کے نام لیے جا رہے ہیں، مبینہ طور پر ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے اور الزامات عائد کرنے میں مصروف ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ رہائشی پلاٹس پر کمرشل تعمیرات کے باعث شہر کا ماسٹر پلان متاثر ہو رہا ہے جبکہ ٹریفک، پارکنگ، سیوریج اور دیگر بنیادی شہری سہولیات بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ شہریوں کا الزام ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی غفلت اور لاپروائی کے باعث متعدد تعمیراتی منصوبے بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کے باوجود تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں، جس سے ادارے کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
شہریوں، سماجی رہنماؤں اور مختلف تنظیموں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل وسیم شمشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ لطیف آباد یونٹ نمبر 10میں جاری تمام تعمیراتی منصوبوں، مبینہ غیرقانونی تعمیرات، متعلقہ افسران کے کردار اور سامنے آنے والے الزامات کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی افسر یا اہلکار کی غفلت، لاپرواہی یا بدعنوانی ثابت ہو تو بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔


