پاکستان میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہونے کا انکشاف
شیئر کریں
ناکافی فنڈنگ، کمزور گورننس اور غیر مربوط نظام تعلیمی اہداف میں بڑی رکاوٹ قرار، قومی تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ مل سکے
سول سروسز اکیڈمی کی ایک جامع پالیسی جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں،
جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو دو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس مسئلے کے حل میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
رپورٹ کے مطابق اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد کی بنیادی وجوہات ناکافی فنڈنگ، غیر مربوط تعلیمی نظام، کمزور طرزِ حکمرانی، ناقص عملدرآمد اور صوبوں کی غیر مساوی انتظامی استعداد ہیں، جن کے باعث تعلیمی اصلاحات مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تمام صوبوں نے قومی تعلیمی ایکشن پلان (NEAP) 2026 کے تحت اپنے تعلیمی روڈ میپس تیار کیے ہیں، تاہم اصل چیلنج نئی پالیسیاں بنانا نہیں بلکہ ان پر مؤثر اور مستقل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے مالی وسائل میں اضافہ، بہتر گورننس، وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور مضبوط نگرانی کے نظام کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے، تاکہ ملک میں تعلیم کے شعبے میں پائیدار بہتری لائی جا سکے۔


