غیر یقینی حالات میں معاشی استحکام کے دعوے!
شیئر کریں
پاکستان میں مالیاتی پالیسی کا کردارکے موضوع پر گزشتہ دنوں ایک گفتگو میں ہمارے ٹیکس کے نظام خاص طور پر ہمارے مالیاتی پہلوانوں کی جانب سے بالواسطہ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار کے رویئے یا پالیسی پر کھل کر کڑی تنقید کی گئی،
گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض حسین نے بجا طور پر تنقید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بینکاری شعبے سے ضرورت سے زیادہ قرض لینا، بالواسطہ ٹیکسوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، اور غیر رسمی معیشت، سخت مالیاتی پالیسی کی مؤثریت کو کمزور کر دیتے ہیں ۔
حکومتی قرض گیری کے حوالے سے انہوں نے نشاندہی کی کہ اس کے باعث نجی شعبے کے لیے قرضوں کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے، کیونکہ بینک نسبتاً زیادہ خطرناک نجی کاروباری منصوبوں کو قرض فراہم کرنے کے بجائے خطرے سے پاک سرکاری سیکورٹیز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں، ۔ان کے اس مؤقف سے اختلاف کی گنجائش نہیں۔ تاہم قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ حکومتی قرض گیری کے منفی اثرات اس حالیہ خبر کے بعد مزید سنگین ہو گئے ہیں کہ حکومت نے مبینہ طور پر 14 کمرشل بینکوں پر دباؤ ڈال کر بجلی کے شعبے کو 1.25 کھرب روپے کاقرض فراہم کرنے پر آمادہ کیا، حالانکہ یہ بینک پہلے ہی اس شعبے میں اپنی حد سے زیادہ سرمایہ کاری کے باعث مزید قرض دینے سے گریزاں تھے۔ڈاکٹر فیاض حسین نے بتایاکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی پیشگی شرائط کے تحت انتظامی فیصلوں کے ذریعے بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلٹی نرخوں میں اضافہ کیا جاتا ہے، جبکہ ایندھن کی بلند قیمتیں بھی مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ انہوں نے بجاطور پر اس بات کی نشاندہی کہ حکومت کا پیٹرولیم لیوی پر انحصار مسلسل بڑھ رہا ہے، کیونکہ اسے نہ صرف حکومت کے لیے آسان ذریعہ آمدنی سمجھا جاتا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی قابلِ تقسیم محصولات کے پول کا حصہ نہیں بنتی۔
ان کے مطابق یہ تمام فیصلے طلب میں اضافے کے باعث نہیں کیے جاتے۔اس حوالے سے حکومت کا موقفیہ ہے کہ یہ انتظامی اقدامات بیرونی مالیاتی اداروں کے دباؤ پر کیے جاتے ہیں، کیونکہ بجلی کا شعبہ اپنی مکمل لاگت وصول کرنے میں ناکام رہا ہے۔ نتیجتاً لاگت اور آمدنی کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر فیاض حسین نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ بالواسطہ ٹیکس مہنگائی کو بڑھاتے ہیں، جس پر سخت مالیاتی پالیسی کے ذریعے بھی مؤثر طریقے سے قابو نہیں پا یا جاسکتا۔یہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو شرحِ سود میں اضافے کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ سخت مالیاتی پالیسی اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ قیمتوں کے یہ جھٹکے بنیادی مہنگائی ( CoreInflation) میں منتقل نہ ہوں، کیونکہ اگر ایسا ہو جائے تو اسے دوبارہ ہدفی سطح تک لانا انتہائی مشکل ہو جا تا ہے۔
دوسرے الفاظ میں، اگر صارف قیمت اشاریہ مسلسل بلند رہے تو کاروبار ی اداروں کے روزمرہ اخراجات، مثلاً ٹرانسپورٹ، یوٹیلٹی بل اور دیگر آپریٹنگ لاگت میں اضافہ ہوگا، جو بالآخر بنیادی مہنگائی میں بھی شامل ہو جائے گا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ بالواسطہ ٹیکس حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں،رواں مالی سال کے بجٹ میں ان سے 7.6 کھرب روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ براہِ راست ٹیکسوں کا تقریباً 70 فیصد بھی جن میں سیلز ٹیکسشامل ہے بالواسطہ ٹیکس کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے، جس کی مالیت 5.3 کھرب روپے بنتی ہے۔
اس کے علاوہ 1.675 کھرب روپے کی پیٹرولیم لیوی بھی دیگر ٹیکسوں کے کھاتے میں شامل ہے، جو ایک اور بالواسطہ ٹیکس ہے ۔ یوں رواں مالی سال حکومت کا بالواسطہ ٹیکسوں پر مجموعی انحصار تقریباً 14.975 کھرب روپے تک پہنچ جائے گا۔اسی طرح معیشت کا وسیع غیر رسمی شعبہ، جس کا حجم تقریباً 20 سے 30 فیصد بتایا جاتا ہے، بھی نظام کے لیے ایک بڑا بوجھ ہے اور مالیاتی پالیسی کے اثرات کو کمزور کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر فیاض حسین کا یہ مؤقف بڑی حد تک درست معلوم ہوتا ہے کہ اگر مالیاتی (Monetary) اور مالی (Fiscal)پالیسیاں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام کریں تو معاشی ترقی کی رفتار زیادہ ہوگی۔ ان کے مطابق مختلف تجرباتی مطالعات بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے اپنے فارورڈ واجبات جنوری 2023 میں 5.7 ارب ڈالرسے کم کر کے موجودہ سطح 1.9 ارب ڈالر تک پہنچا دئے ہیں، جس سے حکومت کو پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملی۔ڈاکٹر فیاض حسین کے پیش کردہ نکات بظاہر نہایت معقول نظر آتے ہیں، اور آزاد معاشی تجزیہ کاروں کی جانب سے بھی بارہا ان پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیایہ حکومت جو ٹیکس وصولی کے ہدف میں 2 مرتبہ کی جانے والی کمی کے بعد ہدف پورا ہونے پر ایف بی آر کے افسران کو زیادہ تندہی کے ساتھ کام کرنے کی تنبیہ کرنے کے بجائے تاکہ آئندہ ٹیکس اہداف میں کٹوتی نہ کرنا پڑے ان کو شاباشیاں دے کر ان کی ترقی کی راہ ہموار کررہی ہے ایسی ٹیکس اصلاحات متعارف کرسکیگی جو ادائیگی کی استطاعت کے اصول کے مطابق براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی کو مضبوط
بنائیں ؟ اس کا جواب ابھی واضح نہیں۔اسی طرح یہ بھی غیر یقینی ہے کہ آیا حکومت موجودہ اخراجات میں نمایاں کمی کر کے، اور اس کے نتیجے میں قرضوں پر انحصار گھٹا کر، پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل کر سکے گی یا نہیں۔ یہ فی الحال ایک خواب ہی دکھائی دیتا ہے۔ آخرکار مالیاتی اور مالی پالیسیوں میں حقیقی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کیا حکومت بیرونی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف کی سخت اور پیشگی شرائط پر انحصار کم کر کے اپنے مقامی ماہرین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے گی؟ موجودہ حالات میں اس کی امید بھی خاصی کم دکھائی دیتی ہے۔
ٹیکس وصولی کیلئے حکومت کی جانب سے اختیار کئے گئے طریقہ کار اور بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار پر اضافے سے یہ ظاہرہوتاہے کہ معیشت کی بحالی کبھی بھی ہماری حکومت کی بڑی ترجیحات کا حصہ نہیں رہی بلکہ ان کی پہلی ترجیح عالمی مالیاتی اداروں یا بڑے ممالک سے امداد اور قرضوں کا حصول رہا ہے۔اسی طرح معیشت کی اصلاحات کے لیے جو بڑے فیصلے یا سخت گیر اقدامات یا اسٹرکچر ل اصلاحات درکار ہیں اس سے بھی ہماری حکومتوں سمیت ادارہ سازی کا عمل سمجھوتے کی سیاست کا شکار رہا ہے ۔یہہی وجہ ہے کہ ہم اپنی سیاست،جمہوریت کے نظام اور اس کی بہتری کے تعلق کو نہ تو معیشت کی اصلاح سے جوڑ سکے اور نہ ہی لوگوں کا حکومتی معیشت کے نظام پر اعتماد قائم ہوسکا۔یہ ایک بڑی خلیج ہے جو حکومت اور عوام کے درمیان موجودہے۔ہمارا حکمرانی کا نظام معیشت سمیت دیگر معاملات کی سیاست کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ہمارے ملک میں لانگ ٹرم،مڈٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسی پر مبنی جامع پروگرام یا فریم ورک کی کمی کا بحران ہے۔معلوم ایسا ہوتاہے کہ حکومت کے معاشی ماہرین سیاست ،معیشت اور عوام کے باہمی تعلق کو سمجھ ہی نہیں سکے ہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر اس پہلو کو سمجھتے ہوئے بھی نظرانداز کر رہے ہیں۔ آج کی معیشت کا پہلا بڑا سوال غربت کی کمی ہے اور جو لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں ان کو کیسے اس لکیر سے نکالا جائے اور ان کی غربت اور معاشی بدحالی کو ختم کیا جائے ،دوئم کیسے پاکستان کی لوئر اورمڈل کلاس کو معاشی بنیادوں پر ترقی دی جائے یا ان کی ترقی کے لیے نئے معاشی امکانات پیدا کیے جائیں تاکہ مجموعی طور پر لوگوں کی آمدنی اور اخراجات میں جو عدم توازن پیدا ہورہا ہے اسے کیسے کم یا ختم کیا جائے۔
اگر ہم اپنی معیشت کے داخلی بڑے چیلنجز کو دیکھیں تو ان میں کم ٹیکس ریونیو یا کمزور ٹیکس بیس جی ڈی پی اشاریے ہیں۔اس کی وجہ ہم پر قرضوں کا بوجھ اور ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات میں کمی کی صورت میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔اسی طرح توانائی کا بحران اور سرکلر قرضے ،کم پیداواری صلاحیت یعنی ان شعبوں کی ناقص کارکردگی،صنعتوں کے فروغ میں کمی،ماحولیات اور کلائمنٹ چینج سے جڑے مسائل،آبادی میں اضافہ،پانی مینجمنٹ کی کمی،بجلی کی قیمتوں میں بڑھتا ہوا اضافہ،کارخانوں کی بندش، نوجوانوں کی بے روزگاری کے مسائل ،ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں اضافہ،عوامی قرضوں کا بوجھ،کرپشن ،کمزور سطح کا سیاسی نظام،بھاری بھرکم بیوروکریسی،انسانی ترقی پر کم توجہ،غربت میں اضافہ،خوراک کی کمی،کم اخراجات تعلیم اور صحت جیسے مسائل اہم ہیں۔آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی ادارے مسلسل ہمیں مشورہ دے رہے ہیں کہ اگر پاکستان کومعاشی بنیادوں پر آگے بڑھنا ہے تو اسے سیاسی،معاشی یا حکمرانی کے روایتی طور طریقوں سے باہر نکلنا ہوگا۔جہاں ریاست کا نظام سیاسی افراتفری اور سیاسی تقسیم یا سیاسی مہم جوئی کی بنیاد پر چلے گا تو وہاں نہ سیاست مضبوط ہوسکتی ہے اور نہ ہی معیشت کو مضبوط بنایا جاسکے گا۔پاکستان کے 6 بڑے مسائل ہیں ۔اول، سیاسی بحران ،دوئم، معاشی بحران ، سوئم، سیکورٹی اور دہشت گردی ،چہارم، ملکی سطح پر شفاف گورننس اور مضبوط ادارہ جاتی نظام،،پنجم، احتساب اور جوابدہی کا نظام ،ششم، عوامی مفادات کا تحفظ ہیں، ان کو درست کیے بغیر اور ان معاملات میں غیر معمولی اقدامات کے بغیر کچھ بڑا نہیں ہوسکے گا۔پاکستانکو اگر آگے بڑھنا ہے تو اسے پائیدار پرائیویٹ سیکٹر کی گروتھ کی طرف جانا ہوگا۔اسی طرح منصفانہ ٹیکس اصلاحات کے نظام کو لانا،توانائی سیکٹر کی اصلاح، زراعت اور صنعت کی پیداواری قوت میں اضافہ،انسانی ترقی کے ماڈل کی اصلاح کرنا اور نئی نسل کو معاشی ترقی کا حصہ بنانا، بیورو کریسی کی سطح پر بڑی انتظامی تبدیلیاں،ای گورننس کا نظام،سیاست کا تسلسل اور سیاسی استحکام، سرمایہ کاری کو فروغ اور تحفظ دینا، مالیاتی ڈسپلن کو پیدا کرنا، سخت گیر اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا، اسی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھا جاسکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک کا طاقت ور حکمران طبقہ ان سب چیزوں کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے یا وہ اسی طرح معاشی ترقی کے دعووں کو عوام کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔پاکستان کی سیاست، معیشت اور ادارہ جاتی سطح پر بہت کچھ تبدیل ہونا ہے لیکن بظاہر اس وقت ہماری سیاسی قیادت اس کے لیے تیار نہیں۔
ہمیں معاشی ترقی اور نئے امکانات کو پیدا کرنے کے لیے عالمی سطح پر معیشت کے تناظر میں بڑی ڈپلومیسی کی ضرورت ہے۔موجودہ صورت حال کا تقاضہ ہے کہ حکمران ہر سطح پر اپنی ترجیحات کو تبدیل کرنے پر حقیقی توجہ دیں۔الزام تراشیوں کی سیاست سے باہر نکلیں ۔
جذباتیت کی بنیاد پر میثاق معیشت کے نعرے اور ان پر جو سیاست کی جا رہی ہے اس سے کچھ حاصل نہیں ہوسکے گا۔معاشی ڈپلومیسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوسکتی اور اس میں سب شعبہ جات کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا ۔
حکمرانوں کے سامنے ان کے ذاتی مفادات کم اور ریاستی یا عوامی ترجیحات کی زیادہ اہمیت ہونی چاہے اور یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ہم مجموعی طور پر اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائیں۔ اس وقت ہمیں اپنی درست ترجیحات کے تعین کے لیے اپنی معیشت کے داخلی بحران پر توجہ دینی ہوگی اور اس میں ہم غیر معمولی اقدامات کے ساتھ ہی کچھ بڑی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
٭٭٭


