میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، وسطی میں متنازع افسران کی واپسی، تعمیراتی مافیا پھر سرگرم

سندھ بلڈنگ، وسطی میں متنازع افسران کی واپسی، تعمیراتی مافیا پھر سرگرم

ویب ڈیسک
هفته, ۱۶ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

شہزادو کھوکھر کی عید سے قبل عیدی مہم کا آغاز ، منہدم عمارتوں کی ازسرنو تعمیرات کی چھوٹ
ریحان الائچی کی کارکردگی مشکوک ،شہریوں کا شفاف تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ

شہرِ وسطی میں ایک بار پھر ماضی کے متنازع اور آزمودہ کرپٹ افسران کی تعیناتی نے شہریوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے ۔ ڈائریکٹر شہزادو خان کھوکھر کی تعیناتی کے بعد غیر قانونی تعمیرات سے وابستہ عناصر دوبارہ متحرک دکھائی دینے لگے ہیں، جبکہ مختلف شہری و سماجی حلقے دعویٰ کررہے ہیں کہ ماضی میں بھی مذکورہ افسر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے مبینہ طور پر تعمیراتی مافیا کے لیے حفاظتی ڈھال ثابت ہوتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عید سے قبل مبینہ عیدی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے ، جس کے تحت پہلے سے منہدم کی جانے والی متعدد عمارتوں کی ازسرنو تعمیرات کی چھوٹ دی جارہی ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ متعلقہ افسران کی مبینہ سرپرستی میں قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے دوبارہ غیر قانونی عمارتیں کھڑی کرنے کا باقاعدہ منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے ۔جس کا باقاعدہ آغاز ناظم آباد نمبر ایک پلاٹ نمبر G 6/10کی ازسرنو تعمیر سے ہوچکا ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے رہائشی بزرگ دلشاد احمد نے کہا کہ افسران کے تبادلوں سے کبھی کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ ضلع وسطی میں غیر قانونی تعمیرات پر آج تک مؤثر قابو نہیں پایا جا سکا۔ ان کے مطابق تنگ و گنجان گلیوں میں بلند ہوتی رہائشی و کمرشل عمارتیں انتظامیہ کی غفلت، نااہلی اور مبینہ ملی بھگت کا واضح ثبوت ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات نہ صرف انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں بلکہ اس صورتحال نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے ، جبکہ ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان الائچی کی کارکردگی بھی مشکوک دکھائی دے رہی ہے کہ شہر بھر میں خلاف ضابطہ تعمیرات آخر کس کی سرپرستی میں جاری ہیں۔جو وہ کارروائی کرنے سے قاصر ہیں ۔علاقہ مکینوں اور شہری تنظیموں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے ، شفاف تحقیقات کرانے اور غیر قانونی تعمیرات میں ملوث عناصر و افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں