پاکستانی ثالثوں کو جنگ بندی کی نئی ایرانی تجاویز ملنے کا امکان
شیئر کریں
عراقچی روس کے دورے کے بعد تہران میں نظام کے قائدین سے مشاورت کریں گے، ذرائع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سابقہ مسودے کو قبول کرنے سے انکار کے بعد باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں موجود ثالثوں کو آئندہ چند روز کے دوران ایران کی طرف سے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ترمیمی تجویز ملنے کی توقع ہے۔
امریکی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس کے دورے کے بعد تہران واپس پہنچیں گے جہاں وہ نظام کے قائدین سے مشاورت کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق مذاکراتی عمل میں سست روی کی بڑی وجہ رہبر اعلی مجتبی خامنہ ای کے ساتھ رابطے میں دشواری ہے جن کی موجودگی کے مقام کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔
تاہم ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عمل اب بھی جاری ہے اور اس میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں، جبکہ بہت سی چیزوں کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا ایران ایسی ترمیمی تجویز کے ساتھ واپس آتا ہے جو امریکہ کے لیے زیادہ قابل قبول ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی ایرانی تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ باخبر حکام کے مطابق اس بات کا امکان کم ہے کہ امریکی صدر اس تجویز کو قبول کر لیں تاکہ 28 فروری سنہ 2026 کو شروع ہونے والی جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔
امریکی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں سے امریکی بحری محاصرہ ختم کرنا اور یورینیم کی افزودگی یا فوجی استعمال کے قریب پہنچ جانے والے ذخائر سے متعلق سوالات کا تصفیہ کیے بغیر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا امریکہ کو مذاکرات میں حاصل ایک بڑے دبا سے محروم کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایرانی تجویز میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ جوہری پروگرام پر بات چیت کو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت سے متعلق تنازعات کے حل تک ملتوی کر دیا جائے۔ تاہم واشنطن کی جانب سے اس تجویز کی منظوری کا امکان کم ہے کیونکہ وہ شروع ہی سے جوہری مسائل کے حل پر اصرار کر رہا ہے۔
جنگ کے خاتمے اور دونوں فریقین کے درمیان معاہدے کی امیدیں اس وقت کم ہو گئیں جب گذشتہ ہفتے ہفتہ کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ اسلام آباد منسوخ کر دیا۔
اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ چند دنوں میں لگاتار دو بار اسلام آباد کا دورہ کیا تھا تاکہ تنازع کے حل کے لیے اپنے ملک کی تجاویز پہنچا سکیں۔
پاکستان دونوں فریقین کے درمیان کسی ایسے اتفاق رائے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے جو فریقین کے لیے قابل قبول ہو، جبکہ دوسری جانب جنگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔


