پی ای سی ایچ ایس ، رہائشی علاقوں کو کمرشل بنانے کا غیر قانونی کھیل جاری
شیئر کریں
اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز شیخ، بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان کی مبینہ تعمیراتی مافیا ملی بھگت
بلاک 2میں پلاٹ نمبر A231اور C894پر خلاف ضابطہ کمرشل پورشن یونٹس کی تعمیرات
ضلع شرقی کے معروف رہائشی علاقے پی ای سی ایچ ایس میں رہائشی پلاٹوں کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا غیر قانونی سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جہاں بااثر بلڈرز اور مبینہ تعمیراتی مافیا سرکاری قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال کر رہائشی حدود میں کمرشل پورشن یونٹس قائم کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ بلڈنگ کے متعلقہ افسران اسسٹنٹ ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی امتیاز شیخ اور بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان کی مبینہ سرپرستی کے باعث یہ غیر قانونی سرگرمیاں بلا خوف و خطر جاری ہیں۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل اطلاعات اور زیر نظر تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بلاک 2 کے رہائشی پلاٹوں پلاٹ A231, اور C894 پر کمرشل پورشن یونٹ کا تعمیراتی کام تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے ، جس سے علاقے کے رہائشیوں کو ٹریفک، پارکنگ اور سیکیورٹی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے ۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار شکایات کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔علاقہ مکینوں نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کا فوری نوٹس لیا جائے اور مبینہ طور پر ملوث افسران و عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ رہائشی علاقوں کا تقدس پامال ہونے سے بچایا جا سکے ۔واضح رہے کہ محکمہ سندھ بلڈنگ میں ان دنوں سسٹم مافیا کا کنٹرول آصف شیخ کے پاس ہے۔


