میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ریاست کی رٹ چیلنج کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہو گی،آئی جی سندھ

ریاست کی رٹ چیلنج کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہو گی،آئی جی سندھ

ویب ڈیسک
اتوار, ۱۲ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اطمینان بخش ہے، جاوید عالم اوڈھو
کچے کے علاقوں میں آپریشن آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، میڈیا سے گفتگو

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اطمینان بخش ہے، کچے میں آپریشن آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ، کسی کو بھی ریاست کی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات پر پولیس نے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے، قومی شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ عوام کو محفوظ سفر کی سہولت میسر ہوسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیکب آباد میں رکن قومی اسمبلی میر اعجاز حسین جکھرانی سے والد میر بابل خان جکھرانی کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ قومی شاہراہوں اور مختلف اضلاع میں بھی کرائم کنٹرول کرنے میں کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے، ان کا کہنا تھا کہ جرائم میں کمی خوش آئند ہے اور اس میں کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن کے مثبت اثرات بھی شامل ہیں، آئی جی سندھ نے بتایا کہ کچے میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر کارروائیاں کر رہے ہیں اور یہ آپریشن اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز اور بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیوں کو مزید موثر بنایا گیا ہے اور کسی کو بھی ریاست کی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ جاری آپریشن کو مزید وسیع کیا جائے گا اور اگلے مرحلے میں قومی شاہراہوں کو محفوظ بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، قومی شاہراہوں پر وارداتوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ عوام کو محفوظ سفر کی سہولت فراہم کی جا سکے، جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ جیکب آباد میں بھی جرائم کی صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی ہے اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، انہوں نے بتایا کہ کراچی میں سندھ حکومت کے تعاون سے سیف سٹی پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ شروع کیا جاچکا ہے جبکہ اس منصوبے کو جلد دیگر اضلاع تک بھی توسیع دی جائے گی، آئی جی سندھ نے تھانہ کلچر میں بہتری کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تھانے کو عوام کے لیے خوف کی علامت نہیں بلکہ تحفظ کا مرکز بنایا جا رہا ہے، انہوں نے بتایا کہ انویسٹی گیشن کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے جبکہ پولیس میں میرٹ پر بھرتیوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور بدعنوان عناصر کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی جاری ہے، انہوں نے کہا کہ تھانوں کی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے سندھ حکومت نے خطیر فنڈز مختص کیے ہیں جس سے پولیس نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا ، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ جرائم کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے، انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کے حوالے سے پولیس نے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور ایسے کسی بھی واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر مقدمہ درج کیا جاتا ہے کسی بھی علاقے میں خواتین کے ساتھ ہراسانی کے واقعات پر بلا تاخیر کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے اور ملزمان کے خلاف قانونی عمل شروع کیا جاتا ہے کسی بھی کیس کی ابتدائی رپورٹ ایف آئی آر میں درج الزامات محض شکایت کی بنیاد پر ہوتے ہیں جن کا درست ہونا ضروری نہیں ہوتا کیس کی اصل نوعیت کا تعین تفتیش اور شواہد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جس کے بعد ہی قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جاتا ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں