ایران سے مذاکرات کے لیے ٹرمپ کی بے چینی
شیئر کریں
عالمی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم کیا اور بات چیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی جاری کوششوں کا خیرمقدم اور مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کی رضامندی کے بعد پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے جامع تصفیے کیلئے بامعنی مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے اور میزبانی کیلئے تیار ہے۔ پاکستان اس معاملے میں کا کردار ادا کرنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ ایران سے مذاکرات کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشکش امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے مطلوبہ کے برعکس نتائج برآمد ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حکمت عملی کا بنیادی تصور یہ تھا کہ اعلیٰ قیادت کو ہٹا دینے سے نظام مفلوج ہو جائے گا لیکن اب یہ بات غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔‘شاک اینڈ آ’ نامی عسکری حکمت عملی کا تصور اسی بات پر منحصر ہے کہ فیصلہ سازی کے ڈھانچے فوراً ٹوٹ جائیں۔ لیکن اگر یہ ڈھانچے توقع سے زیادہ مضبوط نکلیں تو؟اب امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی بلکہ بے چینی کے بعد فوری مسئلہ یہ سامنے آتا ہے کہ بات چیت کس سے کی جائے ؟مجتبیٰ خامنہ ای کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انھوں نے مزید خاموشی اختیار کر لی ہے جس سے سفارتی راستے مزید محدود ہو گئے ہیں۔تہران کے نقطہ ٔ نظر سے حالیہ واقعات کسی بھی قسم کی بات چیت پر اعتماد کے لیے بہت کم جواز فراہم کرتے ہیں۔گزشتہ 14 ماہ میں، جب سے ٹرمپ دوبارہ منصب صدارت پر آئے ہیں دوالگ الگ سفارتی سلسلوں میں جوہری معاہدے کی طرف پیش رفت کے آثار دکھائی دیے۔ لیکن ہر بار امریکہ نے مذاکرات کے درمیان میں ہی یا مذاکرات کے فوراً بعد ایران کے خلاف عسکری کارروائی کرکے اپنا اعتبار چکناچور کردیا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ 27 فروری کو جنیوا میں مذاکرات کے دوسرے دور میں انھوں نے امریکہ کے زیادہ تر تحفظات دور کر دیے تھے۔ویانا میں تکنیکی بات چیت کی تیاری جاری تھی۔ لیکن ٹرمپ نے کہا کہ وہ
مذاکرات کے طریقہ کار سے ‘خوش نہیں’ ہیں اور اگلے ہی دن حملے شروع ہو گئے۔ایرانی فیصلہ سازوں کے لیے پیغام واضح ہے کہ مذاکرات حملوں کو نہیں روکتے بلکہ شاید انھیں دعوت دیتے ہیں۔ خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔
حالیہ حملے بھی اس وقت شروع کئے گئے جب خود ٹرمپ کے مطابق ایران اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے پر رضامند ہوچکاتھا ،ایران پر حالیہ حملوں کے بعد اب امریکہ اور اسرائیل کئی ہفتوں سے مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کی عسکری صلاحیت بالکل کمزور ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بارہا کہہ چکے ہیں کہ مسلسل حملوں نے ایران کے کمانڈ ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے اور اس کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کمزور پڑ گئی ہے۔اگر ان کے دعوے درست ہوتے تو یہ تنازع اب اختتام کی طرف بڑھنا چاہیے تھا۔ یہ درست ہے کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کا بڑا حصہ جن میں رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای، علی لاریجانی جیسے سینئر رہنما، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، مسلح افواج کے چیف آف سٹاف، اور اہم میزائل سازی کے مراکز شامل ہیں کو واقعی ختم کیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود صورتحال ٹرمپ کے دعووں کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ کشیدگی تیزی سے، زیادہ شدت کے ساتھ اور کم واضح نکاتِ اختتام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔مفہوم ایک ہی ہے کہ عسکری دباؤ نے ایران کی پیشرفت کو نہیں روکا۔ اس صورت حال میں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مہم کی سربراہی کون کر رہا ہے اور ایران شدید دباؤ کے باوجود اپنی صلاحیتیں کیسے برقرار رکھے ہوئے ہے؟ایران کے اقدامات کسی بھی طرح سے زوال کی علامت نہیں۔ جس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ سنیچر کو ایران نے اسرائیل کے نیگیو صحرا میں واقع شہر دیمونا پر بھی حملہ کیا جو اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری پروگرام سے منسلک علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ حملہ ایران کے بوشہر کے قریب توانائی کے ڈھانچے پر اسرائیلی حملوں کے بعد ہوا جہاں ایران کا جوہری پاور پلانٹ بھی موجود ہے۔پیغام واضح تھا کہ تناؤ میں اضافہ کیا جائے گا تو جواب بھی ملے گا اور اہم
جگہیں اب محفوظ نہیں رہیں گی۔ایران کے یہ اقدامات انتشار کے بجائے ہم آہنگی کا اشارہ دیتے ہیں۔ جبکہ ٹرمپ تیزی سے ایسے راستے پر بڑھتے نظر آ رہے ہیں جس میں آپشنز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ زمینی فوج کے بغیر امریکہ اور اسرائیل صرف فضائی حملوں تک محدود ہیں جو نقصان تو پہنچا سکتے ہیں لیکن لازمی نہیں کہ مکمل سرینڈر کا مقصد حاصل ہو۔ساتھ ہی ایسے حملوں سے وسیع تر جوابی ردعمل بھی بھڑک سکتا ہے، جبکہ ہرمز بھی دوبارہ نہیں کھلتا۔یہ لفظی جنگ دونوں فریقوں کو براہِ راست زیادہ خطرناک مرحلے کی طرف بڑھاتی دکھائی دے رہی تھی۔ بنیادی طور پر سوال اب بھی باقی ہے کہ ایران میں اصل میں بات کون کر رہا ہے اور آئی آر جی سی اور سیکورٹی فورسز پر اختیار کس کے ہاتھ میں ہے جو بظاہر "مرضی سے فائر کرو” کی پالیسی کے تحت چل رہے ہیں؟ اگر یہی صورتحال برقرار رہی اور ہرمز متنازع رہا تو دونوں فریق دوبارہ اپنی دھمکیوں کی طرف لوٹ سکتے ہیں اور اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔اس کے نتیجے میں پورے خطے کے تقریباً 17 کروڑ افراد، جن میں سے 9کروڑ سے زیادہ ایران میں ہیں، بجلی اور دیگر ضروری خدمات میں شدید تعطل کا سامنا کر سکتے ہیں۔بات چیت کے محدود راستوں کے ساتھ صدر ٹرمپ کے پاس آپشنز بھی سکڑتے جا رہے ہیں۔ تناؤ میں مزید اضافہ تباہی کے ایک ایسے چکر میں بدل سکتا ہے جو حکمت ِعملی کے لحاظ سے بہت کم فائدہ دے سکے گا اور یوں میز پر صرف انتہائی اقدامات ہی بچ جائیں گے۔اب دونوں فریق اپنے انتخاب میں محدود ہو چکے ہیں۔ایران نے یہ ثابت کردیاہے کہ وہ آسانی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی کمزوری کا تاثر ملے گا
جبکہ امریکہ اور اسرائیل صرف فضائی طاقت کے ذریعے فیصلہ کن نتیجہ حاصل نہیں کر سکتے۔
یہی وہ صورت حال ہے جس کی بنیاد پر غالباً ٹرمپ کے مشیروں نے ان کو مذاکرات کے بہانے اس دلدل سے نکلنے کی کوشش کرنے کامشورہ دیا ہے ۔ امریکہ اور ایران میں مذاکرات کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، اور اب ممکنہ ثالث کے طور پر پاکستان کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات چیت ہوئی ہے، جبکہ پاک فوج کے سربراہ عاصم منیر بھی گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر گفتگو کر چکے ہیں۔وزیرِ اعظم شہباز شریف ایک بیان میں ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی پیشکش کرچکے ہیں، انھوں نے واضح انداز میں کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔امریکہ اور ایران کی رضامندی کی صورت میں پاکستان اس تنازع کے اختتام کے لیے نتیجہ خیز اور معنی خیز مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے اور اسے اپنے لیے ایک اعزاز سمجھے گا، اطلاعا ت کے مطابق امریکہ ا ور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے پاکستان کے علاوہ ترکیہ اور مصر بھی متحرک ہو گئے ہیں، جب کہ پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتکاری کی وکالت کی ہے اور یہی مؤقف اب بھی برقرار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔ اس بیان سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان، ترکیہ اور مصر کی جانب سے سفارتی سطح پر کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ خطے کے اہم ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں اور مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔ گزشتہ روز برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف جبکہ امریکہ کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔ دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے بیان کو توانائی کی قیمتیں کم کرنے اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ایران کی جانب سے امریکی ثالثوں کی جانب سے مذاکرات کے لیے نکات موصول ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے اہلکار کا کہنا ہے ایران کو امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے ایک پیغام ملا ہے۔ گزشتہ چند روز سے مختلف ممالک جنگ بندی اورثالثی کیلئے
رابطے میں ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے اہلکار نے بتایا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے جو امریکی نکات موصول ہوئے ہیں، ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں تاہم اب بھی متعدد اہم معاملات حل طلب ہیں، جن میں سر فہرست یہ مطالبہ شامل ہے کہ امریکہ اس جنگ کو ایران کے خلاف جارحیت تسلیم کرے اور ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرے۔اس کے علاوہ ایران نے کسی بھی ممکنہ امریکی مہم جوئی کی صورت میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا حق محفوظ رکھنے کی بات بھی کی ہے، یہ بات واضح ہے کہ اب یہ تنازع صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں بلکہ اس میں خلیجی ممالک، اسرائیل اور لبنان کی تنظیم حزب اللہ اور دیگر فریق بھی شامل ہیں، چنانچہ حتمی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ ان مذاکرات پر پاکستان کے کردار پر تاحال خاموش ہے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے آگاہ ایک ایرانی سفارتکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس بات چیت کے معمولی امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے تو دیگر جگہوں کے علاوہ اسلام آباد بھی میزبانی کا مقام ہو سکتا ہے۔ہم اپنی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تفصیلات کے منتظر ہیں۔ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق ہمیں امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے نکات موصول ہوئے ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز اور امریکی ڈیجیٹل نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کو ختم کرنے کے لیے ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کا نام ایک مجوزہ ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیئل بش بھی لکھ چکے ہیں کہ ہو سکتا ہے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پاکستان میں ہوں اور امریکہ کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کریں امریکہ سے آنے والی ایک رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیاگیاہے کہ فریقین کے درمیان اتوار کو مذاکرات ہوچکے ہیں، ان مذاکرات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پسندیدہ ایلچی اسٹیو وٹکوف اور
جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔ایک دوسری، زیادہ معتبر رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں ثالث کے طور پر مصر، ترکی اور پاکستان بھی شامل تھے۔
امریکی ٹیلی وژن چینل سی این این نے تو ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کو اپنی توقعات پر مشتمل 15 نکات کی
ایک فہرست پاکستان کے ذریعے بھجوائی ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران نے کسی تجویز پر اتفاق کیا ہے یا نہیں۔امریکی ٹیلی وژن چینل سی این این نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی جانب سے انٹیلی جنس چیف لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک ان حکام میں شامل ہیں جو وٹکوف اور کشنر کے ساتھ رابطے میں ہیں۔اگرچہ امریکہ یا ایران کی جانب سے سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی، لیکن واشنگٹن میں کئی حلقوں کے لیے پاکستان کا انتخاب کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی۔پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی جون اور اکتوبر میں پاکستان نیبھارت کے ساتھ تنازع کے دوران ثالثی کی کوششوں پر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے بھی نامزد کیا تھا ۔ یہ قدم ٹرمپ انتظامیہ کے کئی ارکان کی نظر میں پاکستان کے لیے مزید ہمدردی کا باعث بنا۔امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر مائیکل کوگلمین نے ایکس پر لکھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ ثالث کے طور پر پاکستان کا سامنے آنا کوئی غیر فطری بات نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان متعدد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں اور امریکی انتظامیہ بھی پاکستان کی مداح ہے تاہم ٹرمپ کے ارادوں کے بارے میں بھی کوئی بھی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتا ہے تو یہ ایران کے لیے کس حد تک قابل قبول ہو گا؟تاہم یہ بات واضح ہے کہ اب کسی بھی عرب ملک کے مقابلے پر ایرانی پاکستان پر زیادہ اعتبار کریں گے۔ ایران کے تیسرے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے نوروز کے تہوار کے موقع پر تحریری بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اُن کے والد (علی خامنہ ای) کا خاص پسندیدہ ملک تھا، تاہم اب سوال یہ بھی ہے کہ اسرائیل جیسے بے لگام ملک کے رویے کی ضمانت کون دے گا؟ اور اس بات کی یقین دہانی کون کرا سکتا ہے کہ ٹرمپ کسی امن معاہدے پر قائم رہیں گے؟
٭٭٭


