میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

ویب ڈیسک
اتوار, ۱ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا
سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے مارکیٹ سے غائب ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق فروری 2026 پاکستان اسٹاک ایکسچینج کیلئے خونی مہینہ ثابت ہوا۔ اسٹاک مارکیٹ ایسی شدید ترین مندی ہم نے کبھی نہیں دیکھی، کھربوں روپے ڈوب گئے، ڈھائی ٹریلین روپے مارکیٹ سے غائب ہو گئے ہیں، سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج منفی رجحان دیکھا گیا۔ کاروباری ہفتے کے پانچویں اور آخری روز کاروبار کے دوران سٹاک مارکیٹ میں مندی دیکھنے میں آئی ہے، 1000 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 67 ہزار 812 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔دوسری جانب پاکستان میں غربت میں اضافے، بے روزگاری میں اضافے اور آمدن میں عدم مساوات کیحوالے سے انتہائی تشویش ناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ملک میں معاشی بہتری کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی ن لیگ حکومت کے دور میں پاکستان کی معاشی حالت مزید بدتر ہو گئی۔ خودحکومتی رپورٹ نے حکومت کے معاشی بہتری کے دعووں کی دھجیاں اڑا دیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر29 فیصدتک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ 11برسوں کی بلندترین شرح ہے۔لوگوں کی آمدن میں عدم مساوات بھی گزشتہ 27 برسوں کی بلندترین شرح پر ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 7برسوں کے دوران لوگوں کی حقیقی آمدن اور اخراجات میں بڑی تنزلی دیکھی گئی ہے، پاکستان میں اس وقت 7 کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی آمدنی صرف 8,484 روپے تک ہے۔ سال 2018-19ء سے 2024-25ء کے عرصہ کے دوران غربت میں32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2019ء میں غربت کی شرح 21۔9 فیصد تھی جو2024-25ء میں بڑھ کر28۔9 فیصد ہوگئی،2014 کے بعد یہ بلندترین شرح ہے جب غربت کی شرح 29۔5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔سب سے خطرناک صورتحال دولت کی عدم مساوات ہے جو بڑھ کر32۔7 تک پہنچ چکی ہے۔ اس سے قبل دولت کی عدم مساوات کی سب سے بلند شرح 1998ء میں ریکارڈ کی گئی تھی جو31۔1 فیصد تھی۔پاکستان کو اس وقت 21 سال میں بیروگاری کی بلندترین شرح کا سامنا ہے جو 7۔1 ہوچکی ہے۔اسی طرح غربت گیارہ برسوں کی بلندترین شرح پر ہے جبکہ دولت کی عدم مساوات 27 برسوں کی بلندشرح پر پہنچ چکی ہے۔اس تشویش ناک صورتحال کو حکمران اشرافیہ کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ قراردیا گیا ہے۔ دیہی علاقوں میں غربت 28۔2 فیصد سے بڑھ کر 36۔2فیصد،شہری علاقوں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر17۔4فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں گزشتہ سات برسوں کے دوران غربت کی شرح میں 41 فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ سندھ میں غربت 24۔5 فیصد سے بڑھ کر 32۔6 فیصد،خیبرپختونخوا میں 28۔7 فیصد سے بڑھ کر 35۔3 فیصد جبکہ بلوچستان میں 42 فیصد سے 12۔4 فیصد اضافے کے ساتھ 47 فیصد ہوچکی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں