سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند
شیئر کریں
متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے
دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی
(رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حوالے کر دیا ہے تاکہ ماہرین ڈیمولیشن سے متعلق فیصلہ کریں جبکہ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی)جنوبی جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ گل پلازا کو سیکیور کیا ہے، فی الحال سیل نہیں کیا۔دکان داروں کا سامان بھی اندر موجود ہے، دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق گل پلازہ سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد74ہوگئی ہے، جبکہ 49 افراد کی تلاش اب بھی معمہ بنی ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق متاثرہ عمارت کے اطراف میں حفاظتی اقدامات کے تحت پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں۔عمارت کو گرین شیڈ لگا کر محفوظ بنایا گیا ہے اور سیکیورٹی اہلکار تعینات کر کے علاقے میں نگرانی جاری ہے۔لاپتہ افراد کی شناخت کے لیے 55 سے زائد افراد کے ڈی این اے سیمپلز لیے گئے ہیں۔ اب تک 24 افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جن میں 17 افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی گئی ہے جبکہ 7 افراد کی شناخت فوری طور پر کی گئی تھی۔تاہم، کچھ باقیات کا ڈی این اے سیمپل ملنا مشکل ہے، جس کے باعث ان کی شناخت میں وقت لگنے کا امکان ہے۔انتظامیہ کے مطابق متاثرہ عمارت کے ملبے کو مکمل طور پر ہٹانے یا منہدم کرنے کے حوالے سے فیصلہ ایس بی سی اے کے ماہرین کریں گے۔حکام نے عوام اور اہل خانہ سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کی مکمل پابندی کریں اور متاثرہ علاقے میں غیر ضروری طور پر داخل نہ ہوں۔ڈپٹی کمشنر ڈی سی)جنوبی جاوید نبی کھوسو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گل پلازا میں کوئی غیر متعلقہ شخص داخل نہ ہو، اس لیے اس کو کورڈن آف کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ فیملی کا شخص اگر اندر جانا چاہے تو ہم اسے محفوظ طریقے سے لے کر جائیں گے، ہم نے گل پلازا کو سیکیور کیا ہے، سیل نہیں کیا۔جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ دکان داروں کا سامان بھی اندر موجود ہے، دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ پشاور سے 2 لاپتا افراد کے ورثا بھی کراچی پہنچے ہیں، جنہیں کل ڈی این اے کے لیے سول اسپتال بلایا ہے۔حکام کے مطابق تحقیقات کی جارہی ہیں، غفلت اور لاپرواہی کے تمام پہلو سامنے لائے جائیں گے کہ آگ لگنے کے بعد بھی دروازے کیوں نہیں کھولے گئے۔


