سندھ بلڈنگ، صفورا گوٹھ میں غیر قانونی بلند عمارتوں کا بڑا سکینڈل
شیئر کریں
اسسٹنٹ ڈائرکیٹر عدیل قریشی کی ملی بھگت، ڈی جی کی پراسرار خاموشی
تعمیراتی مافیا کو کھلی چھوٹ ،وقار ٹوئن ٹاور کی تعمیر میں خطیر رقوم کی بندر بانٹ
شہر کے بڑے رہائشی منصوبے اسکیم 33 صفورا گوٹھ میں خلافِ ضابطہ بلند و بالا عمارتوں کی تعمیرات عروج پر پہنچ گئی ہیں قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے تعمیراتی مافیا نے درجنوں منزلہ ٹاورز کھڑے کر دیئے ہیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدیل قریشی کی مبینہ سرپرستی اور ڈی جی ایس بی سی اے شاہ میر خان بھٹو کی دانستہ چشم پوشی نے معاملے کو سنگین اسکینڈل میں بدل دیا ہے ۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پلاٹ نمبر A-56، A-57 اور B-12 پر تعمیر ہونے والے وقار ٹوئن ٹاور سمیت متعدد منصوبے بغیر قانونی اجازت اور نقشوں کی منظوری کے تیزی سے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کے پیچھے مدیحہ ایسوسی ایٹس بلڈرز اینڈ ڈیوولپرز کا نام سامنے آیا ہے جو بھاری کرپشن کے بل بوتے پر غیر قانونی سرگرمیوں کو آگے بڑھا رہی ہے ۔اہلِ علاقہ کے مطابق پانی، سیوریج، پارکنگ اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کے بغیر تعمیرات کی اجازت دینا نہ صرف شہریوں کے ساتھ ظلم ہے بلکہ مستقبل کے سنگین بحران کا پیش خیمہ بھی ہے ۔عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ سندھ، نیب اور اینٹی کرپشن حکام سے فوری نوٹس لینے اور ملوث افسران و بلڈرز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔


