میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سول ہسپتال ، انتظامی بے ضابطگیاں دھڑلے سے جاری

سول ہسپتال ، انتظامی بے ضابطگیاں دھڑلے سے جاری

ویب ڈیسک
پیر, ۱۸ اگست ۲۰۲۵

شیئر کریں

مخصوص افراد نے انتظامی معاملات یونٹ اور سیکٹر کی طرز پر چلانے شروع کردیے
مشہود انصاری نامی شخص ایم ایس سول ہسپتال کا مبینہ فرنٹ مین ہے ، ذمہ دار ذرائع

سندھ کا سب سے بڑا اسپتال انتظامی بے ضابطگیوں کی زد میں آگیا ہے جہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے مبینہ طور پر اسپتال کے اہم معاملات تین ایسے پرائیویٹ افراد کے حوالے کر دیے ہیں جن کا اسپتال سے کوئی سرکاری تعلق نہیں ہیاور وہ معاملات کو یونٹ اور سیکٹر آفس کی طرز پر چلا رہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق "مشہود انصاری” نامی شخص ایم ایس سول اسپتال کا مبینہ فرنٹ مین ہے اور اس وقت ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے معاملات دیکھ رہا ہے۔ حیران کن طور پر انتظامیہ میں شامل سینئر ڈاکٹرز بھی اس سے ناراضگی مول نہیں لے سکتے بصورت دیگر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے غضب اور عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اسپتال میں پیرا میڈیکل (نیم طبی ) عملے کو بھی ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر مختلف شعبوں میں تعینات کیا جا رہا ہے جس کی واضح مثال پیرا میڈیکل ٹریننگ انچارج کی اسامی پر سینئر ایکسرے ٹیکنیشن کی تعیناتی ہے جبکہ شعبہ ریڈیالوجی میں ٹیکنیشنز کی کمی سے مریضوں پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسپتال کے طبی و نیم طبی عملے کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف ادارے کی کارکردگی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ طبی خدمات کے معیار پر بھی سوالیہ نشان اٹھا رہا ہے۔دوسری جانب میڈیکل سپرنٹنڈنٹ آفس کے باہر ایک اور پرائیویٹ شخص "سمیع” تعینات ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ ایم ایس کس سے ملاقات کریں گے اور کس سے نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال کے ملازمین اور مریضوں کے لواحقین اس رویے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔اسی طرح "ارسلان” نامی شخص کو اسپتال کے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کا غیر قانونی انچارج بنایا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ایمبولینس سمیت دیگر گاڑیوں کی نقل و حمل اور استعمال کو کنٹرول کر رہا ہے جبکہ احتشام نامی آوٹ سائیڈر اسپتال کے جنریٹرز اور گاڑیوں کیلئے فیول کی نگرانی اور فراہمی کا ذمہ دار اور وہ پٹرول پمپ پر پٹرول و ڈیزل ڈلوانے کے عمل کی ویڈیو ریکارڈنگ کر کے ارسلان کو بھجواتا ہے جو اپنے باس کو رپورٹ دیتا ہے حالانکہ اس حوالے سے محکمہ صحت کی جانب سے کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا کہ آوٹ سائیڈر یا پرائیویٹ افراد سے سرکاری امور انجام دلائے جائیں۔اسپتال کے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تنظیموں نے تمام صورتحال جانتے ہوئے بھی مخصوص مفادات کے حصول کیلئے معاملے پر چپ سادھ رکھی ہے جو ان کیلئے بھی سوالیہ نشان ہے۔ سنجیدہ طبی و نیم طبی عملے کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اسپتال کی ساکھ اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات بری طرح متاثر ہوں گی۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر رتھ فاو سول اسپتال کراچی ڈاکٹر سید خالد بخاری سے اس حوالے سے مقف لینے کی متعدد کوششیں کی گئیں تاہم وہ دستیاب نہ ہو سکے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں