میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سعودآباد کے رہائشی پلاٹوں پرغیر قانونی عمارتیں تعمیر

سعودآباد کے رہائشی پلاٹوں پرغیر قانونی عمارتیں تعمیر

ویب ڈیسک
جمعرات, ۷ اگست ۲۰۲۵

شیئر کریں

تنگ گلیوں میں ناجائز تعمیر شدہ عمارتوں سے خطیر رقم کی وصولیاں
پلاٹ ایس ون نمبر 105 اور 420 پر کمرشل پورشن قائم کرلیے

سندھ بلڈنگ ذوالفقار بلیدی کے غیر قانونی دھندوں پر ڈی جی کی خاموشی معنی خیز سعود آباد میں غیر قانونی تعمیرات کا سیلاب ایس ون پلاٹ 105 اور 420 پر کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر تکمیل کے مراحل میں داخل شہریوں کا سکون غارت تنگ گلیوں میں بلند عمارتیں بنیادی سہولیات سے محروم۔ ضلع کورنگی کے علاقے ملیر سعود آباد میں غیر قانونی اور خلاف ضابطہ تعمیرات کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہیجس کی سرپرستی کا ذمہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی نے اٹھا رکھا ہیموصوف کے جاری غیر قانونی دھندوں پر ڈی جی شاہ میر خان بھٹو کی خاموشی معنی خیز ہے رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیرات سے علاقہ مکین شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں تنگ گلیوں میں بغیر کسی منظوری کے چار سے چھ منزلہ عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں جن میں نہ صرف تعمیراتی قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں بلکہ شہریوں کی جان و مال کو بھی خطرے میں ڈال دیا گیا ہیذرائع کے مطابق سعود آباد نمبر 1، 2، 3، اور 4 سمیت کئی ذیلی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات عروج پر ہیں رات کے وقت تعمیراتی سامان کی ترسیل اور دن کے وقت تیز رفتار کام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے محض تماشائی بنے ہوئے ہیںنمائندہ جرآت سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی رہائشی عبدالرف نے بتایاہمارے علاقے میں ہر طرف تعمیراتی شور ہے جگہ جگہ بلند عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں جن کے لیے کوئی باقاعدہ اجازت نامہ نہیں گلیاں تنگ ہو گئی ہیں پانی کا پریشر ختم ہوتا جا رہا ہے اور سیوریج کا نظام مکمل ناکام ہو چکا ہیرہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان غیر قانونی تعمیرات میں بعض بلڈرز مبینہ طور پر سیاسی پشت پناہی اور مٹھیاں گرم کرنے کے نظام کے ذریعے متعلقہ اداروں کی خاموشی خرید لیتے ہیںسعود آباد کے شہریوں نے وزیر بلدیات سے فوری نوٹس لینے اور علاقہ مکینوں کو مزید پریشانی سے بچانے کے لیے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بھرپور کارروائی کا مطالبہ کیا ہیجرآت سروے ٹیم کی جانب سے موقف لینے کے لئے ڈی جی ہاس رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں