
افغان بزرگ کا 140 سال عمر ہونے کا دعویٰ، طالبان حکام نے تحقیقات شروع کر دیں
شیئر کریں
وہ 1919 میں تیسرے افغان، برطانوی جنگ کے دوران تیس کی دہائی میں تھے،عاقل نذیر
طالبان حکام نے ایک شخص کے دعوے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ جنہوں نے کہا ہے کہ وہ 140 سال کا ہے، اور اگر یہ دعوی درست ثابت ہوا تو وہ دنیا کا سب سے عمر رسیدہ شخص بن جائے گا۔
اس شخص کا نام عاقل نذیر ہے اور وہ افغانستان کے مشرقی صوبے خوست کا رہائشی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عاقل نذیر کا کہنا تھا کہ وہ 1880 کی دہائی میں پیدا ہوئے تھے، تاہم ان کے پاس اس دعوے کی تصدیق کرنے والی کوئی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔
عاقل نذیر نے کہا کہ وہ 1919 میں تیسرے افغان-برطانوی جنگ کے دوران تیس کی دہائی میں تھے۔ ان کا دعوی ہے کہ انہوں نے جنگ کے اختتام پر افغان بادشاہ امان اللہ خان کے ساتھ جشن منایا تھا، جنہوں نے برطانویوں کے خلاف مہم شروع کی تھی۔
عاقل نذیر نے کہاکہ میں امان اللہ خان کے محل میں تھا۔ اس وقت میری عمر 30 سال سے زیادہ تھی اور مجھے یاد ہے کہ میں نے کہا تھا کہ برطانوی فوج بھاگ چکی ہے اور ہم نے ان کے سامنے جھک کر ان کا شکریہ ادا کیا۔