مراکش میں شدید زلزلہ،ایک ہزارافرادہلاک، ایمرجنسی نافذ
شیئر کریں
وسطی مراکش میں شدید زلزلہ آیا، جس میں کم از کمایک ہزارفراد ہلاک اورسینکڑوںدیگر زخمی ہوئے جبکہ بڑے پیمانے پر مادی نقصان پہنچایا اور عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.8 تھی۔ اس کا مرکز سیاحتی شہر مراکش کے جنوب مغرب میں دارالحکومت رباط سے 320 کلومیٹر جنوب میں واقع تھا۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مراکش کی وزارت داخلہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔زلزلے کو مملکت کی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ قرار دیا گیا ہے جس سے بڑے پیمانے پر مادی نقصان پہنچایا اور عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔امریکی جیو فزیکل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.8 تھی۔ اس کا مرکز سیاحتی شہر مراکش کے جنوب مغرب میں دارالحکومت رباط سے 320 کلومیٹر جنوب میں واقع تھا۔رباط میں قائم نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک اینڈ ٹیکنیکل ریسرچ نے کہا کہ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7 ڈگری تھی اور اس کا مرکز الحوز صوبے میں تھا۔مراکش کے ایک اہلکار نے اس سے قبل بتایا تھا کہ درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر مراکش کے جنوب میں پہنچنے والے مشکل علاقوں میں تھے۔زلزلے کے مرکز کے قریب ترین بڑے شہر کے رہائشیوں نے بتایا کہ پرانے شہر میں کچھ عمارتیں منہدم ہوگئیں۔ یہ علاقہ اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو)کی فہرست میں شامل ہے۔ مقامی ٹیلی ویژن نے زلزلے کے گرنے کی تصاویر دکھائیں۔ مسجد کا تباہ شدہ مینار اور ٹوٹی ہوئی کاروں پر بکھرا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے۔


