میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، اسکیم 33کنیز فاطمہ سوسائٹی میں رہائشی پلاٹ کا کمرشل استعمال

سندھ بلڈنگ، اسکیم 33کنیز فاطمہ سوسائٹی میں رہائشی پلاٹ کا کمرشل استعمال

جرات ڈیسک
پیر, ۳۱ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

بلاک 2پلاٹ 2/4پر دکانیں ، کمرشل یونٹس کی تعمیر پر مکینوں میں تشویش، کارروائی کا مطالبہ

اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدیل قریشی پر تعمیراتی ٹھیکیداروں کو مبینہ رعایت دینے کے الزامات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکیم 33 میں واقع کنیز فاطمہ سوسائٹی میں مبینہ طور پر رہائشی پلاٹوں پر دکانوں اور کمرشل یونٹس کی تعمیر کے معاملے نے علاقہ مکینوں میں تشویش پیدا کردی ہے ۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ رہائشی مقصد کے لیے مختص پلاٹ پر کمرشل سرگرمیوں اور تعمیرات سے علاقے کا رہائشی ماحول متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ٹریفک، پارکنگ اور دیگر شہری مسائل میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے ۔

ذرائع کے مطابق متعدد پلاٹوں پر دکانوں اور کمرشل یونٹس کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے ،جس پر سوسائٹی کے بعض رہائشیوں نے متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول کراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کی قانونی حیثیت، منظور شدہ نقشے اور پلاٹوں کے استعمال کی اجازت کی مکمل جانچ کی جائے ۔

مکینوں کا مؤقف ہے کہ اگر رہائشی پلاٹ کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں تو تعمیرات کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے ۔علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کے باعث سوسائٹی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے ۔

دوسری جانب ذرائع کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدیل قریشی پر تعمیراتی ٹھیکیداروں کو مبینہ طور پر رعایت دینے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کسی سرکاری اہلکار یا متعلقہ افسر کی جانب سے قواعد و ضوابط سے ہٹ کر کسی تعمیراتی سرگرمی کی اجازت یا سہولت فراہم کی گئی ہے تو اس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے ۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ رہائشی پلاٹوں کے استعمال اور کمرشل تعمیرات کے حوالے سے واضح پالیسی موجود ہونے کے باوجود اگر خلاف ضابطہ تعمیرات جاری رہیں تو اس سے نہ صرف قانون کی عملداری پر سوالات اٹھتے ہیں بلکہ دیگر رہائشی پلاٹ مالکان کو بھی غیرقانونی کمرشل تعمیرات کی ترغیب مل سکتی ہے ۔

علاقہ مکینوں نے متعلقہ بلدیاتی و ترقیاتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بلاک 2، پلاٹ نمبر 2/4 کا ریکارڈ، منظور شدہ بلڈنگ پلان، زمین کے استعمال کی حیثیت اور تعمیر کی اجازت سمیت تمام متعلقہ دستاویزات کی جانچ کی جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک مبینہ کمرشل تعمیرات پر بھی نظر رکھی جائے اور اگر خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔

مکینوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدیل قریشی پر عائد مبینہ الزامات کی بھی شفاف انکوائری کی جائے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے حوالے سے کسی افسر یا اہلکار نے اپنے اختیارات سے تجاوز تو نہیں کیا۔ رہائشیوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کا احتساب کون کرے گا؟


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں