میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کراچی، ڈیفنس میں تشدد کا شکار بہن بھائی کو دھمکیاں، صلح پر مجبور کرنے کا انکشاف

کراچی، ڈیفنس میں تشدد کا شکار بہن بھائی کو دھمکیاں، صلح پر مجبور کرنے کا انکشاف

جرات ڈیسک
پیر, ۳۱ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

پارکنگ کے تنازع سے شروع ہونے والے جھگڑے میں پولیس اہلکاروں کے کردار پر بھی سوالات، متاثرہ خاندان نے فلیٹ خالی کردیا

 

شہرقائد کے علاقے ڈیفنس فیز 6 خیابان بخاری میں تشدد کا شکار ہونے والے بہن بھائی اور ان کے اہلخانہ کو مبینہ طور پر دھمکیاں ملنے اور صلح پر مجبور کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

خوف کے باعث متاثرہ خاندان نے اپنا فلیٹ خالی کرکے سامان کسی محفوظ مقام پر منتقل کردیاہے۔ذرائع کے مطابق واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی سی سی ٹی وی فوٹیجز نے معاملے کے مختلف پہلوؤں کو مزید واضح کردیا ہے۔

ابتدائی طور پر سامنے آنے والی ویڈیو میں ایک خاتون کو ہاتھ میں ڈمبل لیے باوردی پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں متاثرہ خاتون پر تشدد کرتے دیکھا گیا تھا، جبکہ مزاحمت کرنے کے بجائے پولیس اہلکار متاثرہ خاندان کو ہی روکتے رہے۔

فوٹیج میں سادہ لباس میں موجود ایک شخص کو مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار سے سرکاری اسلحہ لے کر سی سی ٹی وی کیمرا توڑتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جس پر پولیس اہلکاروں کے کردار کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

دوسری جانب واقعے سے قبل کی سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں تنازع کی مبینہ وجہ بھی سامنے آگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جھگڑا پارکنگ کے معاملے پر شروع ہوا تھا۔ فوٹیج میں ایک پولیس اہلکار علی حسن سے گاڑی ہٹانے کا مطالبہ کرتا دکھائی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ خاتون مریم اپنی گاڑی اسی جگہ پارک کرنا چاہتی ہیں۔

علی حسن نے پولیس اہلکار کو بتایا کہ نیچے دیگر گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے جگہ موجود ہے اور ان کی گاڑی روزانہ اسی مقام پر کھڑی ہوتی ہے۔

انہوں نے خاتون کے سامنے جانے سے بھی گریز کیا اور پولیس اہلکار سے کہا کہ وہ ان کے سامنے نہیں جانا چاہتے کیونکہ وہ بہت غصے میں ہوتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق مریم نامی خاتون کے ساتھ موجود سیکیورٹی اہلکار ضلع کورنگی پولیس سے تعلق رکھتے تھے، جس پر یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کورنگی میں تعینات پولیس اہلکار درخشاں تھانے کی حدود میں واقع اپارٹمنٹ میں کس حیثیت سے موجود تھے اور انہیں خاتون کی سیکیورٹی پر کس کے حکم سے مامور کیا گیا تھا۔

متاثرہ خاتون نور العین کے مطابق وہ اپنی والدہ اور بھائی علی حسن کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بااثر خاتون نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی اور بعدازاں دونوں بہن بھائیوں کو گرفتار کراکے مقدمہ درج کرادیا، تاہم دونوں نے چند روز میں ضمانت حاصل کرلی تھی۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندان کو واقعے کے بعد مبینہ طور پر مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور مقدمہ ختم کرکے صلح کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

متاثرہ خاندان نے اس صورتحال کے باعث اپنا فلیٹ خالی کردیا ہے۔ذرائع نے کہا کہ متاثرہ خاندان نے اس سے قبل بھی 27 مارچ کو پولیس کو درخواست دی تھی، جبکہ آخری جھگڑا 21 اگست کی رات تقریباً سوا 12 بجے پیش آیا۔ پولیس نے اس موقع پر مبینہ طور پر تشدد کا شکار ہونے والے دونوں بہن بھائیوں کو ہی گرفتار کرلیا تھا۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی نے دونوں فریقین کو بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کرلیا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کررہے ہیں، جبکہ پولیس چیف آزاد خان نے تین روز میں انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے واقعے سے متعلق تمام دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیجز، سابقہ جھگڑوں کی تفصیلات اور دیگر شواہد بھی طلب کرلیے ہیں۔

ویڈیو میں نظر آنے والے پولیس اہلکاروں کو بھی بیانات کے لیے طلب کیا گیا ہے، جبکہ فوٹیج کی فرانزک جانچ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پولیس حکام اس بات کی بھی تحقیقات کررہے ہیں کہ تشدد کرنے والی خاتون کے خلاف فوری کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور واقعے کے وقت پولیس اہلکار وہاں کس مقصد کے لیے موجود تھے۔

حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کے تمام پہلوؤں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں